53 - سورة النجم (مکیہ)

رکوع - 3 آیات - 62

مضمون: شفاعتِ باطل کی تردید ۔اللہ کے ہاں صرف عمل تولا جائے گا۔(مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

نام :  پہلی  ہی آیت   میں لفظ  نجم  آ یا ہے  جس  سے  سورۂ  کا نام  موسوم  ہے  ،سورۂ  کے  آخر  میں سجدہ  ہے ،  اور ترتیب  نزولی  کے  لحاظ  سے  یہ  قرآن مجید  کا پہلا  سجدہ  تلاوت  ہے۔ 

شان نزول:  سورۂ  نجم کا  پہلا حصہ  ( آیات : 1 تا  18 )  حضور ؐ  کے  قیام مکہ  کے چوتھے  اور آخری  دور (  11 تا 13 نبوی )  میں سورۂ بنی  اسرائیل  کے ساتھ  بوقت  معراج  نازل ہو ا  ۔ روایات  کے مطابق   معراج  کا واقعہ   رجب  : 12سن نبوی  میں پیش  آیا  تھا۔ سورت  کا دوسرا  حصہ  ( آیات  :  19 تا 62 )  اعلان  عام  اور ہجرت  حبشہ  کے بعد  ،رمضان 5 سن نبوی میں نازل ہوچکاتھا۔

۔۔جب یہ سورہ نازل ہوئی تو حرم مکی میں حضور ؐ   نے  مجمع  عام میں اسکی تلاوت  کی ۔ اسکی  چھوٹی  چھوٹی  آیات  میں  اتنی  تاثیر  ہے کہ  آیت  سجدہ  پر بڑے بڑے  سردار وں  سمیت   سب سجدہ  میں گر گئے  ۔ دو نے  سجدہ نہ کیا۔  امیہ  بن خلف  ( حالت  کفر  میں قتل )  اورمطلب  بن  ابی وداعہ  ( غلطی  کی  تلافی  کیلئے  اسکی تلاوت  اور سجدہ  کرتے رہے) ۔ جب  کفار  سجدہ  میں  گرے  تو  دوسرے  قبائل  نے  ان کا مذاق  اڑایا  ۔  ۔۔ریشم  میں ٹاٹ  کی پیوند  کا ری  : ان کے مطابق کہا گیا کہ یہ  بڑی بلند پایہ  دیویاں  ہیں اور انکی  شفاعت  ضرور  متوقع  ہے ۔  کفارکے  اس عذر  لنگ  نے ان کو اور بھی  ہلکا  کردیا  ۔

فضائل: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ نزول کے اعتبار سے یہ وہ پہلی سورت ہے ،جس میں آیتِ سجدہ ہے۔(قرآنی سوررتوں کا نظمِ جلی)

نظم کلام: سورۂ قٓ

ترتیب مطالعہ  و اہم مضامین:  (1 ) ( ر۔1) ۔حضور ؐ  کے مشاہدات   کائنات  اور  دیویوں  کی حقیقت  )  (2 )(  ر- 2 ) ۔( منکرین حق  محض  ظن  کی پیروی  کرتے  ہیں )  (3 ) ر۔3  ( سابقہ  اقوام  سے  سامان عبرت )  ۔


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ ﴿1﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ ﴿2﴾ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ ﴿3﴾ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ ﴿4﴾ عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ ﴿5﴾ ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ ﴿6﴾ وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ ﴿7﴾ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ ﴿8﴾ فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ ﴿9﴾ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ ﴿10﴾ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى ﴿11﴾ اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى ﴿12﴾ وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ ﴿13﴾ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى ﴿14﴾ عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ ﴿15﴾ اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ ﴿16﴾ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى ﴿17﴾ لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى ﴿18﴾ اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ ﴿19﴾ وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى ﴿20﴾ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى ﴿21﴾ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى ﴿22﴾ اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ ﴿23﴾ اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ ﴿24﴾ فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ ۧ ۧ ﴿25ع النجم 53﴾
1. تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے۔ 2. کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں۔ 3. اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں۔ 4. یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے۔ 5. ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا۔ 6. (یعنی جبرائیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے۔ 7. اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے۔ 8. پھر قریب ہوئے اوراَور آگے بڑھے۔ 9. تو دو کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم۔ 10. پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا۔ 11. جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ مانا۔ 12. کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟ 13. اور انہوں نے اس کو ایک بار بھی دیکھا ہے۔ 14. پرلی حد کی بیری کے پاس۔ 15. اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے۔ 16. جب کہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ 17. ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی۔ 18. انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ 19. بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔ 20. اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)۔ 21. (مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں۔ 22. یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے۔ 23. وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ 24. کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے۔ 25. آخرت اور دنیا تو الله ہی کے ہاتھ میں ہے۔

تفسیر آیات

1۔ اصل  میں لفظ  " النجم "  استعمال  ہوا  ہے ۔ ابن عباس   رضی اللہ تعالی عنہ  مجاہد  اور  سفیان   ثوری  کہتے  ہیں اس سے مراد   "ثریا " (Pleiades)  ہے ۔ سدی اس سے  زہرہ ( Venus )  مرادلیتے   ہیں  ۔ ابو عبید   نحوی کا قول  ہے  کہ  یہاں  النجم  بول  کر جنس  نجوم  مراد  لی گئ ہے ۔ یعنی  مطلب  یہ ہے  کہ جب  صبح ہوئی  اور  سب  ستارے  غروب  ہوگئے  موقع   محل  کے لحاظ  سے  آخری بات  زیادہ  قابل ترجیح  ہے ۔(تفہیم القرآن)

۔ النَّجْمُ۔ مطلق النجم سے مراد محاورۂ عرب میں ثُریا سے ہوتی ہے۔(تفسیر ماجدی)

