پیش لفظ


آئینہءتفاسیر

(بیس مروجہ تفاسیر سے خوبصورت انتخاب)

 

فہرست مضامین

  1. مرد مومن کے قرآنی اوصاف
  2. قرآن اور کائنات۔ اقبال کی نظر میں
  3. قرآن کی فریاد: ماہر القادری
  4. پیش لفظ: ترتیب کار، تفاسیر کا تعارف، اظہار تشکر۔
  5. قارئین کی خصوصی توجہ کے لیے
  6. قرآن حکیم: اہم نکات
  7. تفسیر قرآن: سورۃ فاتحہ تا سورۃ الناس

 

مرد مومن کے قرآنی اوصاف

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ ۖ ﴿2﴾ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ  ﴿3﴾ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ ﴿4﴾ (الانفال(8): آیات۔2 تا 4)

2. مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو  ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ 3. (اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔ 4. یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

 

قرآن اور کائنات۔ اقبال کی نظر میں

ْاز روۓ قرآن یہ کائنات کوئی بے مقصد کھیل نہیں ہے۔ اس کا ہر شعبہ کسی صداقت کا مظہر ہے لیکن اکثر لوگ اس سے نا آشنا رہتے ہیں۔ ارض و افلاک کی آفرینش اور شب و روز کا یکے بعد دیگرے آنا سمجھنے والوں کے لیے آیات الٰہی ہیں اور دین کی حقیقت کو سمجھنے والے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے والے وہی لوگ ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور پہلو پر لیٹے ہوئے خدا پر نظر جمائے ہوئے زمین و آسمان کی خلقت پر غور و فکر کرتے رہتے ہیں اور اس حقیقت کو دہراتے رہتے ہیں کہ اے مالک و خالق یہ ہستی (کائنات) ایک بامقصد چیز ہے اور اس میں کوئی چیز یوں ہی بیکار و عبث نہیں ہے ۔۔۔۔۔ بظاہر انسانی زندگی عجز اور مصیبت سے لبریز معلوم ہوتی ہے لیکن اگر اسے اپنی حقیقت کا عرفان حاصل ہو تو روح انسانی سے زیادہ کوئی چیز نہ زیادہ قوی ہے اور نہ زیادہ جمیل۔ (خطبات اقبال۔ خطبہ اول۔ ترجمہ و تلخیص: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم)

 

قرآن کی فریاد

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھودھو کے پلایا جاتا ہوں
جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جیسے کسی طوطے مینا کو ، کچھ بول سکھائے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں
دل سوز سے خالی رہتے ہیں ، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہنے کو میں اک اک جلسہ میں ، پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں

جب قول وقسم لینے کے لیے ، تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے ، ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں
نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے ، سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
اک بار ہنسایا جاتا ہوں ، سو بار رولا یا جاتا ہوں
یہ میری عقیدت کے دعوے ، قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں
کس بزم میں میرا ذکر نہیں ، کس عُرس میں میری دُھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں ، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں
(ماہر القادریؒ​)

 

پیش لفظ

ربِ کریم کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس بندۂ ناچیز کو اپنے کلام کی خدمت کا موقع عنایت فرمایا۔ پچھلے بیس سال سے کلامِ الٰہی سے اس ناچیز کا گہرا تعلق رہا ہے۔ اس عرصے میں کم و بیش بیس تفاسیر کی گلچینی کے بعد یہ آئینۂ تفاسیر پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔اپنی نوعیت کی یہ ایک منفرد کوشش ہے کہ اردو زبان میں اس وقت موجود مقبول تفاسیر کا ایک بہترین انتخاب پیش کیا جا رہا ہے۔ مرتب کو اپنی کم مائیگی کا اعتراف ہے، اس لیے اس آئینے میں مرتب کا کوئی تفسیری حاشیہ شامل نہیں، بلکہ ہر آیت پر نامور مفسرین کی آرا کو زیبِ تفسیر کیا گیا ہے۔کوشش کی گئی ہے کہ مفسر کے اپنے الفاظ میں تفسیر پیش کی جائے اور ہر دفعہ اس کا حوالہ بھی درج کیا جائے۔ قرآنی آیات اور مولانا فتح محمد جالندھری کا ترجمہ e Quran Library سے لیا گیا ہے، جس کے لیے ہم متعلقہ اصحاب کے شکر گزار ہیں۔

ترتیبِ کار:

