54 - سورة القمر (مکیہ)

رکوع - 3 آیات - 55

مضمون:  قرآن کی تعلیم و تذکیر کی قدر کرو،اللہ کی رحمت کی جگہ عذاب کے طالب نہ بنو۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون   :  کافروں  کی اتحاد ی  قوت  کی ہزیمت  و شکست   کی پیشین گوئی  اور مشرکین  مکہ کو    حضور ؐ    کو جھٹلانے   کے جرم  پر دھمکی  ۔   سابقہ   پانچ  اقوام   کی  اپنے   انبیا و رسل   کو جھٹلانے   کے نتیجے  میں عذاب  اور اس سے  ڈرنے  کی ترغیب۔   رسول  ؐ  اور   قرآن کو ماننے  کا مشورہ ۔ 

تاریخی پس منظر :  شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا۔ پھر آن کی آن میں وہ دونوں پھر مل گئے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حیثیت سے لوگوں کو اس وقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دیا اور اپنے انکار پر جمے رہے۔۔۔۔۔ کفار نے کہا   کہ ہم  پر  جادو  کیا گیا ہے   باہر   سے لوگوں  کو آنے   دو ۔ باہر سے آنے والوں  نے تصدیق   کی  کہ  انہوں نے دیکھا  ۔۔۔۔۔  مالابار کے راجہ کے  روزنامچوں  میں درج ہے کہ  اس وقت   راجہ   اور اسکے  درباری  سمندر کے کنارے   ٹہل رہے  تھے۔ اس نے دیکھا، تصدیق کی اور مسلمان ہوگیا ۔)تفہیم  القرآن(

شان نزول :  ہجرت  مدینہ  سے  پانچ  سال پہلے   ، غالباً  سات  سن نبوی   کے آخر   پر    حضور ؐ   کے قیام  مکہ  کے تیسرے    دور (  6  تا  10  سن نبوی )   میں  نازل   ہوئی   جب  آپ   ؐ    پر ساحر   ہونے   کا الزام  لگایا  جارہا  تھا ۔  اپنے   الفاظ   ،اپنی   بلاغت   اور اپنے  سلوک کے اعتبار   سے  ایک  پر  تاثیر   سورۂ  ہے ۔ 

نظم کلام :  سورۂ قٓ

آیات  ترجیع :   دو آیات   ترجیع  :  "فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ"   "وَلَقَدْيَسَّرْنَاالْقُرْآنَ لِلذِّكْرِفَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ" دوسری  آیت   ترجیح :  قوموں   پر   عذاب   کے  وقت     تو  قرآن  نازل  نہیں   ہوا   تھا  لیکن   انکی   اپنی کتابیں    آسان   - سب  قرآن  اور اب  آسان  (  تذکیر بآلاءِللہ،  انذار   بایام اللہ  )

ترتیب مطالعہ  و اہم مضامین :   (1 )   ر- 1  (  معجزہ  شق القمر   اور   نزول قرآن   ، قوم  نوح  اور  قوم   عاد   کا ذکر ) (2 ) ر- 2 ( قوم ثمود   اور قوم  لوط  کا انجام)    ( 3 )   ر۔3(آل فرعون کا انجام  اور آخرت  کا منظر  ) ۔


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ ﴿1﴾ وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ﴿2﴾ وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ ﴿3﴾ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ ﴿4﴾ حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ ﴿5﴾ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ ﴿6﴾ خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ ﴿7﴾ مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ ﴿8﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ ﴿9﴾ فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ﴿10﴾ فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ ﴿11﴾ وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ ﴿12﴾ وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ ﴿13﴾ تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ ﴿14﴾ وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ﴿15﴾ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ ﴿16﴾ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ﴿17﴾ كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ ﴿18﴾ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ ﴿19﴾ تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ﴿20﴾ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ ﴿21﴾ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ ۧ ۧ ﴿22ع القمر 54﴾
1. قیامت قریب آ پہنچی اور چاند شق ہوگیا۔ 2. اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔ 3. اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔ 4. اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے۔ 5. اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ 6. تو تم بھی ان کی کچھ پروا نہ کرو۔ جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا۔ 7. تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں۔ 8. اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے۔ 9. ان سے پہلے نوحؑ کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی۔ 10. تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الٓہا) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلہ لے۔ 11. پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیئے۔ 12. اور زمین میں چشمے جاری کردیئے تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا۔ 13. اور ہم نے نوحؑ کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا۔ 14. وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے۔ 15. اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟ 16. سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا؟ 17. اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟ 18. عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔ 19. ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی۔ 20. وہ لوگوں کو (اس طرح) اکھیڑے ڈالتی تھی گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔ 21. سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔ 22. اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