4۔۔۔۔۔۔جن باتوں کی وجہ سے تم اس پر یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہوگیا ہے، وہ اس نے اپنے دل سے نہیں گھڑ لی ہیں، نہ ان کی محرک اس کی اپنی خواہش نفس ہے۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح اسلام کی یہ دعوت، توحید کی یہ تعلیم، آخرت اور حشر و نشر اور جزائے اعمال کی یہ خبریں، کائنات و انسان کے متعلق یہ حقائق، اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے یہ اصول، جو وہ پیش کر رہا ہے، یہ سب کچھ بھی اس کا اپنا بنایا ہوا کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ خدا نے وحی کے ذریعہ سے اس کو ان باتوں کا علم عطا کیا ہے۔ اسی طرح یہ قرآن جو وہ تمہیں سناتا ہے، یہ بھی اس کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہے، بلکہ یہ خدا کا کلام ہے جو وحی کے ذریعہ سے اس پر نازل ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ " آپ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے بلکہ جو کچھ آپ کہتے ہیں وہ ایک وحی ہے جو آپ پر نازل کی جاتی ہے "، آپؐ کی زبان مبارک سے نکلنے والی کن کن باتوں سے متعلق ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دوسری باتیں جو قرآن کے علاوہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوتی تھیں تو وہ لا محالہ تین ہی قسموں کی ہو سکتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک قسم کی باتیں وہ جو آپ تبلیغ دین اور دعوت الیٰ اللہ کے لیے کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی فرق کی بنا پر قرآن کو وحی جلی، اور آپ کے ان دوسرے ارشادات کو وحی خَفِی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری قسم کی باتیں وہ تھیں جو آپ اعلائے کلمۃ اللہ کی جدوجہد اور اقامت دین کی خدمات کے سلسلے میں کرتے تھے۔ اس کام میں آپ کو مسلمانوں کی جماعت کے قائد و رہنما کی حیثیت سے مختلف نوعیت کے بیشمار فرائض انجام دینے ہوتے تھے جن میں بسا اوقات آپ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ بھی لیا ہے، اپنی رائے چھوڑ کر ان کی رائے بھی مانی ہے، ان کے دریافت کرنے پر کبھی کبھی یہ صراحت بھی فرمائی ہے کہ یہ بات میں خدا کے حکم سے نہیں بلکہ اپنی رائے کے طور پر کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔سوال کہ کیا وہ وحی پر مبنی تھیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بجز ان باتوں کے جن میں آپ نے خود تصریح فرمائی ہے کہ یہ اللہ کے حکم سے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی تمام باتیں اسی طرح وحی خفی پر مبنی تھیں جس طرح پہلی نوعیت کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں آپ کا اجتہاد ذرا بھی اللہ کی پسند سے ہٹا ہے وہاں فوراً وحی جلی سے اس کی اصلاح کردی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیسری قسم کی باتیں وہ تھیں جو آپ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے زندگی کے عام معاملات میں کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے کوئی بات اپنی زندگی کے اس نجی پہلو میں بھی کبھی خلاف حق نہیں نکلتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔وحی کا نور ان میں بھی کار فرما تھا۔۔۔۔۔۔۔مسند احمد اور ابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں جو کچھ بھی رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنتا تھا وہ لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اسے محفوظ کرلوں۔ قریش کے لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہنے لگے تم ہر بات لکھتے چلے جاتے ہو، حالانکہ رسول اللہ ﷺ انسان ہیں، کبھی غصے میں بھی کوئی بات فرما دیتے ہیں۔ اس پر میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ بعد میں اس بات کا ذکر میں نے حضور سے کیا تو آپ نے فرمایا اکتب فو الذی نفسی بیدہ ما خرج منّی الّا الحق، تم لکھے جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میری زبان سے کبھی کوئی بات حق کے سوا نہیں نکلی ہے "۔ (اس مسئلے پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب تفہیمات، حصہ اوّل، مضمون " رسالت اور اس کے احکام ")۔ (تفہیم  القرآن)

ــــ ستاروں کی شہادت سے دوباتیں ظاہر کرنی مقصود ہیں۔ایک یہ کہ ان کا طلوع و غروب اللہ کے حکم سے ضابطہ کی پابندی کے ساتھ ہے لہذا ان سے الہام حاصل کرنا یا تقدیر معلوم کرنا حماقت ہے ۔دوسری یہ کہ ٹوٹنے والے تارے شیطان کی غیب دانی کی کوششوں پر ضرب لگانے کے لیے ہیں۔لہذا کاہنوں کا غیب دانی کا دعویٰ بالکل جھوٹ ہے۔قرآن ان دونوں ذریعوں سے الگ وحی الٰہی کے ذریعے اترا۔'تمہارا ساتھی 'سے مراد رسول اللہؐ ہیں۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

