15 - سورة الحجر (مکیہ)
| رکوع - 6 | آیات - 99 |
مضمون: قرآن ایک واضح حجت ہے جو کسی خارجی نشانی یا معجزے کا محتاج نہیں ہے۔فرشتوں کے ظہور کا مطالبہ کرنے والی قوم خطرناک انجام سے دوچار ہوتی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحی ؒ)
الٓرٰ ۔سورۃکا نام الٓرٰ ہے جیسےسورۃ ابراھیم ، الرعد ( الٓمرٰ ) یوسف ، ھود ، یونس کا بھی ایسا ہی نام ہے۔
شان نزول : شان نزول سورۃ یونس کے مطابق۔۔۔۔ بعض حضرات کو آیت :94 سے یہ شبہ ہوا کہ ابتدائی دور میں نازل ہوئی کیونکہ آیت : 94 میں کھلے عام تبلیغ کا حکم ہے ۔ مگر باقی عام سورت کا مضمون نبوت کے آخری دور سےمتعلق ہے ۔
نظم سورۃ : اس کے لیے سورۃ یونس ملاحظہ کریں جہاں اس گروپ کی 14 مکی سورتوں اور ایک مدنی سورت کا ذکر ہے
مرکزی مضمون : قانون جزا و سزا اور آخرت کا اثبات - مشرکین کو ہلاکت کی دھمکی - کافروں کے دباؤ اور دنیا پرستی سے بچ کر دعوت و تبلیغ کا کام جاری رکھنے کی ہدایت ۔
ترتیب مطالعہ : پوری سورت بیک وقت ۔
سورۃ الحجر کا کتابی ربط:۔پچھلی سورت (ابراہیم)میں(ایام اللہ)کا اجمالی ذکر تھا۔یہاں سورۃ (الحجر)میں ابلیس لعین کی پیروکار (مجرم)قریشی قیادت کے استہزاء پر قوم لوطؑ،اصحاب الایکہ اور اصحاب الحجر(ثمود)کی ہلاکت کی تفصیل سے فہمائش کی گئی ہے۔)قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی(
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ ﴿1﴾ پارہ:14 رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ﴿2﴾ ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ﴿3﴾ وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ ﴿4﴾ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ﴿5﴾ وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ ﴿6﴾ لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿7﴾ مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ ﴿8﴾ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ﴿9﴾ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ ﴿10﴾ وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ﴿11﴾ كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ ﴿12﴾ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿13﴾ وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ ﴿14﴾ لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿15ع الحجر 15﴾ |
| 1. آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں۔ 2. کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے۔ 3. (اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھا لیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔ 4. اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی۔ مگر اس کا وقت مرقوم ومعین تھا۔ 5. کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ 6. اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے۔ 7. اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا۔ 8. (کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی۔ 9. بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔ 10. اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ 11. اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے۔ 12. اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں۔ 13. سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے۔ 14. اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں۔ 15. تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔ |
تفسیر آیات
2۔ لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ۔ آیت میں صرف مسلمین ہے، متقین خاشعین وغیرہ نہیں، مؤمنین بھی نہیں، حضرت علی،حضرت ابن عباس،حضرت انس،حضرت موسیٰ اشعری اور حضرت ابوسعید خدری رضوان اللہ عنہم وغیرہ متعدد صحابیوں سے متعدد تابعین کے واسطہ سے روایتیں اس مضمون کی ملتی ہیں کہ جہنم میں کافروں کے ساتھ گناہگارمسلمان بھی ملے جلے ہوئے ہوں گے،اس پر کافر ان سے طنزسے کہیں گے کہ تمہارا کلمۂ شہادت تمہارے کچھ بھی کام نہ آیا،معاًاس سے غیرت الٰہی حرکت میں آئے گی اور کُل اہل قبلہ آگ سے آزاد کرکے جنت میں پہنچادئیے جائیں گے،اس وقت کافروں کی زبان پر یہ پُرحسرت کلمات آئیں گے۔(ابن جریر،ابن کثیر،معال،کبیر وغیرہ)(تفسیر ماجدی)
3۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (یعنی اپنے گناہوں، غفلتوں پر نادم ہو کر نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل اور دنیا کی حرص (قرطبی عن مسند البزار عن انس) (معارف القرآن)
9- اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ فرمایا بلا شبہ ہم ہی نے اتا را ہے اسے۔ تین مرتبہ ضمیر متکلم کا بیک وقت تکرار (انا۔ نحن۔ نزلنا) جس تاکید بالائے تاکید پر دلالت کر رہا ہے وہ اہل علم سے مخفی نہیں، اور ضمیریں بھی جمع متکلم کی استعمال ہوئیں جو ناز ل کرنے والے کی عظمت و کبریائی کا اظہار کر رہی ہیں– محافظ ہونے کا یہ اہتمام ہے کہ حفاظ کی کثرت ہے اور بچے بھی غلطی پر بڑوں کو ٹوک دیتے ہیں –ولیم میورسے زیادہ دشمن اسلام کون ہوگا۔ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف اس کی زہر افشانیاں رسوائے عالم ہیں۔اُسے بھی یہ لکھنا پڑا(There is probably in the world no other book which has remained twelve centuries with so pure a text. ) (ضیاء القرآن)
ــ ہدایت مکمل ( آخری نبی اور الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ) ، ہدایت کی حفاظت ( یہی آیت + احادیث کامجموعہ )۔۔۔۔۔ پھر نئے نبی کی کیا ضرورت ۔) بیان القرآن (
- تین سو پندرہ رسول ، الہامی کتب کے ساتھ بھیجے گئے ،۔۔۔۔۔ کوئی کتاب یاتو موجود نہیں اور توریت و انجیل موجود مگر تحریف شدہ ۔۔۔۔۔ دور رسالت میں نہ تو زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہ جدید سہولیات مگر قرآن محفوظ- جدید سہولیات کے باوجود کونسی الہامی کتاب صحیح حالت میں موجود ہے؟(انوار القرآن ۔ص300تا 302)۔۔۔۔۔حدیث ،بھی ذکر ۔۔۔۔۔فن حدیث پر محنت - دس لاکھ محدثین - کوئی ضعیف حدیث ، صحیح احادیث میں شامل نہیں ہوسکتی ۔ اسماء الرجال کا علم - حضور کی سیرت اور سنت بھی قرآن کی طرح محفوظ۔(انوار القرآن)
۔حفاظت قرآن کے وعدے میں ،حفاظت حدیث بھی داخل ہے۔۔۔۔مطلقاً احادیث رسولؐ کو غیر محفوظ کہنے والا در حقیقت قرآن کو غیر محفوظ کہتا ہے۔(معارف القرآن)