تفسیر آیات

1۔ حضرت  عبدا للہ  بن مسعود  رضی اللہ تعالی عنہ   خود   اپنا   اس  وقت   موجود  ہونا  اور  معجزہ  کا مشاہدہ  کرنا  بھی   بیان فرماتے  ہیں۔عامیانہ شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا عظیم الشان واقعہ پیش آیا ہوتا تو پوری دنیا کی تاریخوں میں اس کا ذکر ہوتا، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ مکہ معظمہ میں رات کے وقت پیش آیا ہے، اس وقت بہت سے ممالک میں تو دن ہوگا وہاں اس واقعہ کے نمایاں اور ظاہر ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا  نہیں ہوتا اور بعض ممالک میں نصف شب اور آخر شب میں ہوگا، جس وقت عام دنیا سوتی ہے اور جاگنے والے بھی تو ہر وقت چاند کو نہیں تکتے رہتے، زمین پر پھیلی ہوئی چاندنی میں اس کے دو ٹکڑے ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا جس کی وجہ سے کسی کو اس طرف توجہ ہوتی، پھر یہ تھوڑی دیر کا قصہ تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی مشہور و مستند " تاریخ فرشتہ " میں اس کا ذکر بھی موجود ہے کہ ہندوستان میں مہاراجہ مالیبار نے یہ واقعہ بچشم خود دیکھا اور اپنے روزنامچہ میں لکھوایا اور یہی واقعہ ان کے مسلمان ہونے کا سبب بنا، اور اوپر ابوداؤ و طیالسی اور بیہقی کی روایات سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ خود مشرکین مکہ نے بھی باہر کے لوگوں سے اس کی تحقیق کی تھی اور مختلف اطراف کے آنے والوں نے یہ واقعہ دیکھنے کی تصدیق کی تھی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ (معارف  القرآن)

۔ علامہ  سید سلیمان  ندوی نے  اپنی  کتاب  خطبات مدراس  میں  لکھا  ہے کہ  سنسکرت  کی ایک  پرانی  کتاب  ملی ہے   جس میں  لکھا  ہے کہ  مالا بار  کے راجہ   نے   اپنی  آنکھ   سے چاند  کو ٹکڑے  ہوتے  ہوئے  دیکھا  ہے ۔ سائنس  کی  رو  سے  ناممکن  نہیں  ۔  ہو سکتا  ہے  کہ  ایک  کرہ کے  اندر  آتش   فشاں   مادہ  ہواور  وہ پھٹ  کر دو ٹکڑے    ہوجائے  لیکن   مرکزی  مقناطیسی   قوت     اتنی  طاقتور   ہو کہ وہ  ان  دو ٹکڑوں  کو پھر   سے  یکجا  کردے    ۔(  تفہیم  میں   بھی )بعض  قصہ   گؤوں  نے  اس واقعہ  پر مضحکہ   خیز   اضافے  کئے    ہیں  کہ  چاند  حضورؐ  کے گریبان   میں  داخل  ہو ا اور آستین  سے   نکل  گیا  ۔ اس کی کوئی  اصل  نہیں۔

۔ 228 تا  صفحہ230۔  نتیجہ  یہ نکالا  کہ  شق  القمر  کا  واقعہ  قرآن     کے صریح  الفاظ  سے   ثابت  ہے   کہ حدیث  کی روایات  پر اس  کا انحصار نہیں  ۔  حضرت  عبداللہ بن مسعود   ، حضرت   حذیفہ   اور حضرت  جبیر  بن مطعم  رضی اللہ تعالی عنہم   جو روایت   کرنیوالے  ہیں  ۔ عینی  شاہد   ہیں  ، باقی  ( مسئلہ  عبدا للہ  بن عباس  رضی اللہ تعالی عنہ )  نے بزرگ  صحابہ  سے  سنا  ۔ فتح  الباری  میں ابن حجر   کہتے  ہیں   کہ   یہ  کفار  کے  مطالبہ   پر نہیں  ہوا ۔ (تفہیم القرآن)

۔ ایک دفعہ رسول اللہؐ منیٰ تشریف فرماتھے ۔کفار مکہ بھی وہاں موجود تھے۔انہوں نے آپؐ سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو آپؐ نے فرمایا: آسمان کی طرف دیکھو ،اچانک چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا جیساکہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے: سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ مکہ کے کافروں نے آپ سے کہا کہ کوئی نشانی دکھاؤ۔ تو آپؐ نے انہیں چاند کا پھٹنا دکھا دیا۔(تیسیر القرآن)