ہر سورت کے آغاز پر مختصر تعارفی جملے درج کیے گئے ہیں، جن سے قاری کو متعلقہ سورت کے بارے میں اہم مضامین اور ضروری معلومات مل جائیں گی۔ یہ تعارف اگر کسی مفسر کے الفاظ میں ہو تو اس کا حوالہ دے دیا گیا ہے، اور جہاں چند تفسیری نکات کا خلاصہ ہو وہاں کسی کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ہر رکوع کے ترجمے کے بعد “تفسیرِ آیات” کے عنوان کے نیچے آیت کا نمبر دے کر اس کی منتخب تفسیر درج کر دی گئی ہے۔ چونکہ ہر آیت پر متعلقہ مفسر کا حوالہ موجود ہے، اس لیے قاری اطمینان سے مطالعہ کر سکتا ہے کہ اس میں کہیں بھی تفسیر بالرائے کا گمان نہیں ہو سکتا۔

تفاسیر کا تعارف:

ہمارے گلدستۂ تفاسیر میں مندرجہ ذیل تفاسیر شامل ہیں۔ 1۔ضیاء القرآن، 2۔معارف القرآن، 3۔ تیسیر القرآن، 4۔تفہیم القرآن، 5۔تدبرِ قرآن، 6۔ احسن الکلام، 7۔ فی ظلال القرآن، 8۔تفسیر عثمانی، 9۔ تفسیر ماجدی، 10۔ تعلیم القرآن، 11۔تفاسیرِ فراہی، 12۔ بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)، 13۔ انوار القرآن، 14۔ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی، 15۔ قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی، 16۔ کتابِ زندگی، 17۔کتابِ رحمت، 18۔آخری سورتوں کے دروس (حصہ اول و دوم) از خرم مراد، 19۔ اطلس القرآن اور 20۔ عکسِ قرآن۔

ان تفاسیر کا مختصر تعارف قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔

ضیاء القرآن اگرچہ بریلوی مکتبِ فکر کی نمائندہ تفسیر ہے، لیکن پیر کرم شاہ صاحب کہیں بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ اعلیٰ علمی معیار کی اس تفسیر میں جہاں بھی دیگر مفسرین کا ذکر آیا ہے، پیر صاحب ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ اعلیٰ ادبی ذوق کی اس تفسیر میں برباد شدہ قوموں سے اپنے احوال کے موازنے اور اختلافِ امت کے بارے میں فرماتے ہیں: "ہم اکثر بگڑی ہوئی قوموں کے حالات اور ان کے حسرت ناک انجام کے متعلق قران میں پڑھتے ہیں اور ایک لمحہ توقف کیے بغیر آگے نکل جاتے ہیں۔ ہم یہ زحمت بہت کم گوارا کرتے ہیں کہ اپنے اعمال کا موازنہ ان برباد شدہ قوموں کے اعمال سے کریں اور یہ سوچیں کہ کہیں ہم بھی انہی نافرمانیوں کا شکار تو نہیں اور اگر خدانخواستہ ہیں تو اپنے انجام کی ہولناکیوں سے غافل کیوں ہیں۔ کیا مکافات عمل کا قانون قدرت کا اٹل قانون نہیں…… اس باہمی اور داخلی انتشار کا سب سے المناک پہلو اہل سنت والجماعت کا آپس میں اختلاف ہے جس نے انہیں دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ دین کے اصولی مسائل میں دونوں متفق ہیں: اللہ تعالی کی توحید ذاتی اور صفاتی ،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور ختم نبوت ،قران کریم ، قیامت اور دیگر ضروریات دین میں کلی موافقت ہے لیکن بسا اوقات طرز تحریر میں بے احتیاطی اور انداز تقریر میں بے اعتدالی کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں"

معارف القرآن مفتی محمد شفیعؒ کی شاندار تفسیر ہے۔ اس میں ترجمہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تفسیر بیان القرآن سے لیا گیا ہے، مگر مفتی صاحب نے اسے مروجہ اردو کے لحاظ سے خاصا آسان بنا دیا ہے۔ بیان القرآن کی مختصر تفسیر بھی شامل کی گئی ہے۔ اس تفسیر میں دینی مسائل کو خاصی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ دیوبندی مکتبِ فکر کی نمائندہ تفسیر ہے، مگر مفتی صاحب کی علمی وجاہت کی وجہ سے اس پر مسلکی رجحان کی بجائے قرآنِ حکیم کی شان نمایاں نظر آتی ہے۔

تیسیر القرآن مولانا عبدالرحمٰن کیلانیؒ کے قرآنی ذوق کا عمدہ نمونہ ہے۔ " تفسیر بالحدیث" کی نہایت اچھی کوشش ہے۔ تمام سورتوں کی تفسیر میں صحیح احادیث کا ذکر بمع حوالہ جات اس تفسیر کی امتیازی شان ہے۔