۔۔۔۔۔۔ سیدنا زید بن ثابت ؓ انصاری(کاتب وحی)کہتے ہیں کہ جب (11ھ میں)یمامہ کی لڑائی میں(جو مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی)بہت سے صحابہ شہید ہوگئے تو سیدنا ابوبکرصدیقؓ نے مجھے بلا بھیجا ۔اس وقت سیدنا عمرؓ بھی ان کے پاس موجود تھے۔میں گیا تو سیدنا صدیق اکبرؓ نے کہا : میرے پاس عمرؓ آئے اور کہا کہ یمامہ کی لڑائی میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے ہیں اور میں ڈرتاہوں کہ اگر اسی طرح اور لڑائیوں میں بھی مسلمان مارے جائیں تو بہت سا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا۔ اگر قرآن کو ایک جگہ جمع کرلیا جائے تو یہ ڈر نہ رہے گا ۔لہذا آپ قرآن کو جمع کرادیں"اورمیں(ابوبکرؓ )نے عمرؓ کو یہ جواب دیا کہ میں وہ کام کیسے کروں جسے رسول اللہؐ نے نہیں کیا"عمر کہنے لگے۔"اللہ کی قسم! یہ اچھا کام ہے اور باربار یہی کہتے رہے تاآنکہ اللہ نے میرا سینہ کھول دیا اور میں عمرؓکی رائے سے متفق ہوگیا"سیدنا زید ؓ کہتے ہیں کہ "عمر ؓ خاموشی سے یہ بات سنتے رہے"پھر سیدنا ابوبکرؓ مجھے کہنے لگے "تم جوان اور عاقل ہو اور ہم تمہیں سچا جانتے ہیں اور دورِ نبویؐ میں کاتبِ وحی رہے ہوتو اب ایسا کروکہ قرآن(کی جابجا لکھی ہوئی تحریروں )کو تلاش کرو اور سب کو اکٹھا کردو"زیدؓ کہتے ہیں کہ اگر ابوبکرؓ مجھے پہاڑ ڈھونےکو کہتے تو مجھے اتنا مشکل معلوم نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنا معلوم ہواہے۔آخر میں نے کہا "تم دونوں ایسا کام کرتے ہوجو رسول اللہؐ نے نہیں کیا"ابوبکرؓ کہنے لگے"اللہ کی قسم!یہ اچھا کام ہے "میں نے ان سے بڑا تکرار کیا تاآنکہ اللہ نے میرا سینہ بھی کھول دیا۔اور میں نے یہ کام شروع کردیا ۔قرآن کہیں پرچوں پر، کہیں مونڈھے کی ہڈیوں پر ،کہیں کھجور کی لکڑیوں پر لکھا ہواتھا پھر اکثر لوگوں کو یاد بھی تھا۔(یہاں تک کہ میں نے سورہ توبہ کی آخری دوآیتیں یعنی"لقد جاءکم رسول من انفسکم" تاآخر ،خزیمہ بن ثابت انصاری کے سوا کسی کے ہاں نہ پائیں۔پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا تھا۔ابوبکرؓ کی زندگی تک ان کے پاس رہا ۔پھر سیدنا عمرؓ کی زندگی تک ان کے پاس رہا۔ان کی وفات کے بعد ام المومنین سیدہ حفصہؓ کو ملا (بخاری،کتاب التفسیر،سورہ۔باب جمع القرآن)۔۔۔2۔سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان سیدنا عثمان ؓ کے پاس آئے جن دنوں وہ شام و عراق کے مسلمانوں کے ساتھآرمینیا اور آذربائجان فتح کرنے کی خاطر جہاد کررہے تھے ۔وہ قرآن کی قرأت میں مسلمانوں کے اختلاف سے گھبرائے ہوئے تھے ۔سیدنا عثمانؓ سے کہنے لگے: امیر المومنین ! اس سے پہلے کہ مسلمان یہود اور نصاریٰ کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں ،اس امت کی خبر لیجئے ۔چناچہ سیدنا عثمانؓ نے سیدہ حفصہؓ کو لکھ بھیجا کہ" ہمیں اپنا مصحف بھیج دیں۔ہم اس کی نقول تیار کرکے آپ کا مصحف آپ کو واپس کردیں گے"چنانچہ سیدہ حفصہؓ نے بھیج دیا۔سیدنا عثمانؓ نے سیدنا زید بن ثابتؓ ،عبداللہ بن زبیرؓ،سعد بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ھشام کو حکم دیا۔ انہوں نے اس کی نقلیں تیار کیں۔آپؓ نے یہ ہدایت کردی تھی کہ اگر زیدبن ثابتؓ (انصاری)قرأت کے بارے میں باقی تینوں (قریشی) لوگوں سے اختلاف کریں تو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھنا کیونکہ قرآن انہی کے محاورہ پر اترا ہے۔جب نقلیں تیار ہوگئیں تو آپؓ نے سیدہ حفصہؓ کا مصحف انہیں واپس کردیا اور اس کی ایک نقل ہر مرکزی مقام میں بھجوادی ۔نیز حکم دیا کہ لوگوں کے پاس جو الگ الگ پرچیوں اور اوراق میں لکھا ہواقرآن موجودہے اسے جلادیا جائے۔(بخاری،کتاب التفسیر،باب جمع القرآن)(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ ﴿16﴾ وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ ﴿17﴾ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ ﴿18﴾ وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ ﴿19﴾ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ ﴿20﴾ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ﴿21﴾ وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ ﴿22﴾ وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ ﴿23﴾ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ ﴿24﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿25ع الحجر 15﴾ |
| 16. اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا۔ 17. اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا۔ 18. ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے۔ 19. اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی۔ 20. اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے۔ 21. اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں۔ 22. اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خرانہ نہیں رکھتے۔ 23. اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم سب کے وارث (مالک) ہیں۔ 24. اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔ 25. اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے۔ |
تفسیر آیات
16۔ آسمانوں کے برج:۔ اس آیت میں اگر کوئی شخص بروج کے لفظ سے وہ ہی بارہ برج مراد لیتاہے جو قدیم اہل ہئیت نے فلک ہشتم پر بنارکھے ہیں تو اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان(کیکڑا)عقرب(بچھو)ترازو اور ڈول وغیرہ کیا خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مرادلیے ہیں جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم نمایاں طورپر ظاہر ہونے والی ہرچیز کو برج کہہ سکتے ہیں خواہ وہ کوئی عمارت ہویا گنبد ہویا قلعہ ہو۔مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان کو ایسا مزین بنادینا بذات خود اس کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے ۔ پھر اس کے بعد انہیں اس کی اور کیا نشانی درکار ہے؟۔(تیسیر القرآن)
۔ بُرج عربی زبان میں قلعے، قصر اور مستحکم عمارت کو کہتے ہیں۔ قدیم علم ہیئت میں ”برج“ کا لفظ اصطلاحاً ان بارہ منزلوں کے لیے استعمال ہوتا تھا جن پر سورج کے مدار کو تقسیم کیا گیا تھا۔ اس وجہ سے بعض مفسرین نے یہ سمجھا کہ قرآن کا اشارہ انہی بروج کی طرف ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد سیارے لیے ہیں۔ لیکن بعد کے مضمون پر غور کرنے سے خیال ہوتا ہے کہ شاید اس سے مراد عالم بالا کے وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو نہایت مستحکم سرحدوں نے دوسرے خطے سے جدا کر رکھا ہے۔ اگرچہ یہ سرحدیں فضائے بسیط میں غیر مرئی طور پر کھچی ہوئی ہیں، لیکن ان کو پار کر کے کسی چیز کا ایک خطے سے دوسرے خطے میں چلا جانا سخت مشکل ہے۔ اس مفہوم کے لحاظ سے ہم بروج کو محفوظ خطوں (Fortified Spheres) کے معنی میں لینا زیادہ صحیح سمجھتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