ــ اجتہادی امور:  سے مراد ایسے دینی امور ہیں جن میں کسی پیش آمدہ مسئلہ کا حل سابقہ وحی کی روشنی میں تلاش کیا جائے ۔گویا یہ معاملہ ہر ماہر علوم دین کی ذاتی بصیرت سے یکساں تعلق رکھتاہے تاہم آپ اس کے سب سے زیادہ حقدار تھے۔اس کی مثال یہ ہے کہ ایک عورت نے آپؐ کے پاس آکر مسئلہ پوچھا کہ میرے باپ پر حج فرض تھا اور مرگیا ہے۔ کیا میں اب اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپؐ نے فرمایا:"بھلادیکھو! اگر اس کے ذمہ قرض ہوتاتو تم اسے ادا نہ کرتیں ؟"اس عورت نے کہا: "ضرور کرتی "تو آپؐ نے فرمایا:"تو پھر اللہ اس ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے"آپؐ کے ایسے اجتہادات اور استنباطات کی فہرست بھی طویل ہے تاہم اس سلسلہ میں بھی جب کبھی کوئی لغزش ہوئی تو اس کی بذریعہ وحی جلی یا خفی اصلاح کردی گئی۔اس کی مثال وہ حدیث ہے جسے سیدنا ابوہریرۃؓ نے یوں روایت کیاکہ ایک آدمی نے پوچھا : یارسول اللہ! بتائیے! اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں۔درآنحالیکہ میں صبر کرنے والا،ثواب کی نیت رکھنے والا،آگے بڑھنے والا، پیٹھ نہ پھیرنے والا ہوں۔تو کیا اللہ میرے سب گناہ معاف کردے گا؟ آپؐ نے فرمایا "ہاں"وہ شخص چلا گیا تو آپؐ نے اسے پھر آواز دے کر بلایا اور فرمایا"مگر قرضہ معاف نہ ہوگا۔جبرائیل نے ابھی مجھے اس طرح بتایا ہے۔"(مسلم۔ کتاب الامارۃ ،باب ماوعدہ اللہ تعالیٰ للمجاہد فی الجنۃ)یعنی سائل کے سوال پر رسول اللہؐ نے تو جنت کی بشارت دے دی۔کیونکہ شہادت ایسا افضل عمل ہے کہ خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی شہید جنت کا حقدار بن جاتاہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی بھیج کر اس میں ترمیم فرمادی۔(تیسیر القرآن)

8۔۔۔۔۔ تاریخی حیثیت سے بھی سورة نجم بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور حسب تصریح حضرت عبداللہ بن مسعود سب سے پہلی سورت جس کو آنحضرت ﷺ نے اعلاناً پڑھا ہے یہی سورت ہے اور ظاہر یہی ہے کہ واقعہ معراج اس سے موخر ہے لیکن اس میں کلام کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔ (معارف القرآن)

قرب اور کمال ِ قرب کے ظاہر کرنے کو ہر زبان میں الگ الگ محاورے ہوتے ہیں، اردو میں کہتے ہیں"دو قدم پر تو ان کا مکان ہے"،"چار قدم بھی چلنا مشکل ہوگیا"،"ہاتھ بھر فاصلہ رہ گیا"۔عرب میں قاعدہ تھا کہ جب کوئی اہم عہد و پیمان درپیش ہوتاتو اپنی اپنی کمانوں کو نکال کر اُنہیں باہم ملاتے ،یہاں تک کہ دونوں کے چلّے مل جاتے،پھر دونوں اکٹھا کھینچتے اور دونوں سے ایک ہی تیر چلاتے ۔یہ گویا علامت تھی"من تو شدم تو من شدی"ہوجانے کی۔رفتہ رفتہ زبان میں یہی محاورہ بن کر کمالِ قرب و غایتِ اتحاد و اتصال کے لیے استعمال ہونے لگا۔۔۔۔یہاں مقصودواسطۂ وحی اور صاحبِ وحی ،رسول ملکی اور رسولِ بشری کے کمالِ اتحاد و اتصال کو دکھانا ہے۔۔۔۔اور یہ تو تابعین ہی سے نہیں ،جلیل القدر صحابیوں سے بھی منقول ہے کہ جس ذات کو پیمبر حق سے اتنا قرب و اتصال حاصل ہوا،وہ ذات جبرائیلؑ کی تھی۔۔۔۔ھذا المقترب الدانی الذی صاربینہ و بین محمدؐ انما ھو جبرائیلؑ ،ھو قول أم المؤمنین عائشۃ و ابن مسعود و أبی ذر و أبی ھریرۃ۔(ابن کثیر،ج4/ص: 223)(تفسیر ماجدی)

11۔ شروع کی آیات میں بیان ابتدائے نزولِ وحی کا تھا، اب بیان شبِ معراج کا ہورہاہے۔(تفسیر ماجدی)

14۔ اور یہ دوسری رویت فرشتۂ وحی کی اُس کی اصلی شکل میں پیمبر اعظمؐ  کوکب اور کہاں ہوئی؟پہلی رویت کا ذکر تو اوپر کی آیتوں میں آہی چکا ہے کہ اسی عالم میں غارِ حرا (مضافاتِ مکہ) میں سنہ ہجری سے بہت قبل سنہ نبوی کی ابتدائی تاریخوں میں ہوئی،اور یہ دوسری رویت جس کا اب ذکر ہے، یہ شب معراج یا لیلۃ الاسراء میں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔اوراہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جبرائیلؑ کی اصلی شکل میں رویت رسول اللہؐ کو دوبار ہوئی۔۔۔۔۔سدرۃ المنتہیٰ۔سدرۃ کے لفظی معنی بیری کے درخت کے ہیں، اور اصطلاح میں سدرۃ المنتہیٰ حدیث و آثار کے مطابق وہ بیری کا درخت ہے جو چھٹے ساتویں آسمان پر ہے،یا دونوں پر ایک سے لے کر دوسرے تک اور گویا اُس اور عالم کے درمیان ایک نقطۂ اتصال یا جنکشن کا کام دیتاہے ،یہ جو احکامِ تکوینی یا تشریعی عالم بالا سے صادر ہوتے ہیں ،وہ پہلے سدرۃ المنتہیٰ ہی تک آتے ہیں ،پھر فرشتے وہاں سے زمین پر لاتے ہیں ،اسی طرح زمین سے جو اعمال صعود کرتے ہیں ان کا بھی درمیانی اسٹیشن یہی ہوتاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ نے حضرت جبریل ؑ کو دو ہی بار دیکھا۔ ان دو ابتدائی مشاہدات کے بعد حضرت جبریل ؑ کا ظہور مختلف شکلوں اور مختلف اوقات میں تواتر کے ساتھ ہونے لگا، یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کے لیے حضرت جبریل ؑ کی آمد سے زیادہ نہ کسی کی آمد معلوم و معروف تھی نہ محبوب و مطلوب۔ (تدبرِ قرآن)