تفہیم القرآن سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی بلند پایہ اور ممتاز تفسیر ہے۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک مرحوم کے مطابق اس کا اردو اسلوب نہایت حسین ہے، جس سے قاری کی روح سرشار ہوتی ہے۔ سید مودودیؒ کی تحریروں کا کمال یہ ہے کہ وہ نہایت سادہ، آسان اور عام فہم ہوتی ہیں۔ یہ تفسیر ایک عام اردو قاری اور بلند پایہ علما دونوں کو بیک وقت متاثر کرتی ہے۔ ہر مکتبِ فکر کے حوالہ جات کے باوجود کسی ایک مسلک کی طرف جھکاؤ نظر نہیں آتا۔ دیگر آسمانی کتب کا تقابلی مطالعہ بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔ فہمِ قرآن اور عصری مسائل کے قرآنی حل کے لیے یہ نہایت آسان مگر بلند پایہ علمی پیشکش ہے۔

تدبرِ قرآن "تفسیرِ قرآن بالقرآن " کا شاندار نمونہ ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ کا "نظمِ قرآن" کااہتمام اس تفسیر کی امتیازی شان ہے۔ نظم قرآن کے لیے پورے قرآن کو سات گروپوں میں تقسیم کرنا ، تدبر و تفکر کے لیے قابل قدر بنیاد ہے۔ دیگر آسمانی کتب کے مضامین کا قرآن سے تقابلی مطالعہ بھی اس میں عمدہ انداز سے شامل کیا گیا ہے۔ جاہلی ادب پر مولانا کا گہرا مطالعہ اس تفسیر میں نمایاں نظر آتا ہے۔ مولانا اصلاحیؒ کا یہ فرمانا کہ فہمِ قرآن کے لیے قرآن میں معتکف ہونا پڑتا ہے، انکے آیاتِ قرآنی کے فہم میں پوری طرح جھلکتا ہے۔

احسن الکلام مرتبہ ڈاکٹر محمد محسن خان ۔ایک جلد میں دارالسلام کی خوب صورت پیشکش ہے۔ یہ مختصر تفسیر صحیح بخاری، تفسیر ابن کثیر اور تفسیر قرطبی سے ماخوذ ہے۔ وقت کی کمی والے قارئین کے لیے قرآن فہمی کی ایک اچھی کوشش ہے۔

فی ظلال القرآن، سید قطب شہیدؒ کی وہ معرکۃ الآرا تصنیف ہے جسے مجاہد کی اذان کہا جا سکتا ہے۔ یہ تفسیر روح کی بالیدگی، ولولۂ تازہ اور جہدِ مسلسل کا ایمان افروز پیغام ہے۔ سید قطب شہیدؒ فرماتے ہیں کہ قرآن اپنے خزانے کی کنجیاں صرف ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جو احساس و جذبے کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور اسے سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہونے کا عزم رکھتے ہیں۔۔۔۔ اس کے اردو مترجم سید معروف شاہ شیرازی فرماتے ہیں: " فی ظلال القران تفسیری ادب میں اپنے سلوب تفسیر ، انداز بیان اور اپنی صورت فکر کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے اس کا اسلوب بھی نیا ہے۔ عربی زبان میں سید قطب صاحب طرز ادیب ہیں۔ انہوں نے جدید عربی کو بالکل ایک نیا اسلوب دیا ہے۔ میں اسے" ایمانی اسلوب بیان" سے تعبیر کرتا ہوں" ۔۔۔۔۔۔ ..سید قطب شہید اپنی تفسیر کے دیباچے میں رقم طراز ہیں: " قرآن کے سائے میں زندگی بسر کرنا نعمت عظمٰی ہے اور اس کی قدر وہی جانتا ہے جو اس سے لطف اندوز ہوا ہو ۔یہ نعمت زندگی کی شان بلند کر دیتی ہے، اسے بابرکت بنا دیتی ہے اور اسے پاک کر دیتی ہے۔ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا یہ کرم عظیم ہے کہ اس نے مجھے ایک عرصہ تک قرآن کے سائے میں جینے کا موقع عنایت فرمایا ۔اس عرصہ میں میری کیفیت یہ تھی کہ گویا میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوں ، انسان کے لیے عالم بالا کے جلیل القدر اعزاز سے اور بڑا کوئی اعزاز نہیں ہو سکتا ۔۔۔کیا ہیں وہ بلندیاں جہاں تک اللہ کا یہ کلام انسانی زندگی کو پہنچاتا ہے اور کیا ہے وہ مقام بلند جو بندہ ناچیز کا خالق اسے مرحمت فرماتا ہے ۔ ہاں تو قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے میں نہایت بلندی سے دیکھتا رہا کہ اس زمین پر جاہلیت کا سیلاب امڈ رہا ہے ۔میں اس جاہلیت کے پیروکاروں کے حقیر و صغیر تکلفات کو بھی دیکھتا رہا۔ اہل جاہلیت کے خامکارانہ معارف و تصورات اور طفلانہ اہتمامات کو میں ایک فرزانہ اور جہاں دیدہ شخص کی نظر سے دیکھتا رہا کہ وہ کھیلتے ہیں، گروندے بناتے ہیں اور بچوں کی سی باتیں کرتے ہیں ۔مجھے تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس گندے اور وبائی ماحول میں خطرناک حد تک گرے ہوئے ہیں اور اس جلیل القدر آسمانی آواز کو نہیں سن رہے جو انہیں مسلسل پکار رہی ہے اور جو ان کی زندگی کو بلند، بابرکت اور پاکیزہ بناتی ہے۔۔۔۔ ذرا دیکھیے تو سہی مومن کا نسب کس قدر بلند ہے۔ اس کا شجرہ نسب تاریخ انسانیت میں دور دور تک جا پہنچا ہے اور وہ ایک ایسے معزز خاندان کا فرد ہے جس کی قیادت اونچے درجے کے معزز حضرات کے ہاتھ میں ہے یعنی حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق ،حضرت یعقوب ،حضرت یوسف، حضرت موسٰی اور بالآخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم"۔