17۔ یعنی جس طرح زمین کی دوسری مخلوقات زمین کے خطّے میں مقید ہیں اسی طرح شیاطین جن بھی اسی خطے میں مقید ہیں، عالم بالا تک ان کی رسائی نہیں ہے۔ اس سے دراصل لوگوں کی اس عام غلط فہمی کو دور کرنا مقصود ہے جس میں پہلے بھی عوام الناس مبتلا تھے اور آج بھی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شیطان اور اس کی ذریت کے لیے ساری کائنات کھلی پڑی ہے، جہاں تک وہ چاہیں پرواز کرسکتے ہیں۔ قرآن اس کے جواب میں بتاتا ہے کہ شیاطین ایک خاص حد سے آگے نہیں جاسکتے، انہیں غیر محدود پرواز کی طاقت ہرگز نہیں دی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہاں شیطان کی صفت "رجیم" آئی ہے اس لیے کہ "رجیم" کے معنی سنگسار کردہ کے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
18۔اہل سائنس کی تحقیق ہے کہ فضا میں بڑے بڑے وزنی پتھر چکرکھا یا کرتے ہیں، اور وہ ہواسے رگڑ کھاکر روشن ہوجاتے ہیں، اور کبھی زمین پر ٹوٹ کر گر پڑتے ہیں، انہیں قرآنی شہاب مبین و شہاب ثاقب سے اصلاً تعلق نہیں۔ٹوٹے ہوئے تارے جنہیں انگریزی میں(FLOATING STAR)کہتے ہیں ،اور اہل سائنس کی اصطلاح میں (METAR) وہ بڑے سنگریزے ہوتے ہیں جو فضائے آسمان میں گھومتے رہتے ہیں اور جب فضائے زمین میں آجاتے ہیں تو التہاب سے چمکنے لگتے ہیں، صرف عوامی زبان میں انہیں "تارے"کہا جاتاہے ورنہ حقیقتاً زمینی ستارے کوئی اور چیز نہیں، اور نہ کوئی اہل فن انہیں ستاروں میں شمار کرسکتاہے، ان کو قرآن کے شہاب کا ترجمہ سمجھنا تمام تر ایک عامیانہ جہالت ہے، قرآن کے شہابوں کا تعلق تمام ترفرشتوں اور شیطان سے ہے جو سرتاسر غیبی چیزیں ہیں۔(تفسیر ماجدی)
ــ شہابِ ثاقب کی حقیقت:۔ اس آیت کی تفسیر کیلئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے:۔سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ تمام آسمان میں جب کسی حکم کا فیصلہ کرتاہے تو فرشتے اس کا حکم بجالانے کیلئے نہایت عاجزی سے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں اور ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے کسی صاف پتھر پر زنجیر ماری جارہی ہو۔اس طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں تک اپنا پیغام پہنچادیتا ہے پھر جب ان کے دلوں سےگھبراہٹ دور ہوتی ہے تو دور والے فرشتے نزدیک والوں سے پوچھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا؟ وہ کہتے ہیں جو فرمایابجاارشاد فرمایا۔فرشتوں کی یہ باتیں چوری چھپے سے سننے والے (شیطان)سن لیتے ہیں اور اوپر تلے رہ کر وہاں تک جاتے ہیں ۔پھر کبھی ایسا ہوتاہے کہ فرشتے اس بات کو سننے والے شیطان پر آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں جو اسے نیچے والے شیطان کو بات پہنچانے سے پہلے ہی جلا ڈالتاہے۔اور کبھی یہ شعلہ اسے بات پہنچانے کے بعد پہنچتا ہے تو اوپر والا شیطان نچلےکو بات پہنچانے میں کامیاب ہوجاتاہے۔اس طرح وہ بات زمین تک آپہنچتی ہے۔پھر وہ بات ساحر(کاہن ونجومی)کے منہ پر جاری ہوتی ہے ۔تو اس میں وہ سو جھوٹ ملاکر لوگوں سے بیان کرتاہے پھر اگر اس کی کوئی بات سچی نکل آئے تو لوگ کہتے ہیں دیکھواس نجومی نے ہمیں خبردی کہ فلاں وقت ایسا ایسا ہوگا اور وہ بات سچ نکلی۔یہ وہ بات ہوتی ہے جو آسمان سے چرائی گئی تھی۔"(بخاری، کتاب التفسیر ۔ سورۂ سبا)(تیسیر القرآن)
24۔ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ۔ سے مراد وہ نسلیں ہیں جو گزرچکیں ،اور الْمُسْتَاْخِرِیْنَ سے مراد بعد کو آنے والی نسلیں ہیں۔۔۔۔۔بعض نے مستقدمین سے مراد نیکیوں میں سبقت کرنے والے اور مستأخرین سے مراد نیکیوںمیں پیچھے رہ جانے والے لئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
تیسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ ﴿26﴾ وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ﴿27﴾ وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ﴿28﴾ فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ ﴿29﴾ فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ ﴿30﴾ اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ﴿31﴾ قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ﴿32﴾ قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ﴿33﴾ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ ﴿34﴾ وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ ﴿35﴾ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ﴿36﴾ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ ﴿37﴾ اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ﴿38﴾ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ ﴿39﴾ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ﴿40﴾ قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ ﴿41﴾ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ﴿42﴾ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ ۙ ﴿43﴾ لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿44ع الحجر 15﴾ |
| 26. اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔ 27. اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا۔ 28. اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ 29. جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔ 30. تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ 31. مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا۔ 32. (خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ 33. (اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں۔ 34. (خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے۔ 35. اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)۔ 36. (اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے۔ 37. فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے۔ 38. وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک۔ 39. (اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔ 40. ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)۔ 41. (خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے۔ 42. جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے۔ 43. اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے۔ 44. اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں۔ |
تفسیر آیات
26۔ یہاں قرآن اس امر کی حدود کی تصریح کرتا ہے کہ انسان حیوانی منازل سے ترقی کرتا ہوا بشریت کی حدود میں نہیں آیا جیسا کہ نئے دور کے ڈاروینیت سے متاثرہ مفسرین قرآن ثابت کرنیکی کوشش کر رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