15۔سدرۃ المنتہیٰ کا محل  وقوع اور اہمیت:۔   "سدرۃُ"بمعنی بیری کا درخت جس پر بیر کا پھل لگتاہے۔اور منتہیٰ بمعنیٰ انتہائی سرحد۔یعنی انتہائی سرحد پر واقع بیری کا درخت جو ساتویں آسمان پر واقع ہے۔جہاں عالمِ سفلی کے معلومات ختم ہوجاتے ہیں اور عالمِ علوی کے افاضات بھی وہیں سے نیچے نازل ہوتے ہیں۔فرشتے بھی اس مقام سے آگے نہیں جاسکتے۔ اسی مقام پر معراج کی رات رسو ل اللہؐ نے سیدنا جبرائیل کو اپنی اصلی شکل میں دیکھا تھا اور بمعنی عرشِ الٰہی کی داہنی جانب بیری کا درخت جو ملائکہ وغیرہ کی پہنچ کی آخری حد ہے(منجد)نیز وہ مقام جہاں رسول اللہؐ  کو فیوضات ِ الٰہیہ اور بھاری انعامات سے نوازا گیا تھا۔ (مفردات)اسی آیت سے بعض علماء نے استنباط کیا ہے کہ متقین کو آخرت میں جو جنت ملے گی وہ آسمانوں پر ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ " جنت الماویٰ " کے لغوی معنی ہیں " وہ جنت جو قیام گاہ بنے "۔ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ یہ وہی جنت ہے جو آخرت میں اہل ایمان وتقویٰ کو ملنے والی ہے، اور اسی آیت سے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ وہ جنت آسمان میں ہے۔ قَتادہ کہتے ہیں کہ یہ وہ جنت ہے جس میں شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں، اس سے مراد وہ جنت نہیں ہے جو آخرت میں ملنے والی ہے۔ ابن عباس بھی یہی کہتے ہیں اور اس پر وہ یہ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ آخرت میں جو جنت اہل ایمان کو دی جائے گی وہ آسمان میں نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ یہی زمین ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔عندھا جنۃ الماویٰ، یہ سدرۃ المنتھٰی کے مقام کی نشان دہی فرما دی کہ اس کے پاس جنۃ الماویٰ بھی ہے۔ جنۃ الماویٰ پر سورة سجدہ کی آیت 19 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سدرۃ المنتھٰی عالم نا سوت کی آخری حد پر ہے۔ اسی طرح جنۃ الماویٰ عالم لاہوت کے نقطہ آغاز پر ہے۔ اس نشان دہی سے یہ بات واضح ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت جبریل ؑ کا دوبارہ مشاہدہ دونوں عالموں کے نقطہ اتصال پر ہوا۔ (تدبرِ قرآن)

۔زمانہ حال میں یورپ کے بہت سے ماہرین نے جو زمین کو برما کر ایک طرف سے دوسری طرف جانے کا راستہ بنانے کی کوشش سالہا سال جاری رکھی اور بڑی سے بڑی مشینیں اس کام کے لئے ایجاد کیں، مختلف جماعتوں نے اس پر محنت خرچ کی، سب سے زیادہ جو جماعت کامیاب ہوئی وہ مشینوں کے ذریعہ زمین کی گہرائی میں چھ میل تک پہنچ سکی، مگر چھ میل کے بعد سخت پتھر نے ان کو عاجز کردیا تو پھر دوسری جگہ سے کھدائی شروع کی، مگر وہی چھ میل کے بعد سخت پتھر سے سابقہ پڑا، متعدد جگہوں میں اس کا تجربہ کرنے کے بعد ان کی تحقیق یہ قرار پائی کہ چھ میل کی گہرائی کے بعد کوئی غلاف حجری پوری زمین پر چڑھا ہوا ہے، جس میں کوئی مشین کام نہیں کرسکتی، زمین کا قطر جو ہزاروں میل کا ہے اس میں سے سائنس کے اس عروج کے زمانہ میں سائنس کی رسائی صرف چھ میل تک ہوسکی، آگے غلاف حجری کا اقرار کر کے اپنی کوشش چھوڑنا پڑی، اس واقعہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ زمین پوری کسی غلاف حجری سے بند کی ہوئی ہے، اگر کسی روایت صحیحہ سے جہنم کا محل وقوع اس غلاف کے اندر ہونا ثابت ہوجائے تو کچھ بعید نہیں، واللہ سبحانہ، و تعالیٰ اعلم۔ (معارف القرآن)

16۔یعنی اس کی شان اور اس کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ وہ ایسی تجلیات تھیں کہ نہ انسان ان کا تصور کرسکتا ہے اور نہ کوئی انسانی زبان اس کے وصف کی متحمل ہے۔ (تفہیم القرآن)

17۔ جس طرح اوپر ارشاد ہوا ہے (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى) (آیت :11) (جو کچھ اس نے دیکھا وہ دل کی خیال آرائی نہیں تھی) اسی طرح یہاں فرمایا کہ اس مشاہدے کے موقع پر بھی نہ تو نگاہ بہکی اور نہ بےقابو ہوئی، بلکہ پیغمبر ﷺ نے جو کچھ مشاہدہ کیا پورے قرار و سکون اور پوری دلجمعی کے ساتھ مشاہدہ کیا۔ زیغ کے معنی کج ہونے کے ہیں یعنی نبی ﷺ کی نگاہ کسی جلوے کے مشاہدے میں اس کے صحیح زاویے سے کج نہیں ہوئی بلکہ آپ نے ہر چیز کا مشاہدہ اس کے بالکل صحیح زاویے سے کیا۔ طَغٰی کے معنی بےقابو ہونے کے ہیں۔ یعنی اگرچہ انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ الفاظ اس کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہیں لیکن آپ کی نگاہ ذرا بھی بےقابو نہیں ہوئی بلکہ آپ نے ہر چیز کا مشاہدہ اچھی طرح جم کر کیا۔ (تدبرِ قرآن)

۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کا پہلا واقعہ فترة وحی کے زمانہ میں مکہ معظمہ کے اندر اس وقت پیش آیا جب کہ آپ شہر مکہ میں کہیں جا رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ پہلا واقعہ معراج سے پہلے زمین مکہ پر اور دوسرا واقعہ ساتویں آسمان پر شب معراج میں پیش آیا ہے۔ (معارف القرآن)

18۔ یہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اس کی عظیم الشان آیات کو دیکھا تھا۔ اور چونکہ سیاق وسباق کی رو سے یہ دوسری ملاقات بھی اسی ہستی سے ہوئی تھی جس سے پہلی ملاقات ہوئی، اس لیے لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ افق اعلیٰ پر جس کو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا وہ بھی اللہ نہ تھا، اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کو دیکھا وہ بھی اللہ نہ تھا۔ اگر آپ نے ان مواقع میں سے کسی موقع پر بھی اللہ جل شانہ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی بڑی بات تھی کہ یہاں ضرور اس کی تصریح کردی جاتی۔(تفہیم القرآن)

20۔لات، منات  اور عزیٰ دیویوں کے نام ہیں۔مشرکین عرب کے عقیدہ کے مطابق یہ فرشتوں کے بت تھے جن کو عرب خدا کی بیٹیاں مانتے اور ان کی شفاعت کی امید رکھتے تھے ۔یہ تینوں دیویاں دوسرے بتوں کے بالمقابل زیادہ عالی مرتبہ تھیں لیکن منات دوسری دو سے کمتر حیثیت کی مانی جاتی تھی۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

۔اور ابن حبیب کے ہاں صفحہ 315 پر تو اس کے آگے یہ تصریحات ملتی ہیں کہ یہ (منات)  کعبہ کے مقابلے پر تھا،اس کا بھی ایک حرم متعین تھا،اس کے لیے  بھی حجابت و کسوۃ کے عہدے تھے، اور اس کے پروہت آل ابی العاص ثقفی تھے(جیسے خاندانی پروہت  ہندوستان میں برہمنوں کے یہاں کی مورتیوں کے لیے ہوا کرتے ہیں)۔(المحبر،ص: 315)العزیٰ ۔یہ دیوی قوت و طاقت کی تھی، جیسے ہندوستان میں دُرگا یا پاربتی یا کالی۔اور عرب  میں یہ یونان و رومہ کی زہرہ دیوی کی بھی قائم مقام تھی۔ظہورِ اسلام کے وقت عرب میں شہرہ سب سے زیادہ اسی کا تھا، یہ دیوی قبیلۂ غطفان کی تھی،لیکن اس کے پجاریوں میں چونکہ قریش بھی شریک ہوگئے تھے،اس لیے اس کی اہمیت بہت ہی زیادہ  بڑھ گئی تھی،اس کی مورتی نخلہ میں ایک درخت کے متصل نصب تھی۔ ابولہب جس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا، اس دیوی کی جانب منسوب تھا۔ملحقاتِ اخبار مکہ ازرقی میں جو فہرست عرب کے چھوٹے کعبوں کی دی ہے ،اس میں ایک نام کعبۂ غطفان کا بھی ہے،اور غطفان کا کعبہ یہی صنم خانۂ عزیٰ ہی ہوسکتاہے،اس بُت کدہ کی مسماری کا حال ابن ہشام کی زبان سے سننے کے قابل ہے:پھر رسول اللہؐ نے خالد بن ولید کو عزیٰ کی طرف روانہ کیا، جو نخلہ میں تھی،اور اس مکان کی تعظیم قریش ،کنانہ و مضر سب کرتے تھے ، اور اس کے پروہت و دربان بنی سلیم کی شاخ بنی شیبان والے تھے، پھر جب ان کے سردار سلمیٰ کو خالد کی آمد کی خبر ہوئ  تو اس نے اپنی تلوار دیوی پر لٹکا دی اور خود شعر پڑھ کر (جن میں عزیٰ سے التجا تھی کہ خالد کے ساتھیوں میں سے کوئی بچ کر نہ جانے پائے)پہاڑی پر چلا گیا۔خالد پہنچے تو اس بت خانے کو مسمار کردیا، اور پھر رسول اللہؐ کے پاس لوٹ آئے۔"(ابن ہشام، ج2/ص: 273- 274)۔۔۔۔ہندوستان میں سومنات کی جو مشہور مورتی ہوئی ہے، اور اب پھر اس کا زور و شور ہواہے ، اس کے تلفظ سے خیال ہوتاہے کہ عجب نہیں کہ اس کا کوئی تعلق و رشتہ بعد تحقیقات اسی مناۃ سے ثابت ہو!۔ (تفسیر ماجدی)


دوسرا رکوع

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى ﴿26﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى ﴿27﴾ وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ ﴿28﴾ فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ ﴿29﴾ ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى ﴿30﴾ وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ ﴿31﴾ اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ ۧ ۧ ﴿32ع النجم 53﴾
26. اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے۔ 27. جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ 28. حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ 29. تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو۔ 30. ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا۔ 31. اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے۔ 32. جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے۔