۔ "حضرات صحابہ سے یہ نقل متواتر ہوکر پہنچی ہے اور اس کا انکار کسی صحابی نے نہیں کیا"۔(تفسیر ماجدی)

نکر کا ایک معنی ناگوار ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا معنی انجانی اور اجنبی چیز ہے یعنی جب وہ حساب کتاب کے لیے بلائے جائیں گے تو یہ بات ان کے لیے بالکل انوکھی ہوگی جس کا انہیں خواب و خیال تک نہ تھا کہ اس طرح انہیں زندہ کرکے حساب  کتاب کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔(تیسیر القرآن)

8۔ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۔ انسانوں کے اُس انبوہِ عظیم کی قریب ترین مثل جو اس دُنیا میں دی جاسکتی ہے وہ ٹڈی دَل ہی کی ہے۔ٹڈی دَل جب کبھی اپنی پوری قوت کے ساتھ ظہور پذیر ہوتاہے تو ساری فضائے آسمانی پر میلوں بلکہ منزلوں تک ٹڈیوں کے دَل بادل تہ بہ تہ چھاجاتے ہیں اوردن کی روشنی ماند ہوکر تاریکی پھیل جاتی ہے۔مبصرین کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ مشرقی افریقہ میں جب ٹڈی دَل پوری قوت کے ساتھ آیا ہے تو عرض میں تین میل اور طول میں ساٹھ میل تک تھا!اور ٹڈیوں کی تعداد کا تخمینہ اُس وقت سوکھرب یا ایک نیل کا کیا گیا!۔۔۔۔۔اور بعض دَل اس سے بھی بڑے بڑے مشاہدے میں آچکے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

عندنا سے مراد حضرت نوحؑ کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔عبد کا لفظ جب اُس کی اضافت حق تعالیٰ کی جانب ہو، قرب یا مرتبۂ خصوصی کو ظاہرکرنے والا ہوتاہے۔اور عبدنا یا عبداللہ کا استعمال محاورۂ قرآنی میں ہمیشہ لطف و رحمت ہی کے مخصوص موقعوں پر ہواہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ عبد بن حمید نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ نوح ؑ کی قوم کے بعض لوگ جب حضرت نوح کو کہیں پاتے تو بعض اوقات ان کا گلا گھونٹ دیتے تھے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے، پھر جب افاقہ ہوتا تو اللہ سے یہ دعا کرتے تھے کہ " یا اللہ میری قوم کو معاف کر دے، وہ حقیقت سے ناواقف ہیں، ساڑھے نو سو سال قوم کی ایسی ایذاؤں کا جواب دعاؤں سے دے کر گزارنے کے بعد آخر میں عاجز ہو کر بددعا کی جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے، جس کے نتیجہ میں یہ پوری قوم غرق کی گئی۔ (معارف القرآن)

13 ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍ۔  آہنی آلات سے چرے ہوئے چوبیں تختے اور لوہے کی بنی ہوئی ڈھلی ہوئی کیلیں اور باقاعدہ کشتی سازی ، یہ سب شہادتیں  ہیں اس امر کی کہ قوم نوح ایک اچھی مہذب و متمدن قوم تھی۔(تفسیر ماجدی)

16۔ نذر اصل میں نذری ہے۔ ’ ی ‘ قافیہ کی رعایت سے گر گئی۔ کسرہ اس کی نشانی کے طور پر باقی رہ گیا ہے۔ نذر یہاں انذار سے اسم ہے اور اس کے معنی ڈراوے، تنبیہ اور آگاہی کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس سننے والے کان اور عبرت پکڑنے      والا دل ہو تو وہ اس سر گزشت میں دیکھ سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب کیسا بےپناہ ہوتا ہے اور اس کی دھمکی کس طرح پوری ہوتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

17۔ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ۔۔۔یسرنا سے اشارہ اس حقیقت کی جانب ہوگیا کہ یہ محض توفیق و احسان الٰہی ہے جس نے قرآن کو آسان کردیا ہے،ورنہ یہ چیز انسانی فہم و دماغ کے بس کی نہ تھی۔(تفسیر ماجدی)

۔ حالانکہ جس سیاق وسباق میں یہ الفاظ آئے ہیں اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد کا مدعا لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ نصیحت کا ایک ذریعہ تو   ہیں وہ عبرتناک عذاب جو سرکش قوموں پر نازل ہوئے، اور دوسرا ذریعہ ہے یہ قرآن جو دلائل اور وعظ و تلقین سے تم کو سیدھا راستہ بتارہا ہے۔ اس ذریعہ کے مقابلے میں نصیحت کا یہ ذریعہ زیادہ آسان ہے۔ پھر کیوں تم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور عذاب ہی دیکھنے پر اصرار کیے جاتے ہو ؟ (تفہیم القرآن)