ــــ صلصال : اس خشک شدہ کیچڑ کو کہتے ہیں جسے انگلی سے ٹکرایا جائے تو بجنے لگے۔۔۔۔حماُ : اس مٹی کو کہتے ہیں جو کافی دیر پانی میں رہنے کیوجہ سے سیاہ ہوگئی ہو ۔۔۔۔۔مسنون : اس کا معنی بدبودار بھی ہے او ر قالب میں ڈھلا ہوا بھی - علمائے امت نے لکھا ہے کہ مختلف حالتوں میں مٹی کے مختلف نام ہیں ۔ پانی میں بھگونے سے پہلے اسے تراب کہتے ہیں ، پانی میں بھیگ جائے تو اسے طین ( کیچڑ ) کہتے ہیں ۔ اور جب کافی عرصہ پانی میں بھیگی رہے اور سیاہ ہوجائے تو اسے حماُُ کہتے ہیں ۔اور جب اس میں بو پیدا ہوجائے یا اسے کوئی صوررت دے دی جائے تو اسے مسنونکہتے ہیں ۔ اور جب وہ خشک ہوجائے تو اسے صلصال اور جب آگ میں پکا لیا جائے تو اسے فخار کہتے ہیں ۔(ضیا ء القرآن)
27۔ جانّ اور جن کا لغوی مفہوم اور مراد:۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جس طرح آدمیوں یا انسانوں کے جد امجد کا نام آدمؑ ہے اسی طرح جنوں کا جدامجد جانّ ہے۔اور جن کا لغوی معنی کسی چیز کو ڈھانپ کر چھپادینا ہے کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوجائے۔اور جنوں کو بھی جن اس لیے کہاجاتاہے کہ وہ انسانوں کیلئے غیر مرئی مخلوق ہے جو انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔جن اپنی شکل وصورت بدل سکتے ہیں۔ کبھی یہ دیو،بھوت پریوں کی شکل میں انسانوں کے سامنے نمودار ہوتے ہیں اور کبھی سانپ کی شکل میں ۔چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر تم گھروں میں سانپ دیکھوتو مارنے سے پہلے اسے کہہ لوکہ اگر وہ جن ہے تو چلا جائے ۔قرآن میں بھی جان کا لفظ سانپ کیلئے استعمال ہواہے ۔(27: 10)اور جان صرف ایسے سانپ کو کہتے ہیں جو عصاکی طرح لمبا اور پتلا ہو۔(تیسیر القرآن)
ــــ انسان سے پہلے ایک اور نوع کو پیدا کیا ( جآنّ) اس کی تخلیق نارسموم سے ہوئی ۔ سموم اس آگ کو کہتے ہیں جو سخت تیز گرم ہو اور جس سے دھواں نہ اٹھے ۔ (ضیاء القرآن)
ـــــ یعنی اس آگ سے جو اجزائے دخانیہ اور کثیفہ سے خالی تھی ،اور اس لئے غایتِ لطافت سے مثل ہواکے غیر مرئی تھی۔الجان ۔جنات بھی بالکل انسان ہی جیسے بے بس مخلوق ہیں ،کوئی وصف ذرہ بھر بھی ان میں معبودیت کا موجود نہیں ۔فرق صرف مادہ کا ہے،انسان کی ترکیب مٹی سے ہوئی اور ان کی آگ یا ہوائی آگ سے ان کی مخلوقیت اور عجز کو دکھانے ہی کیلئے قرآن مجید نے ان کا ذکر تخلیق انسانی کے ساتھ ساتھ کیا ہے، توریت میں اس موقع پر زمین پر (خداکے بیٹوں)کے موجود ہونے کا ذکر ہے ،نیز ایک اور مخلوق کا ، جس کیلئے انگریزی ترجموں میں لفظ (GIANTS)کا آیا ہے، اردو میں اس کا ترجمہ جبار سے کیا گیا ہے۔(پیدائش6: 2و4)شستہ اور بامحاورہ اردومیں انہیں "دیوزاد "ہی سے تعبیر کیا جاسکتاہے۔دلائل مختلفہ سےجنات کے متعلق یہ امور معلوم ہوتے ہیں،آگ سے پیدا ہونا،توالد و تناسل ہونا، عادۃً انکانظر نہ آنا،مختلف اشکال میں ان کا متشکل ہونا،مگر جن اشکال میں متشکل ہونے سے کوئی التباس مضردین ہوتاہواس پر بہ حکمت الٰہی قادر نہ ہونا، اور جس میں التباس مضر دنیا ہوتاہواس پر کم قادرہونا۔(تھانویؒ)(تفسیر ماجدی)
28۔ اس سے معلوم ہواکہ انسان کے اندر ایک نورِ یزدانی بھی ودیعت ہواہے جو اس کے تمام روحانی کمالات کا سرچشمہ ہے اوراس کے واسطہ سے وہ خدا سے جڑتاہے ،بشرطیکہ وہ اس کی پوری پوری حفاظت کرے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
29 : میں انسان کو بنانے کے بعداس میں اپنی روح پھونک دوں ۔ نفخ روح کی تحقیق ( 99 -297 )(معارف القرآن/ضیاء القرآن)
اس آیت کے متعلق علامہ ثناءاللہ پانی پتی نے بڑی مفید اور جامع بحث کی ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔۔۔ وہ فرماتے ہیں روح کی دو قسمیں ہیں۔ علوی اور سفلی۔ روح علوی اللہ تعالی کی مخلوق ہے لیکن مادی نہیں بلکہ مجردہے اور نظر کشف سے اس کا مقام عرش کے اوپر پتہ چلتا ہے۔ امام غزالی کا بھی یہی مسلک ہے کہ روح مجرد ہے لیکن جمہور علماکی رائے ہے کہ یہ جسم لطیف ہےاپنی ماہین اور صفت کے لحاظ سے دوسرے اجسام سے مختلف ہے اور جسم میں اس طرح حلول کیے ہوئے ہے جیسے زیتون کے دانہ میں تیل۔یا کوئلہ میں آگ۔۔۔(2) اور روح سفلی اس بخار لطیفکا نام ہے جو عناصر اربعہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس ہی کو نفس بھی کہتے ہیں اور یہی سفلی روح علوی روح کا آئینہ ہے جس میں وہ ظاہر ہوتی ہے۔ روح انسانی کو اللہ تعالی نے اپنی طرف مضاف فرمایا ہے (نفخت فیہ من روحی)۔ یہ اضافیت بعضیت کی نہیں بلکہ تشریف اور عزت افزائی کے لیے ہے جس طرح بیت اللہ، ناقۃ اللہ، اور شہر اللہ کہا جاتا ہے۔ اس کی اضافت کی وجہ یہ ہے کہ تجلیات کے قبول کرنے کی صلاحیت صرف اس میں پائی جاتی ہے کیونکہ یہ روح عالم خلق اور عالم امر دونوں کی خصوصیات کی جامع ہے۔ اسی لیے اسے خلافت کا مستحق قرار دیا گیا اور نور معرفت اور آتش عشق کا اہل قرار پایا۔ (ضیاء القرآن)
ـــــ فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم:۔ جب انسان کا پتلا تیار ہوگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ"میں کھنکھناتی مٹی سے ایک پشر پیدا کرنے لگا ہوں ۔جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا "روح پھونکنے سے مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہلکا سا پرتوانسان میں پیدا ہوجائے اور انسان کو جو دوسرے تمام جانداروں سے زیا دہ عقل و تمیز ،قوت ارادہ و اختیار ،مختلف اشیاء کے خواص معلوم کرنے کا علم نیزغور و فکر کے ذریعہ استنباط یا نتائج حاصل کرنے کا علم دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اسی نفخہ کا نتیجہ ہے اور اسی بناپر انسان زمین میں اللہ کا خلیفہ بنایا گیا۔۔۔۔۔(تیسیر القرآن :ص۔481 تا 491۔ اشارات اور عنوانات): جانّ اور جن کا لغوی مفہوم اور مراد۔۔۔۔۔فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم۔۔۔۔۔عقیدہ حلول اور ارتقاء کا رد۔۔۔۔تخلیق انسانی سے متعلق مختلف نظریات۔۔۔۔کیا انسان بندر کی اولاد ہے؟۔۔۔۔ ارتقائی انسان کتنی مدت میں وجود میں آیا؟۔۔۔۔۔نظریہ ارتقاء پر اعتراضات۔۔۔۔۔نظریہ ارتقاءپر مغربی مفکرین کے تبصرے ۔۔۔۔۔نظریہ ارتقاء کی مقبولیت کے اسباب۔۔۔۔نظریہ ارتقاء کی برصغیر میں درآمد اور منکرین قرآن۔۔۔۔نظریہ ارتقاء کے حق میں قرآنی دلائل۔۔۔۔دوسری دلیل علق کا مفہوم۔۔۔۔تیسیری دلیل ۔اطوار مختلفہ۔۔۔۔چوتھی دلیل ۔زمین سے روئیدگی۔۔۔۔پانچویں دلیل نسل انسانی کے بعد فرشتوں کا آدم کو سجدہ کرنا۔۔۔۔ نظریہ ارتقاء کے ابطال پر دلائل ۔۔۔۔۔تخلیق انسانی کے مراحل ۔۔۔۔۔تخلیق انسان سے پہلے کا زمانہ قابلِ ذکر چیز ہے۔۔۔۔آدم کی خصوصی تخلیق۔۔۔۔۔آدم کی بن باپ تخلیق ۔۔۔۔سجدہ سے ابلیس کا انکار۔(تیسیر القرآن)