تفسیر عثمانی، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کی مختصر مگر جامع تفسیر ہے۔ اس میں ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب کا ہے۔ مختصر تفاسیر میں شاید اردو ادب میں اس سے بہتر کوئی تفسیر نہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب کے بڑے بھائی جناب محمد ولی رازی نے اس کی تشکیل جدید کی اور تقریباً چار ہزار عنوانات کے تحت اسے نئے سرے سے مرتب کیا۔ اب یہ دو جلدوں میں چھپ رہی ہے اور اسے دارالاشاعت کراچی نے شائع کیا ہے۔ جن حضرات کے پاس وقت کی کمی ہو، وہ اپنے روزانہ کے مطالعہ کے لیے اس کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

تفسیر ماجدی، مولانا عبدالماجد دریا آبادی کی ایک منفرد تصنیف ہے۔ اس کا مقدمہ سید ابو الحسن علی ندوی نے تحریر کیا ہے، جس میں فاضل موصوف نے محترم مفسر کی علمی وسعت اور خاص طور پر جدید مغربی علوم پر دسترس کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔ مولانا ماجدی نے قرآن حکیم کا جگہ جگہ دیگر آسمانی کتب سے عمدہ تقابل کیا ہےاور قرآن کو فرقان حمید ثابت کیا ہے۔ مستشرقین کے تعصب اور کوتاہ نظری کو جس قدر تفسیر ماجدی میں نمایاں کیا گیا، وہ مولانا عبدالماجد دریا آبادی کا ہی حصہ ہے۔ ان کے وسعت مطالعہ کی شہادت ان کے جلد اول کے شروع میں دیے گئے تین افتتاحیوں میں عمدہ انداز میں نظر آتی ہے۔

تعلیم القرآن، مولانا صابر قرنی مرحوم کی اپنے انداز کی نہایت موثر تفسیر ہے۔ تین جلدوں میں قرآن کے پیغام کو بہت مختصر اور سادہ انداز میں قاری تک پہنچانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ محترم قرنی صاحب نے چوتھی جلد میں اردو لغت کے انداز میں، حروف تہجی کی ترتیب سے ، تمام قرآنی الفاظ کی لغت پیش کی ہے، جس میں ایک لفظ قرآن میں جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس کی تفصیل دے دی گئی ہے۔ تینوں جلدوں کے آخر میں متعلقہ سورتوں کا بہت عمدہ خلاصہ دیا گیا ہے۔ جن حضرات کے پاس وقت کی کمی ہو، وہ اس سے استفادہ کر کے مسرت محسوس کریں گے ۔