تفسیر آیات

32۔  جس نے  کبیرہ   گناہ  کرکے  توبہ کرلی  وہ  بھی  صالحین  اور متقین  کی صف  سے خارج  نہیں  ہوگا ۔ مگر  حیلوں  بہانوں  سے  کبائر   ( سود ، زنا ،  ڈاکہ )   (سیاسی  ڈاکو )  ، فحش  ، رشوت ،  سفارش  ،  ذخیرہ اندوزی پر  اصرار )  ۔ جمہور  علما کے نزدیک  متفق  علیہ  ہے  کہ  جس صغیرہ  گناہ  پر  اصرار  کیا جائے   اور اسکی عادت    ڈال  لی جائے  وہ بھی  کبیرہ  ہوجاتا ہے   ( اور کبیرہ  ہر مسلسل عمل ) ۔ (معارف  القرآن)

۔لَمَم کی تفسیر  میں کئی  قول  ہیں  ، بعض  نے  کہا  کہ جو  گناہ  کے  خیالات  دل  میں  آئیں   مگر  ان  پر عمل  نہ کیا جائے  ۔ بعض  نے   صغیرہ   گناہ  مراد  لئے  ہیں ۔  بعض  نے وہ کبیرہ  گناہ  مراد  لئے  ہیں  ۔  جن سے  حقیقی  توبہ  کرلی جائے ۔(تفسیر  عثمانی)

۔ جو لوگ  کبائر سے  بچتے  ہیں  ان کی حس  ایمانی  اتنی  قوی  ہوجاتی  ہے کہ وہ  صغائر  کے ارتکاب  پر کبھی  راضی  نہیں  ہوتے  جو ہزاروں  کی امانت  ادا کرتا  ہے  وہ کسی  کے   دھیلے  پیسے  میں خیانت   کرکے  خائن  کہلانے   پر  کس  طرح راضی  ہوگا ۔۔۔۔۔یہاں  کتنے  خاندان  ہیں   جن میں پیدا ہوجانا  ہی جنت  کی ضمانت   ہے اور  کتنے  قبرستان  ہیں  جن  میں  دفن  ہونا  ہی  ابدی  بادشاہی   کی  بشارت  ہے ۔ اس سے  بحث  نہیں  کہ پیدا  ہونے  والے  اور  مرنے  والے   کے عقائد   و اعمال  کیا رہے ۔۔۔۔ انسان  کے ایک حقیر  نطفہ  سے  پیدا  ہونے  کی حقیقت  اور  اسکے  پاکبازی  اور  اعلے  نسل  کے دعوے ۔(تدبر قرآن)

۔کبائر  الاثم  سے مراد  شرک  ہے کیونکہ  یہ تمام  کبیرہ   گناہوں  سے بڑا  گناہ  ہے  اور  فاحشہ  سے مراد  زنا  ہے جو بے حیائی  کی  انتہا ہے ۔(ضیاء القرآن)

۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا  ارشاد  ہے   کے کبیرہ  گناہ  سات  ہیں ۔    صحیحین کی  اس حدیث  سے بھی  آپ  کے  ارشاد  کی تصدیق  ہوتی  ہے ۔  سات  برباد   کرنے  والی   چیزوں  سے  اجتناب     کیا کرو   ۔  شرک  باللہ ،  جادو  ، قتل   بیگناہ   ، یتیم    کا مال   کھانا   ،  سود کھانا   ،  میدان  جنگ سے  بھاگنا   ،  پاک  دامن  عورت   پر  تہمت ( قاعدہ  کلیہ )   گناہ  کبیرہ   کے بارے   میں متعدد   روایات   ہیں  ، کسی  میں  انکی   تعداد  پانچ  کسی  میں  سات  ، کسی  میں  چودہ   اور کسی  میں  پچیس   مذکور   ہے  ۔  جن کا خلاصہ   یہ ہے  کہ ہر  وہ  کام  جس   سے   کسی  صریح   نص   کتاب   و سنت   سے منع   کیا گیا  ہو  ،  یا اسکے   لئے   کوئی   حد   شرعی   مقرر  ہو   یا  جس کی سزا   جہنم   بتائی  گئی  ھو  ۔ یا   جس  کے  مرتکب  کو لعنت  کا مستحق   قرار   دیا  گیا ہو   یا  جس  پر  عذاب   کے    نزول   کی خبر   دی   گئی  ہو ۔ ایسی  تمام  باتیں  کبیرہ  گناہ   ہیں۔    انکے  علاوہ  جو   دوسرے  گناہ   ہیں   ، انہیں   گناہ   صغیرہ  کہا جاتا ہے  ۔ یاد  رہے   کہ گناہ صغیرہ  پر اصرار  اور  شریعت   کے   کسی  فرمان  کا استخفاف  اور  تحقیر  کا شمار بھی   کبیرہ   گناہوں   میں   ہوتا  ہے ۔(ضیاء القرآن)

۔  عربی  زبان  میں  لَمَم کا لفظ  کسی  چیز   کی تھوڑی   سی مقدار  یا اسکے   خفیف   سے   اثر  یا  اس کے  محض  قرب  یا اس  کے   ذرا  سی  دیر   رہنے    کیلئے    استعمال   کیا جاتا   ہے ۔  مثلاً  بہ  لمَم (   اس  کا دماغ   ذرا   سا کھسکا ہوا  ہے) ۔  قاعدہ  کلیہ    اوپر   ضیا القرآن   والا۔ (تفہیم القرآن)