۔ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے اندر ایک نور یزدانی بھی ودیعت ہوا ہے جو اس کے تمام روحانی کمالات کا سرچشمہ ہے اور اسی کے واسطہ سے وہ خدا سے جڑتا ہے بشرطیکہ وہ اس کی پوری پوری حفاظت کرے اگر وہ اس کو ضائع کردے تو وہ ایک بےچراغ گھر ہے جس کے اندر صرف تاریکی ہی تاریکی ہے ۔ (تدبرِ قرآن)
44ــــ جہنم کے دروازے ،طبقے اور ان کے نام:۔ تقسیم شدہ حصہ سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی گناہ کے مجرم الگ کردئیے جائیں گےاور وہ سب ایک ہی دروازے سے داخل ہوں گے۔جیسے دہریے ایک دروازے سے ، مشرک الگ دروازہ سے ،منافق الگ دروازے سے وغیر ہ وغیرہ ۔باالفاظ دیگر جہنم کے ہر طبقہ کیلئے الگ الگ دروازہ ہوگا اوریہ طبقات بھی سات ہی ہوں گے۔ ابن عباسؓ کے نزدیک نام یہ ہیں۔جہنم،سعیر، لظیٰ،حطمۃ،سقر ،جحیم اور ہاویہ کا لفظ ان سب طبقات کیلئے عام بھی ہے اورپہلے طبقہ کا نام بھی ہے ۔ اور بعض لوگوں نے ان طبقات کیلئے گنہگاروں کی یوں تقسیم کی ہے۔پہلے طبقہ جہنم میں گنہگار مسلمان۔ دوسرے طبقہ سعیر میں یہود،تیسرے طبقہ لظیٰ میں نصاریٰ،چوتھے طبقہ حطمۃ میں صائبین،پانچویں طبقہ سقرمیں مجوس،چھٹے طبقہ میں مشرک اور ساتویں طبقہ میں منافق جو سب سے نچلا طبقہ ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔واضح رہے کہ جہنم کے تو سات دروازے ہیں جبکہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔(تیسیر القرآن)
ــــ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ انسان کو جہنم کی راہ پر ڈالنے اور اس کو تباہ کرنے والے گناہ اپنی اصل کے اعتبار سے سات ہیں۔ یہ شرک ،قطع رحم، قتل،زنا، جھوٹی شہادت، کمزوروں پر ظلم اور بغی و سرکشی کے گناہ ہیں۔قرآن نے ان میں سے ہر ایک کی تفصیل بتائی ہے اور ان کو روکنے کے لیے حکم دیے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
چوتھا رکوع |
| اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ ﴿45﴾ اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ ﴿46﴾ وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِ هِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ﴿47﴾ لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ ﴿48﴾ نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ ﴿49﴾ وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ ﴿50﴾ وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ ﴿51﴾ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ ﴿52﴾ قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ﴿53﴾ قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ ْالْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ ﴿54﴾ قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ ﴿55﴾ قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ ﴿56﴾ قَالَفَمَاخَطْبُكُمْ اَیُّهَاالْمُرْسَلُوْنَ ﴿57﴾ قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ ﴿58﴾ اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ ﴿59﴾ اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿60ع الحجر 15﴾ |
| 45. جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ 46. (ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ۔ 47. اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ 48. نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ 49. (اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں۔ 50. اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے۔ 51. اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو۔ 52. جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کہا۔ (انہوں نے) کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے۔ 53. (مہمانوں نے) کہا کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ 54. بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو۔ 55. (انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے۔ 56. (ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے۔ 57. پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے۔ 58. (انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں)۔ 59. مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے۔ 60. البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی۔ |
تفسیر آیات
47۔ جنت میں داخلے سے پہلے دلوں کی صفائی:۔ دنیا کی زندگی میں نیک لوگوں کے درمیان بعض غلط فہمیوں کی بناپر کچھ رنجش اور ناراضگی دلوں میں رہ بھی گئی ہوگی تو جنت میں داخل ہونےسے پہلے پہلے ایسی سب چیزیں اللہ تعالیٰ دلوں سے نکال دے گا اور وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں داخل ہوں گے۔ پچھلی سب باتیں دلوں سےمحوکردی جائیں گی۔ سیدنا علیؓ نے یہی آیت پڑھ کر فرمایا تھا کہ مجھے امیدہے کہ اللہ تعالیٰ میرے، عثمان ؓ،طلحہؓ اور زبیرؓ کے درمیان بھی صفائی کرادے گا۔واضح رہے کہ یہ چاروں صحابہ چھ رکنی کمیٹی کے ممبر تھے جو سیدنا عمرؓ نے اپنے وفات سے پیشتر نئے خلیفہ کے انتخاب کے سلسلہ میں تشکیل دی تھی اور یہ رنجش بعض غلط فہمیوں کی بناپر پیدا ہوگئی تھی۔اور بعض لوگوں نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ جنت میں اہل جنت کے درجات مختلف ہوں گے۔کوئی اعلیٰ درجہ کی جنت کا مستحق ہوگا اور کوئی نچلے درجہ والی جنت کا ۔تو داخلہ سے پہلے ہر ایک کے دل سے رشک اور رنجش وغیرہ نکال دی جائے گی ہر جنتی اپنے اپنے درجہ پر قانع اور مطمئن ہوگا۔(تیسیر القرآن)
48۔ اس کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور ﷺ نے خبر دی ہے کہ " یقال لا ھل الجنۃ ان لکم ان تصحوا ولا تمرضوا ابدًا، و ان لکم ان تعیشوا فلا تمو تو ا ابدا، و ان لکم ان تشبّوا ولا تھرموا ابدًا، و ان لکم ان تقیموا فلا تظعنو ا ابدًا۔ " یعنی ”اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے۔ اور اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی موت تم کو نہ آئے گی۔ اور اب تم ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بڑھاپا تم پر نہ آئے گا۔ اور اب تم ہمیشہ مقیم رہو گے، کبھی کوچ کرنے کی تمہیں ضرورت نہ ہوگی“۔ اس کی مزید تشریح ان آیات و احادیث سے ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں انسان کو اپنی معاش اور اپنی ضروریات کی فراہمی کے لیے کوئی محنت نہ کرنی پڑے گی، سب کچھ اسے بلا سعی و مشقت ملے گا۔(تفہیم القرآن)