تفاسیر فراہی، امام حمید الدین فراہی کی چند سورتوں کی عربی تفسیر کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ امام فراہی کے فاضل شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی نے نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ تفاسیر کے آغاز میں ہی مولانا اصلاحی نے مفسر مرحوم کے مختصر حالات زندگی درج کیے ہیں، جو معرکے کی چیز ہیں اور فراہی سکول کے بارے میں کئی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں معاون ہیں۔اس میں سے چند دلچسپ اقتباسات پیش خدمت ہیں: "مولانا حمید الدین، مولانا شبلی نعمانی کے ماموں زاد بھائی تھے اور عربی زبان کی تعلیم انہوں نے مولانا شبلی نعمانی سے حاصل کی۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں : علی گڑھ کالج میں داخلہ کے وقت مولانا فارسی اور عربی میں جو قابلیت پیدا کر چکے تھے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ خود سرسید مرحوم نے مولانا کے لیے ایک سفارشی خط لکھا اور اس خط میں پرنسپل کو خطاب کر کے یہاں تک لکھ دیا کہ میں آپ کے پاس ایک ایسا طالب علم بھیج رہا ہوں جو عربی اور فارسی میں اتنا قابل ہے کہ آپ کے کالج کے طلباء میں کجا پروفیسروں میں بھی کوئی اس کے ٹکر کا نہیں ہے۔ اس زمانہ میں کالج کے پروفیسروں میں مولانا شبلی صاحب جیسے عربی و فارسی کے یگانہ روزگار ماہرین شامل تھے ۔ انگریز پرنسپل کو سید صاحب مرحوم کی یہ بات شاک گزری۔ وہ خط لیے ہوئے مولانا شبلی کے پاس پہنچا اور ان کو خط دکھا کر کہا کہ یہ سید صاحب نے ایک طالب علم کے متعلق کیا بات لکھدی ہے۔ کیا یہاں کے عربی اور فارسی کے پروفیسر ایک طالب علم کے برابر بھی عربی اور فارسی کی استعداد نہیں رکھتے؟ کیا یہ آپ جیسے اہل علم کی صریح توہین نہیں ہے؟ پرنسپل صاحب اس طرح مولانا شبلی صاحب کو برانگیختہ کرنا چاہتے تھے لیکن مولانا شبلی اس پر برا فروختہ ہونے اور جھنجلانے کے بجائے نہایت پر لطف انداز میں بولے کہ بلا شبہ آپ لوگوں کے لیے تو یہ بات توہین کا حکم رکھتی ہے لیکن میرے لیے یہ بات وجہ فخر ہے کیونکہ سید صاحب کے یہ ممدوح فارسی اور عربی دونوں زبانوں میں میرے شاگرد ہیں ۔۔۔۔۔علی گڑھ میں مولانا نے انگریزی اور دیگر علوم کے ساتھ خاص توجہ کے ساتھ فلسفہ جدیدہ کی تعلیم حاصل کی۔ اس زمانے میں علی گڑھ میں فلسفہ کے پروفیسر مشہور انگریز مستشرق ڈاکٹر آرنلڈ تھے"۔۔۔"مولانا فراہی حدیث کے بارے میں اس نقطہ نظر سے کوئی مختلف رائے نہیں رکھتے ہیں جو محققین امت کا ہے۔ ۔۔عمل میں بھی وہ سخت متبع سنت تھے۔ ایک مرتبہ وہ خود مجھ پر معترض ہوئے کہ میرے پائنچے ٹخنوں سے نیچے تھے۔ میں اس طرح کے اعتراضات کو مولویانہ خردہ گیری سمجھتا تھا۔ کافی بحث کے بعد میں خوشی سے راضی ہو گیا کہ آپ اپنے ہاتھ سے میرے پائنچے اتنے کاٹ دیں جتنے حدود شرع سے زائد ہیں۔ مولانا فراہی نے فوراً قینچی منگوائی اور حقیقت میں اپنے ہاتھ سے پائنچے اتنے کاٹ دیے جتنے ٹخنوں سے نیچے تھے۔۔۔ ۔ وہ سنت کو قرآن کے بعد اسی طرح دین کا دوسرا ماخذ سمجھتے ہیں، جس طرح سارے صحیح العقیدہ مسلمان سمجھتے ہیں۔۔۔ اخبار احاد کے بارے میں وہ مالکیہ اور حنفیہ مسلک کو ترجیح دیتے تھے"۔ مولانا اصلاحی کے مطابق، داڑھی رکھنے کے معاملے میں بھی مولانا فراہی سنت کے پابند تھے اور اسے مومن کے میلان طبع کا پیمانہ سمجھتے تھے"۔مولانا امین احسن اصلاحی، نظم قرآن کے سلسلے میں اپنے استاد مولانا فراہی کی پیروی کرتے ہیں اور دونوں "تفسیرِ قرآن بالقرآن" کو ترجیح دیتے ہیں۔