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا اور آپ سچے تھے اور آپؐ سے جو وعدہ کیا گیا وہ بھی سچا تھا "تم میں سے ہر ایک کا مادہ (نطفہ)اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس روز جمع کیا جاتاہے۔پھر چالیس دن تک وہ خون کی پھٹکی رہتاہے۔پھر چالیس دن تک گوشت کا  لوتھڑا رہتاہے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتاہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتاہے۔اس کے اعمال کیسے ہوں گے؟رزق کتنا ہوگا؟ عمر کتنی ہوگی؟ اور آیا وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت؟پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔پھر (دنیا میں آنے کے بعد)تم میں سے کوئی ایسا ہوتاہے جو زندگی بھر نیک کام کرتارہتاہے حتیٰ کہ بہشت اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے۔پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب آتاہے تو وہ کوئی دوزخیوں کا ساکام کربیٹھتا ہے اور کوئی بندہ زندگی بھر برے کام کرتارہتاہے حتیٰ کہ دوزخ اس سے ایک ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جاتی ہے پھر تقدیر کا لکھا غالب آتاہے اور وہ بہشتیوں کا ساکام کرتاہے"(اور وہ بہشت میں چلا جاتاہے۔)(بخاری،کتاب بدء الخلق ۔باب ذکر الملائکۃ)(تیسیر القرآن)

۔ اس آیت میں انسان کے وجود کا جس حقارت آمیز انداز میں ذکر فرمایا گیا ہے اس پر بھی نگاہ رہے اور (فَلَا تُزَكُّوْۤاْ اَنْفُسَكُمْ) میں اس کے دعوئے پاکی و برتری پر جو طنز ہے وہ بھی پیش نظر رہے۔ پھر غور کیجئے اپنے ان صوفیوں کے عقیدہ وحدت الوجود پر جو مدعی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی کا ایک جزو ہے۔ جو بالآخر اپنے کل میں مل جائے گا اور اس طرح قطرہ سمندر میں مل کر سمندر بن جائے گا۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ ہی کا ایک جزو ہے تو کیا اللہ تعالیٰ نے العیاذ باللہ اپنے ہی وجود کے ایک جزو کا اس حقارت آمیز انداز میں ذکر کیا ہے۔ (تدبرِ قرآن)


تیسرا رکوع

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ ﴿33﴾ وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى ﴿34﴾ اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى ﴿35﴾ اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ ﴿36﴾ وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ ﴿37﴾ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ ﴿38﴾ وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ ﴿39﴾ وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ ﴿40﴾ ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ ﴿41﴾ وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ ﴿42﴾ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ ﴿43﴾ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ ﴿44﴾ وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ ﴿45﴾ مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ ﴿46﴾ وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ ﴿47﴾ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ ﴿48﴾ وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ ﴿49﴾ وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ ﴿50﴾ وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ ﴿51﴾ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ ﴿52﴾ وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ ﴿53﴾ فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ ﴿54﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى ﴿55﴾ هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى ﴿56﴾ اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ ﴿57﴾ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ ﴿58﴾ اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ ﴿59﴾ وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ ﴿60﴾ وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ﴿61﴾ فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ ۞ ۧ ۧ ﴿62ع النجم 53﴾
33. بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا۔ 34. اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا۔ 35. کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ 36. کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی۔ 37. اور ابراہیمؑ کی جنہوں نے (حق طاعت ورسالت) پورا کیا۔ 38. یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 39. اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ 40. اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی۔ 41. پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ 42. اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے۔ 43. اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے۔ 44. اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے۔ 45. اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے۔ 46. (یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے۔ 47. اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے۔ 48. اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے۔ 49. اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے۔ 50. اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کر ڈالا۔ 51. اور ثمود کو بھی۔ غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ 52. اور ان سے پہلے قوم نوحؑ کو بھی۔ کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے۔ 53. اور اسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا۔ 54. پھر ان پر چھایا جو چھایا۔ 55. تو (اے انسان) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا۔ 56. یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں۔ 57. آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی۔ 58. اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا۔ 59. (اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو؟ 60. اور ہنستے ہو اور روتے نہیں؟ 61. اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو۔ 62. تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو۔

تفسیر آیات

34۔ روایات سے معلوم ہوتاہےکہ یہ دو آیات ولید بن مغیرہ کے متعلق  نازل ہوئیں۔ابوجہل سے پہلے ولیدبن مغیرہ ہی سردار ان قریش کا رئیس تھا اور اس کے سمجھ دار ہونے میں کچھ شک نہیں تھا۔ وہ رسول اللہؐ کی دعوت سے کافی حدتک متاثر ہوچکا تھا اور قریب تھا کہ ایمان لے آئے۔اس کے  ایک مشرک دوست کو جب اس صورت حال کا پتہ چلا تو اسے کہنے لگا جس آخرت سے تم ڈرتے ہو اس کا میں ذمہ لیتاہوں کہ اگر تمہیں عذاب ہوا تو تمہاری سزا میں اپنے سرلے لوں گا بشرطیکہ تم مجھے اتنا اتنا مال دے دو۔ چنانچہ ولید بن مغیرہ اس کے چکمے میں آگیا۔ اس کی بات کو قبول کرتے ہوئے طے شدہ مال کی ایک قسط اسے ادابھی کردی لیکن بعد میں اس نے کسی نامعلوم وجہ کی بناپر مزید مال دینے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔(تیسیر القرآن)

35۔ اس سے مراد ولید بن مغیرہ بھی ہوسکتاہے اور اس کا مشرک ساتھی بھی۔ آخرت کے متعلق ان دونوں کا علم نہایت ناقص اور ظن و قیاس پر  پر مبنی تھا۔ لیکن دونوں نے معاہدہ اس انداز سے کرلیا جیسا وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آخرت کے احوال سے پوری طرح واقف ہوچکے ہیں۔(تیسیر القرآن)