51۔ یہاں حضرت ابراہیم اور ان کے بعد متصلا ًقوم لوط کا قصہ جس غرض کے لیے سنایا جا رہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اس سورة کی ابتدائی آیات کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ آیات 7 -8 میں کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ”اگر تم سچے نبی ہو تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتے ؟“ اس کا مختصر جواب وہاں صرف اس قدر دے کر چھوڑ دیا گیا تھا کہ ”فرشتوں کو ہم یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے، انہیں تو ہم جب بھیجتے ہیں حق کے ساتھ ہی بھیجتے ہیں“۔ اب اس کا مفصل جواب یہاں ان دونوں قصوں کے پیرائے میں دیا جا رہا ہے۔ یہاں انہیں بتایا جا رہا ہے کہ ایک ”حق“ تو وہ ہے جسے لے کر فرشتے ابراہیم کے پاس آئے تھے، اور دوسرا حق وہ ہے جسے لے کر وہ قوم لوط پر پہنچے تھے۔ اب تم خود دیکھ لو کہ تمہارے پاس ان میں سے کونسا حق لے کر فرشتے آسکتے ہیں۔ ابراہیم والے حق کے لائق تو ظاہر ہے کہ تم نہیں ہو۔ اب کیا اس حق کے ساتھ فرشتوں کو بلوانا چاہتے ہو جسے لے کر وہ قوم لوط کے ہاں نازل ہوئے تھے ؟ (تفہیم القرآن)
53۔ یعنی حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت، جیسا کہ سورة ہود میں بصراحت بیان ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)
60۔ خدا کا قانون با لکل بے لاگ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زد سے پیغمبر کی بیوی بھی محفوظ نہیں رہتی۔ (تدبرِ قرآن)
پانچواں رکوع |
| فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ ﴿61﴾ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ ﴿62﴾ قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ ﴿63﴾ وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ﴿64﴾ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ ﴿65﴾ وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ ﴿66﴾ وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ ﴿67﴾ قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ ﴿68﴾ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ ﴿69﴾ قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ﴿70﴾ قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ ﴿71﴾ لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ ﴿72﴾ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ ﴿73﴾ فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ ﴿74﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ ﴿75﴾ وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ ﴿76﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ ﴿77﴾ وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ ﴿78﴾ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ ۧ ۧ ﴿79ع الحجر 15﴾ |
| 61. پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے۔ 62. تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو۔ 63. وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔ 64. اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔ 65. تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے۔ 66. اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔ 67. اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے۔ 68. (لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا۔ 69. اور خدا سے ڈرو۔ اور میری بےآبروئی نہ کیجو۔ 70. وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا۔ 71. (انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)۔ 72. (اے محمد) تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے۔ 73. سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا۔ 74. اور ہم نے اس شہر کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا۔ اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں۔ 75. بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے۔ 76. اور وہ (شہر) اب تک سیدھے رستے پر (موجود) ہے۔ 77. بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانی ہے۔ 78. اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے۔ 79. تو ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا۔ اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر (موجود) ہیں۔ |
تفسیر آیات
65۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پلٹ کر دیکھتے ہی تم پتھر کے ہوجاؤ گے، جیسا کہ بائیبل میں بیان ہوا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیچھے کی آوازیں اور شور و غل سن کر تماشا دیکھنے کے لیے نہ ٹھیر جانا۔ یہ نہ تماشا دیکھنے کا وقت ہے، اور نہ مجرم قوم کی ہلاکت پر آنسو بہانے کا۔ ایک لمحہ بھی اگر تم نے معذب قوم کے علاقے میں دم لے لیا تو بعید نہیں کہ تمہیں بھی اس ہلاکت کی بارش سے کچھ گزند پہنچ جائے۔ (تفہیم القرآن)
72۔ یہاں رسول اللہؐ کی زندگی کی صداقت اور پاکیزگی کو جوکافروں کو بھی مسلم تھی ،بہ طور گواہ پیش کیا جارہاہے،اور یہی مقصد قسم کا ہوتاہے ،اصل قصہ کے درمیان اتنا جزء براہ راست رسول اللہؐ کو مخاطب کرکے ارشاد ہوا ہے اور یہ طریقہ عین خطابت عرب کے موافق ہے۔(تفسیر ماجدی)
ــــ غنڈوں کی بد مستی:۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رسول اللہؐ کی جان سے زیادہ اکرم و افضل کوئی جان پیدا نہیں کی۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی جان عزیز کے علاوہ کسی اور جان کی قسم کھائی ہو۔ یہی قسم کھاکر اللہ نے رسول اللہؐؐ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اسوقت ان خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر وہ اپنی شہوت رانی کی مستی میں اندھے اور دیوانے بنے ہوئے تھے کہ ایسا شکار شاید انہیں بعدمیں کبھی بھی میسر نہ آسکے۔(تیسیر القرآن)
73۔ گویاجو کام فجر کے وقت شروع ہواتھا جیساکہ آیت نمبر66 میں لفظ مصبحین سے واضح ہے وہ وقت اشراق تک اپنی تکمیل کو پہنچ گیا،توریت میں ہے: ۔"او رجس وقت صفر میں داخل ہوا،سورج کی روشنی زمین پر پھیلی"۔ (پیدائش ۔19: 23) (تفسیر ماجدی)
74۔ قوم لوط کی تباہ کردہ بستیوں کا حال:۔ یہ کل چار بستیاں تھیں جن میں چار لاکھ لڑنے والے مرد موجود تھے اور یہ سب بدکار اور مجرم تھے۔ جبرائیل ؑ نے اس پورے خطۂ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا پھر فضا میں بلندی پر لے کر انہیں اٹھا کر زمین پردے مارا۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک زبردست دھماکے کی آواز پیدا ہوئی ۔اس پر اللہ کا غضب فرونہ ہوا تو پھر اسی خطۂ زمین پر اوپر سے پتھروں کی بارش کی گئی ۔چنانچہ یہ خطۂ زمین سطح سمندر سے 400 میٹر نیچے چلا گیا اور اوپر پانی آگیا۔ یہی پانی بحرِ میت یا غرقابِ لوطی ہے۔(تیسیر القرآن)