بیان القرآن، ڈاکٹر ا سرار احمدکی تفسیر ہے جو شروع میں کیسٹوں پر دستیاب تھی ، بعد میں چھپ بھی گئی۔ بیان القرآن کے نام کی تفسیر مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی تحریر کی تھی۔ مفتی شفیع صاحب نے معارف القرآن میں اس کا ترجمہ اور مختصر تفسیر شامل کی ہے۔ ڈاکٹر اسرارصاحب کی بیان القرآن نہائت جامع تفسیر ہے، جس میں جدید و قدیم مفسرین سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے قرآن کی ترویج کے لیے بہت قابل قدر کام کیا۔ ان کی انجمن خدام القرآن، قرآنی تعلیمات کا بہترین ادارہ ہے، جس میں قرآن سے متعلق کئی کورسز کروائے جاتے ہیں اور قرآن پر ریسرچ بھی ہوتی ہے۔

انوار القرآن، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک کی نہایت موثر تفسیر ہے جو قرآن کے منتخب حصوں پر محبت بھرا عالمانہ تبصرہ ہے۔ انوار القرآن کے ابتدائیہ میں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ" میرا منہ کہاں کہ کلام ربانی کی شرح کا حق ادا کر سکے! میں نے جو کچھ بھی لکھا، وہ میرے ناپختہ جذبات ہیں۔ کچھ آہیں ہیں اور کچھ آنسو جو صفحات قرطاس پر بکھر گئے ہیں۔ ع۔ میرے ٹوٹےہویے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں"۔ ۔۔۔ابتدائیہ کے بعد قرآن مجید کو "فہم و تدبر سے پڑھنے کی اہمیت" پر ایک طویل تحریر ہے، جو فہم قرآن اور تدبر قرآن پر ایک خوبصورت تبصرہ ہے۔اپنے اس تبصرہ میں ڈاکٹر صاحب نے جا بجا علامہ اقبال کے اشعار تحریر کئے ہیں۔

ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی: تدبر قران میں مولانا اصلاحی کے ترجمہ کو ان کے ایک شاگرد رشید خالد مسعود نے ایک عمدہ طریقے سے مرتب کیا ہے۔ ترجمہ کے ساتھ خالدمسعود صاحب نے بہت مختصر حواشی بھی لکھے ہیں جو مولانا اصلاحی کی تفسیر کی بنیاد پر لکھے گئے ہیں مگر ایک قاری کے لیے یہ بہت بڑی سہولت ہے۔ پیش لفظ میں لکھتے ہیں: " حواشی کی بابت یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ راقم مولانا اصلاحی سے تلمذ کی نسبت رکھتا ہے اور سورہ نور تک کے حواشی مولانا کی حیات ہی میں قسط وار ان کے رسالہ تدبر میں شائع ہوتے رہے اور انہوں نے بارہا ان کی تحسین فرمائی ۔۔۔۔راقم کے حصہ میں یہ سعادت آئی ہے کہ وہ مولانا کا ترجمہ قرآن ضروری تشریحات کے ساتھ ایک جلد کی صورت میں مرتب کر دے"

قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی، خلیل الرحمان چشتی کی منفرد کوشش ہے۔ سورتوں کے مضامین کو واضح کرنے کے لیے خاکوں اور نقشوں سے مدد لی گئی۔ صرف ایک جلد میں قرآن حکیم کی 114 سورتوں کا احاطہ ، گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی عمدہ کوشش ہے۔ ابتدائیہ میں چشتی صاحب لکھتے ہیں : " اس کتاب میں ہر سورت کے حوالے سے پہلے زمانہ نزول کی بحث ہے پھر سورہ کی بعض خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سورت کی فضیلت میں صحیح احادیث مل سکی ہیں انہیں درج کر دیا گیا ہے۔ ہر سورت کا اگلی اور پچھلی سورت سے ربط تلاش کیا گیا ہے۔ سورت کے اہم اور کلیدی مضامین کا خلاصہ درج کیا گیا ہے ۔پھر اس کے بعد سورت کا نظم بتایا گیا ہے کہ یہ کتنے پیراگرافوں پر مشتمل ہے اور ہر پیراگراف کا ذیلی موضوع کیا ہے۔ آخر میں تمام پیراگرافوں کو جوڑتے ہوئے سورۃ کا مرکزی مضمون بیان کیا گیا ہے"۔۔۔۔ مختصر وقت میں قرآن حکیم کے مضامین کو جامع انداز میں سمجھنے کے لیے یہ تصنیف بہت مفید ہے۔