37۔   آگے   ان  تعلیمات   کا خلاصہ   بیان  کیا  جارہا  ہے   جو  حضرت   موسیٰؑ  اور  حضرت   ابراہیم ؑ   کے  صحیفوں   میں  نازل  ہوئی   تھیں   حضرت  موسٰی ؑ   کے صحیفوں   سے   مراد   تورات  ہے ۔   رہے   حضرت   ابراھیم  ؑ     کے   صحیفے  تو  وہ آج    دنیا   میں  کہیں  موجود   نہیں   اور   یہود   و نصاری  کی کتب    مقدسہ   میں بھی   انکا   کوئی   ذکر   نہیں   پایا   جاتا ۔  صرف   قرآن  ہی   وہ   کتاب  ہے   جس میں  دو مقامات    پر صحف   ابراھیم  کی تعلیمات   کے بعض   اجزا  نقل  کئے  گئے   ہیں  ۔ ایک  یہ  مقام  ،  دوسرے   سورۂ  الاعلی   کی آخری  آیات   ( اپنشد )  ۔(تفہیم القرآن)

39۔ اہل  سنت   میں  ایصال  ثواب  پر کوئی  اختلاف  نہیں  ،صرف   تفصیلات   میں   ہے ۔   (1 )   ایصال  اسی عمل  کا ہو سکتا  ہے  جو   خالصتا  اللہ  کیلئے   اور   قواعد  شریعت   کے مطابق   ہو ۔  (2 )    جو   اللہ  کے   ہاں   مجرم  کی حیثیت   سے  بند  ہیں ۔  انہیں   کوئی  ثواب   نہیں   پہنچتا  (3 )   ایصال  عذاب   ممکن  نہیں   ۔ (4 )  حنفیہ  کے نزدیک  عبادات  کی تین  قسمیں  ہیں    ۔(1 ) خالص  بدنی   جیسے  نماز  روزہ  ۔ (2 )     خالص   مالی   جیسے   زکواۂ   (3 )   مالی  و بدنی    کا مرکب   جیسے   حج ۔  پہلی  میں  نیابت نہیں ۔  دوسری  میں  نیابت  ہوسکتی  ہے ۔   جیسے   بیوی  کے زیورات  کی زکواۃ  شوہر  ادا  کر  سکتا  ہے۔  تیسری  میں   جس  کی طرف  سے  فعل کیا  جا رہا   ہو وہ دائمی    طور   عاجز   ہو   جیسے    حج  بدل  ۔ ۔۔۔۔۔حضرت  عائشہ  رضی اللہ تعالی عنہا  کا  فتویٰ   :  اپنے   مردوں کی طرف  سے  روزہ   نہ  رکھو بلکہ   کھانا  کھلاؤ  -  خود آدمی  نیابت   یا  ایصال ثواب  کا خواہشمند  ہو   مثلا :  استطاعت    کے باوجود    قصداً   حج   سے  مجتنب شخص   خواہ  اس کیلئے   کتنے   حج   بدل  کئے   جائیں  - اس  شخص   کے مرنے  کے  بعد  قرض  کی ادایئگی   جس نے  جان  بوجھ  کر قرض   مار  کھایا   ہو (  پائی پائی  ادا کرنے   کے باوجود  اس کا قرض ادانہ ہوگا) ۔ (تفہیم القرآن)

۔  ایک  بدو   حاضر  خدمت   ۔کوئی  مختصر  سی بات فرما دیں جس پر عمل کرنے سے جنت مل جائے۔ فرمایا:  - فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ " اسکی  سمجھ  میں بات   آگئی  - ( اسکے  بر عکس   حضرت   عیسٰؑی   کا گناہوں  کا کفارہ  ) (انوار  القرآن)

۔ یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرے گناہ کا ذمہ دار نہیں ہوگا اسی طرح آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا جن میں اس کی اپنی محنت ہوگی۔مطلب یہ ہے کہ اس آیت کا تعلق آخرت کی جزا سے ہے۔تاہم بعض صورتوں میں انسان کو مرنے کے بعد بھی اجر ملتا رہتاہے۔رسول اللہؐ نے فرمایا: "جب کسی شخص کا انتقال ہوجاتاہے تو اس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین کے:(1)صدقہ جاریہ  کے اعمال (مثلاً یتیم خانہ بنانا یا لوگوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے کنواں بناناوغیرہ)(2)علم جس سے انسان فائدہ اٹھائیں۔(3)نیک اولاد جو اپنے والدین کی مغفرت کے لیے اللہ سے دعا کرتی رہے۔"(صحیح مسلم۔الوصیۃ،باب مایلحق  الانسان من الثواب بعد وفاتہ۔حدیث: 1631)(احسن الکلام)

49۔ شعریٰ ستارہ اور اس کے پجاری:۔مشرکین عرب تین مشہور دیویوں لات، منات اورعزیٰ کے علاوہ آسمان کے دیوتاؤں میں سے شعریٰ سیارہ کی بھی پرستش کرتے تھے۔یہ سیارہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے اور اس کا زمین سے فاصلہ 8 نوری سال سے بھی زیادہ ہے۔(واضح رہے کہ سورج ہم سے 9 کروڑ 30لاکھ میل دور ہے اور اس کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے 8 منٹ میں ہم تک پہنچتی ہے۔گویا ہماری زمین اور سورج کا فاصلہ 8 نوری منٹ ہے۔اسی سے 8 نوری سال کا حساب لگالیجئے) (تیسیر القرآن)

54۔ اَوندھی گرنے والی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ اور " چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا " سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان کی بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)

55۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح کے لوگ حضرت ابراہیم سے پہلے گزر چکے تھے اور قوم لوط خود حضرت ابراہیم کے زمانے میں مبتلائے عذاب ہوئی تھی۔ اس لیے اس عبارت کے صحف ابراہیم کا ایک حصہ ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)

57۔ جس کو موت آگئی بس اس کی قیامت تو اسی وقت قائم ہوگئی۔(تیسیر القرآن)