78۔ یعنی حضرت شعیب کی قوم کے لوگ۔ اس قوم کا نام بنی مدیان تھا۔ مَدْیَن اُن کے مرکزی شہر کو بھی کہتے تھے اور اُن کے پورے علاقے کو بھی۔ رہا اَیکہ ، تو یہ تبوک کا قدیم نام تھا۔ اس لفظ کے لغوی معنی گھنے جنگل کے ہیں۔ آج کل اَیکہ ایک پہاڑی نالے کا نام ہے جو جبل اللَّوز سے وادی اَفَل میں آکر گرتا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الشعراء ، حاشیہ نمبر ۱۱۵)۔ (تفہیم القرآن)
ــــ اصحاب الأیکہ کون تھے؟:۔یعنی بن کے رہنے والے۔یعنی ایسی قوم جو درختوں کے ذخیرہ کے پاس رہتی تھی اور یہ مدین کے پاس ہی تھے اور ان کی طرف بھی شعیبؑ ہی مبعوث ہوئے تھے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اصحاب مدین اور اصحاب الأیکہ الگ الگ قومیں تھیں اور بعض کے نزدیک ایک ہی قوم تھی۔ان کا جرم شرک کے علاوہ تجارتی بددیانتیاں نیزماپ تو ل میں کمی بیشی کرنا تھا۔ان کا حال سورۂ اعراف کی آیت(85)میں تفصیل سے گزرچکا ہے۔(تیسیر القرآن)
79۔ لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ۔امام کہتے ہیں وسیع راستہ یا شاہراہ کو، اور طریق کو۔ امام عجب نہیں کہ اس لئے کہا گیا ہو کہ اسی کا اتباع کیا جاتاہے۔(تفسیر ماجدی)
چھٹا رکوع |
| وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ ﴿80﴾ وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ ﴿81﴾ وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ﴿82﴾ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ ﴿83﴾ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ ﴿84﴾ وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ ﴿85﴾ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ﴿86﴾ وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ﴿87﴾ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ﴿88﴾ وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ ﴿89﴾ كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ ﴿90﴾ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ ﴿91﴾ فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ ﴿92﴾ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿93﴾ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ ﴿94﴾ اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ ﴿95﴾ الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ﴿96﴾ وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ ﴿97﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ ﴿98﴾ وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ ۧ ۧ ﴿99ع الحجر 15﴾ |
| 80. اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ 81. ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھیرتے رہے۔ 82. اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے۔ 83. تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا۔ 84. اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ 85. اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو۔ 86. کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے۔ 87. اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے۔ 88. اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا۔ 89. اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں۔ 90. (اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا۔ 91. یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ 92. تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے۔ 93. ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔ 94. پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو۔ 95. ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں۔ 96. جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا۔ 97. اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔ 98. تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو۔ 99. اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے۔ |
تفسیر آیات
80۔ الحجر شمالی عرب اور شام کے درمیان کا علاقہ کہلاتاہے،مدائن صالح ،جدید جغرافیہ میں اسی کا نام ہے، یہ حضرت صالحؑ کی امت قوم ثمود کا مسکن تھا، شام سے مدینہ آنے لگے ،تو سب سے پہلے ارض لوط پڑے گی ،پھر سرزمین شعیبؑ (مدین)ملے گی اور سب سے آخر میں علاقہ حجر یا مسکن قوم ثمود تینوں عبرت انگیز خطے باہم متصل ہیں ،اور شاید اسی مناسبت سے تینوں کا ذکر بھی یہاں ایک ساتھ ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر العلاء سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں، مگر نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں پہنچا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ”یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انہوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش و نگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج بنائے گئے ہوں۔ ان مکانات میں اب بھی سڑی گلی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة اعراف 57) (تفہیم القرآن)
81۔ یہ نشانیاں اللہ کی اونٹنی اور اس کا بچہ تھیں ۔ اور یہ معجزہ ان کے مطالبہ پر انہیں عطا ہوا تھا علاوہ ازیں رسولوں پر منزل من اللہ تعلیم پر بھی ان الفاظ یعنی آیات اللہ کا اطلاق ہوتاہے ان کے انکار کا قصہ بھی پہلے سورۂ اعراف اور سورۂ ہود میں گزر چکا ہے۔(تیسیرالقرآن)
82۔ اصحاب الحجر یا قوم ثمود:۔یہ لوگ بڑے طویل القامت،،مضبوط جسم اور لمبی عمروں والے تھے ۔سنگ تراش اور انجینئر قسم کے لوگ تھے ۔اور اس فن میں ماہر تھے کہ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنا گھر بنالیتے تھے۔اور یہ گھراتنے مضبوط ہوتے تھے جو ہر طرح کی ارضی و سماوی آفات مثلاً زلزلہ ، سیلاب، طوفانِ بادوباراں وغیرہ کا مقابلہ کرسکتے تھے لہذا ہر طرح کے خوف و خطرسے نڈر ہوکر ان میں رہتے تھے۔(تیسیر القرآن)
84۔قومِ ثمود کی تباہ شدہ بستیاں: ۔ ۔۔۔عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ سفر تبوک میں جب آپؐ حجر کے مقام پر پہنچے تو آپؐ نے صحابہ کو حکم دیا کہ" ان کے کنوئیں سے نہ پانی پئیں اور نہ ڈول بھریں "صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ"ہم نے تو اس سے آٹا گوندھ لیا ہے اور اسے بھر بھی لیا ہے"آپؐ نے فرمایا"آٹا پھینک دو اور پانی بہادو"پھر آپؐ نے آٹا اونٹوں کو کھلانے کی اجازت دیدی ۔آپؐ نے حکم دیا کہ"اس کنوئیں سے پانی پلاؤ جس سے (صالحؑ) کی اونٹنی پانی پیتی تھی ۔اور ان ظالموںکے گھروںمیں داخل نہ ہو بجز اس صورت کے کہ تم رورہے ہو اور اگر رونا نہ آئے تو وہاں سے مت گزرو۔ایسا نہ ہو کہ ان کاسا عذاب تم پر بھی نازل ہو"پھر آپؐ نےچادر سے اپنا سرڈھانپ لیا اور تیزی سے اپنی سواری کو چلاتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔(بخاری،کتاب الانبیاء ،باب قولہ تعالیٰ والیٰ ثمود اخاھم صالحا۔نیز کتاب الصلوٰۃ ۔باب الصلوٰۃ فی مواضع الخسف)(تیسیر القرآن)