کتابِ زندگی اور کتابِ رحمت، انجینئر  سلطان بشیر  محمود  کی خوبصورت تفسیری کتب ہیں۔ کتابِ زندگی، سورۃ فاتحہ، سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران کی عمدہ تفسیر ہے۔ کتابِ رحمت میں سورۃ فاتحہ، سورۃ الرحمٰن، سورۃ ولعصر، سورۃ الکافرون، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس اور آیت الکرسی کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر سورتوں کی سائنسی تفسیر بھی بیان کی گئی ہے۔ اس میں کچھ دعائیں بھی شامل ہیں۔سلطان صاحب کی تفاسیر میں مختلف آیات کا باہمی ربط خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ کتابِ زندگی کی تمہید میں ایک عمدہ بحث کے بعد فرماتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ انشاءاللہ دنیا دیکھے گی کہ جو سائنس کی انتہا ہے، وہ قرآن کریم کی ابتدا ہے۔ اپنی تفسیری تحریروں میں وہ اس یقین کو سائنسی انداز میں ثابت کرتے ہیں۔ افسوس ہے کہ محترم سلطان صاحب کی ضعیف العمری کی وجہ سے بقیہ سورتوں کی تفسیر نہ لکھی جا سکی۔۔۔۔تفسیری کتب کے علاوہ حیات بعد الموت، ماورےٰ، قرآن پاک ایک ابدی معجزہ، الفوز العظیم، النباء العظیم، اقیمو الصلاۃ و اٰتوالزکاۃ اور کئی دوسرے موضوعات پر اردو اور انگریزی میں کئی خوبصورت کتب انجینیئر صاحب کی خوبصورت تحریریں ہیں جن سے ہر صاحب ذوق کو استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

۔ اوپر دی گئی 20 کتب کی فہرست میں آخری تین کتب—آخری سورتوں کے درس، اطلس القرآن، اور عکس قرآن—روایتی معنوں میں قرآن کی تفاسیر نہیں، لیکن قرآن فہمی کے لیے بہت مفید ہیں۔

آخری سورتوں کے درس، خرم مراد مرحوم کے درس دینے کے طویل تجربے کا عمدہ نمونہ ہیں۔ حصہ اول میں سورہ الشمس سے سورہ ا لتکاثر، اور حصہ دوم میں سورہ العصر سے سورہ الناس تک کے دروس بہت عمدگی سے احاطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ خرم صاحب کا انداز نہایت سادہ اور ایک تجربہ کار مبلغ کا آئینہ ہے۔ قرآن کا درس دینے والوں کے لیے یہ ایک عمدہ نمونہ ہے ۔ اس کا دلنشین انداز قرآن سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک خوبصورت تحفہ ہے۔

اطلس القرآن، دارالسلام کی خوبصورت پیشکش ہے، جسے ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے مرتب کیا۔ شیخ الحدیث حافظ محمد امین نے ترجمہ کیا اور محسن فارانی نے عمدہ اضافے کیے۔ جدید نقشوں اور جداول سے مزین یہ اطلس، قرآن حکیم کا خوبصورت نقشہ پیش کرتی ہے جو قاری کے لئے بہت فرحت افزا ہے۔ قرآن کے مختلف مقامات ،اقوام اور شخصیات کی نہایت عمدہ تصویر کشی کی گئی ہے جو ایک قاری کے لیے نہایت دلفریب منظر پیش کرتی ہے۔.

عکس قرآن، اس آئینہ تفاسیرکے مرتب (محمد الیاس ڈار) کی قرآن فہمی کے لیے یہ ایک اہم کتاب ہے جسے دعوت فاؤنڈیشن کے مختلف کورسز کے لیے ایک نصابی کتاب کے طور پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہ کتاب چند سکولوں اور مدارس کے نصاب میں بھی شامل کی گئی ہے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی مشہور تصنیف" الفوز الکبیر فی اصول التفسیر" میں قرآن کے مضامین کو پانچ عنوانات میں تقسیم کیا۔ عکس قرآن میں ان پانچ کے علاوہ تین اور مضامین شامل کر کے اسے ایک عمدہ نصابی کتاب بنا دیا گیاہے۔ آٹھ مضامین یہ ہیں: ْ۔آیات الہٰی ، ۔ایام الٰہی ، ۔مخاصمہ، ۔موت اور ما بعد الموت ، ۔آیات البرو آیات الاحکام ، ۔ منصب رسالت اور ہماری ذمہ اریاں،۔جہاد فی سبیل اللہ، اور۔ انفاق فی سبیل اللہ ۔۔۔۔۔۔ قرآن حکیم کا یہ منتخب نصاب کئی سالوں کی کوشش کے بعد مرتب کیا گیا۔ عکس قرآن عام آدمی کے لیے قرآن فہمی کا آسان طریقہ ہے اور درس قرآْن دینے والوں کے لیے اچھا انتخاب ۔