87 : سَبعَ مَثَانِی - مراد - (1 ) ابتدائی سات بڑی سورتیں ( 2 ) سورۃ فاتحہ (3 ) پورا قرآن - سات گروپ اور سورتوں کے جوڑے ۔ ( 78-376) (تدبرقرآن)
ــــ المقتسمین ۔قسم سے مشتق ہے اور اس کے معنی حلف اٹھانے والوں کے ہیں، یعنی وہ دشمنانِ اسلام جنہوں نے مکہ معظمہ میں رسول اللہؐ کی مخالفت میں باہم سازش کرکے حلف اٹھائے تھے۔۔۔۔۔نساب و مؤرخ ابن حبیب نے لکھا ہے کہ یہ مقتسمین 17 کی تعداد میں تھے، اور ان کے نام بھی درج کئے ہیں،جن میں سے سات ابوجہل کے قبیلۂ مخزوم میں سے تھے ،اور دس قریش کے دوسرے قبیلوں سے(کتاب المحبر160) (تفسیر ماجدی)
ــــ سبع المثانی یا قرآن العظیم،فضائل سورۂ فاتحہ:۔ سات بار دہرائی جانے والی آیات سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔چنانچہ سیدنا سعد بن معلیٰ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے مجھے فرمایا "میں تجھے قرآن کی ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھکر ہے اور وہ ہے "الحمدللہ رب العالمین"وہی سبعاً من المثانی اور قرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔"(بخاری،تفسیر سورۂ فاتحہ،نیز کتاب التفسیر ،سورۂ انفال زیر آیت نمبر 23"یا ایھاالذین اٰمنوا استجیبوا۔۔۔")نیز سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا "سورۂ الحمد ہی ام القرآن، ام الکتاب اور سات بار دہرائی جانے والی آیتیں ہیں"۔ (ترمذی،ابواب التفسیر سورۂ محمد)(تیسیر القرآن)
88۔ لفظ ازواج طبقات کے معنی میں بھی آتاہے - وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَـ قہر الٰہی کفار پر نازل ہونے کو ہے ۔ جس طرح مرغی خطرے کے وقت اپنے بچوں کو پروں کے نیچے چھپالیتی ہے ۔ ( مومنین کو ) ۔(تدبرقرآن)
ــــ مسلمانوں اور قریشیوں کی معاشی حالت کا تقابل:۔ جب ہم نے آپ کو قرآن عظیم جیسی نعمت عطا فرمادی تو پھر کافروں کو دی ہوئی ناپائیدار اور فانی نعمتوں کی طرف توجہ نہ کرنا چاہئے ۔جب یہ ہدایت آپؐ کو اور صحابہ کرام ؓ کو دی گئی اس وقت صورت حال یہ تھی کہ رسالت کی ذمہ داریوں کی بناپر آپ سے تجارت کا شغل بھی چھوٹ چکا تھا اور سیدہ خدیجہؓ والا سرمایہ بھی ختم ہورہا تھا۔اور قریش مکہ کے معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے جوچند جوان صحابہ کاروبار یا دوسرے کام کاج کرتے تھے وہ بھی چھوٹ چکے تھے۔ویسے بھی کچھ صحابہ غلام اور کچھ آزاد کردہ غلام تھے۔ غرض یہ کہ مسلمانوں پر یہ سخت تنگدستی کا دور تھا۔دوسری طرف قریش مکہ خاصے مالدار تھے ۔تجارت کرتے تھے اور ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے تھے ۔ایسے ہی حالات میں مسلمانوں کو تسلی کے طورپر ایسی ہدایا ت دی جارہی تھیں۔(تیسیر القرآن)
91۔ قسمیں کھانے والے اور ان پر عذاب کا نزول:۔ اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ اگر مقتسمین کے معنی تقسیم کرنے والے یا بانٹ لینے والے ،قرار دیا جائے۔اس صورت میں یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنہوں نے قرآن کے بعض حصوں کو تو تسلیم کیا اور بعض حصوں کا انکار کردیا اور بعض کے نزدیک ان سے مراد کفار مکہ ہیں۔ جن کا مطالبہ یہ تھا کہ قرآن کی جن آیات میں ہمارے بتوں کی توہین ہوتی ہے وہ نکال دو پھر باقی باتیں ہم مان لیں گے اور بعض کے نزدیک ان سے مراد صرف تفرقہ باز یہود ہیں اور قرآن سے مراد ان کی کتاب اللہ تورات ہے۔ان لوگوں نے کتاب اللہ کے بعض حصوں کو مان کر، بعض کا انکار کرکے ،بعض آیات کو چھپا کر اور بعض کو تحریف ِ لفظی یا معنوی کرکے بیسیوں فرقے بنا ڈالے تھے اور ان کی طرف اللہ نے وقتاً فوقتاً اپنی تنبیہات یا عذاب نازل فرمایا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مقتسمین کے معنی باہم قسمیں کھانے والے قراردیا جائے ۔اس صورت اس سے مراد وہ لوگ یا وہ قومیں ہیں جنہوں نے انبیاء کی تکذیب یا بعض دوسری جھوٹی باتوں پر قسمیں کھائی تھیں اور انہوں نے کتب سماویہ کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے تھے ۔حافظ ابن کثیر اسی معنی کی تائید کرتے ہیں۔ اور اس معنی کی تائید میں کئی آیات پیش کی ہیں۔مثلاً قومِ ثمود نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ ہم رات کو شبخون مارکر سیدنا صالحؑ اور ان کے گھروالوں کو قتل کرڈالیں گے(27: 49)یا مثلاً کافروں نے پختہ قسمیں کھاکر کہا کہ جو مرچکا ہے اللہ اسے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا(16: 38)یا قریش مکہ نے قسمیں کھاکر کہا تھا کہ ان کی شان و شوکت کو زوال نہیں آئے گا(14: 24)یا اعراف والے دوزخیوں کو مخاطب کرکے کہیں گے کہ کیا یہی اہل جنت وہ لوگ نہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر کبھی رحمت نہیں کرے گا"وغیرہ وغیرہ۔ایسے سب لوگوں پر عذاب آیا اور قیامت کو ان سے سختی سے باز پرس بھی ہوگی۔(تیسیر القرآن)
95۔ اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے لیڈر پانچ آدمی تھے عاص بن وائل، اسود بن المطلب، اسود بن عبدی، غوث ْولید بن مغیرہ، حارث بن الطلاطلۃ یہ پانچوں معجزانہ طور پر ایک ہی وقت میں حضرت جبرئیل ؑ کے اشارے سے ہلاک کردیئے گئے ۔اس واقعہ سے تبلیغ و دعوت کے معاملہ میں یہ حاصل ہوا کہ اگر انسان کسی ایسے مقام یا ایسے حال میں مبتلا ہوجائے کہ وہاں حق بات کو علی الاعلان کہنے سے ان لوگوں کو تو کوئی فائدہ پہنچنے کی توقع نہ ہو اور اپنے آپ کو نقصان و تکلیف کا اندیشہ ہو تو ایسی حالت میں یہ کام خفیہ طور پر کرنا بھی درست اور جائز ہے البتہ جب اظہار و اعلان کی قدرت ہوجائے تو پھر اعلان میں کوتاہی نہ کی جائے۔ (معارف القرآن)
99۔ الیقین۔یہاں بمعنی موت ہے۔۔۔اور یہ جو آج بعض جاہلوں نے معنی نکالے ہیں کہ عبادت بس اسی وقت تک فرض ہے جب تک دل میں یقین نہیں پیدا ہوتا،اور جب مرتبۂ یقین پیدا ہوجائے تو عبادت ضروری نہیں رہتی، یہ محاورۂ عربی سے جہل کا نتیجہ ہے،"یقین آجانا"دل میں مرتبۂ یقین کے پیدا ہوجانے کے معنی میں تمام تر اردومحاورہ ہے، عربی میں یاتیک الیقین سے کوئی بھی یہ مراد نہیں لے سکتا۔محققین نے لکھا ہے کہ یہ رد میں ان مدعیان باطل کے ہے جو کہتے ہیں کہ سلوک میں کوئی مرتبہ ایسا آتاہے جس میں تکلیفات ِ شرعی جائز ہوجاتی ہیں،اور یہ اعتقاد الحاد محض ہے۔(تفسیر ماجدی)