اظہار تشکر:

 اس مقدس کام کی تکمیل میں جہاں مرتب کے بیس سال صرف ہوئے وہاں میرے معاونین نے دینی جذبے سے سرشار اس نیک کام میں پورے اخلاص سے تعاون کا حق ادا کیا۔ رب ذوالجلال ہی اس کا اجرعطا کر سکتے ہیں۔ یہ بندہء عاجز صدق دل سے ان کے لیے دعا گو ہے۔ کام کے آغاز پر جناب حافظ عتیق الر حمان گورچانی نے تین تفاسیر کی کمپیوٹر اینٹری کی اور ایک سسٹم سیٹ کرنے میں خاصی محنت کی۔ کام کے پھیلاؤ کے بعد میرے بیٹے سعود ڈار نے ذمہ اٹھایا اور پہلے پانچ پاروں کو مکمل کیا۔ اس کے بعد میرے دوسرے بیٹے عمر ڈارنے کام سنبھالا اور آخری پارے تک اسے پایئہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس دوران ان تینوں نوجوانوں نے میری حد سے بڑھی ہوئی احتیاط کا بھرپور ساتھ دیا۔بار بار کئی زاویوں سے غلطیوں کی اصلاح کی گئی اور اس سلسلہ میں پوری ٹیم نے قرآن کی خدمت کا حق ادا کیا جس کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ بنیادی کام مکمل ہونے کے بعد ایک دریا سے اترنے کے بعد ایک اور دریا کا سامنا تھا۔ اس تفسیری انتخاب کو ویب سائٹ پر چڑھانا۔ اس سلسلہ میں ہمارے فیملی فرینڈ جناب عابد شہزاد نے ویب پلاننگ سے لے کرانٹریز تک تمام کام اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنی دفتری اورخانگی مصروفیات کے باوجود بلا معاوضہ اسے خوش اسلوبی سے مکمل کیا۔ جس قدر انکا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔آخر میں فی ظلال القرآن فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور پبلشر جناب سید عارف شیرازی خصوصی شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس تفسیری انتخاب کا نام "آئینہ تفاسیر" تجویز کیا۔

قرآنی آیات اور انکی تفسیر نہایت ذمہ داری کا کام ہے جسے ہماری پوری ٹیم نے دینی فریضہ سمجھ کر ادا کیا۔ ۔ ع؛ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔ اس کے باوجود اگر کہیں کوئی غلطی نظر آئے تو آگاہ فرمائیں تاکہ تصحیح کر دی جائے۔

رب ذوالجلال ہم سب کا حامی و ناصر ہو

بندہء ناچیز: محمد الیاس ڈار

25 رمضان المبارک ،1447ھ

بمطابق 15 مارچ ، 2026 ء

قارئین کی خصوصی توجہ کے لیے

بیس تفاسیر کا یہ انتخاب ایک سائینٹفک انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔ قارئین کی سہولت کے لیے ہر سورہ کو چارحصوں میں ترتیب دیا گیا ہے۔ 1۔ ہر سورت کے آغاز میں پوری سورت کا مختصر تعارف، 2۔ہر رکوع کی قرآنی ٹیکسٹ، 3۔ ہر رکوع کا اردو ترجمہ، 4۔ ہررکوع کی تفسیر آیات۔ ہر سورت کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے اس کے آغاز میں دیا گیا مختصر تعارف اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔ بعد ازاں جب تک یہ سورت زیر مطالعہ رہے وقتاً فوقتاً اس پر نظر ڈالتے رہیں۔ قرآنی ٹیکسٹ اور اردو ترجمہ آپ یہاں سے بھی پڑھ سکتے ہیں اور اپنی پسند کے کسی قرآن سے بھی۔ اس کے بعد جیسے ہی آپ چوتھا حصہ یعنی تفسیر آیات کھولیں گے تو علم کا ایک سمندر آپکے سامنے کھل جائے گا۔ باقی کام آپکی دلچسپی اور قرآن سے محبت پورا کر دے گی۔ دعاؤں میں یاد رکھیں۔