قرآن آسان کے چند پہلو: ۔ ۔۔۔تیسیرِ قرآن جن پہلوؤں کی طرف خود اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔تیسیرِقرآن کا سب سے نمایاں پہلو جس کا قرآن نے بار بار حوالہ دیا ہے یہ ہے کہ وہ ’ عربی مبین ‘ میں نازل ہوا ہے۔۔۔۔۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے نجما ً نجما ً یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے بالتدریج نازل فرمایا۔۔۔۔۔۔۔تیسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کی تمام بنیادی تعلیمات پہلے گٹھے ہوئے الفاظ اور فقروں اور چھوٹی چھوٹی جامع اور محکم سو رتوں کی شکل میں نازل ہوئیں۔۔۔۔۔۔چوتھا پہلویہ ہے کہ قرآن میں ہر بات گو نا گوں پہلوؤں سے مختلف شکلوں، صورتوں، مختلف سوابق و لواحق اور نئے نئے اطراف و جوانب کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔۔۔۔۔پانچواں پہلو یہ ہے کہ قرآن میں مکی اور مدنی سورتوں پر مشتمل سات گروپ ہیں۔ یہ ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)


دوسرا رکوع

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ﴿23﴾ فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ﴿24﴾ ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴿25﴾ سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ ﴿26﴾ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ ﴿27﴾ وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ ﴿28﴾ فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ ﴿29﴾ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ ﴿30﴾ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ ﴿31﴾ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ﴿32﴾ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ ﴿33﴾ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ ﴿34﴾ نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ ﴿35﴾ وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ ﴿36﴾ وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ ﴿37﴾ وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ ﴿38﴾ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ ﴿39﴾ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ ۧ ۧ ﴿40ع القمر 54﴾
23. ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا۔ 24. اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ 25. کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے۔ 26. ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا خود پسند ہے۔ 27. (اے صالح) ہم ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو۔ 28. اور ان کو آگاہ کردو کہ ان میں پانی کی باری مقرر کر دی گئی ہے۔ ہر (باری والے کو اپنی) باری پر آنا چاہیئے۔ 29. تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلایا اور اس نے (اونٹنی کو پکڑ کر اس کی) کونچیں کاٹ ڈالیں۔ 30. سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔ 31. ہم نے ان پر (عذاب کے لئے) ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ۔ 32. اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟ 33. لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا تھا۔ 34. تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے ان کو پچھلی رات ہی سے بچا لیا۔ 35. اپنے فضل سے۔ شکر کرنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 36. اور لوطؑ نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا۔ 37. اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو۔ 38. اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا۔ 39. تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو۔ 40. اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

تفسیر آیات

31۔ جو لوگ مویشی پالتے ہیں وہ اپنے جانوروں کے باڑے کو محفوظ کرنے کے لیے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں۔ اس باڑھ کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر ان کا برادہ بن جاتا ہے۔ قوم ثمود کی کچلی ہوئی بوسیدہ لاشوں کو اسی برادے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن)

37۔ اس قصے کی تفصیلات سورة ہود (آیات 77 تا 83) اور سورة حجر (آیات 61 تا 74) میں گزر چکی ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ حضرت لوط نے ان کی بےانتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس آخری مرحلے پر یکایک ان کی آنکھیں اندھی ہوگئیں۔ پھر فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ وہ اور ان کے گھر والے صبح ہونے سے پہلے اس بستی سے نکل جائیں، اور ان کے نکلتے ہی اس قوم پر ایک ہولناک عذاب نازل ہوگیا۔ بائیبل میں بھی یہ واقعہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں " تب وہ اس مرد یعنی لوط پر پل پڑے اور نزدیک آئے تاکہ کواڑ توڑ ڈالیں۔ لیکن ان مردوں (یعنی فرشتوں) نے اپنے ہاتھ بڑھا کر لوط کو اپنے پاس گھر میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کردیا اور ان مردوں کو جو گھر کے دروازے پر تھے، کیا چھوٹے کیا بڑے، اندھا کردیا، سو وہ دروازہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے " (پیدائش:19 9۔ 11)۔ (تفہیم القرآن)


تیسرا رکوع

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ ﴿41﴾ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ ﴿42﴾ اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ ﴿43﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ ﴿44﴾ سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ﴿45﴾ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ ﴿46﴾ اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ ﴿47﴾ یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ﴿48﴾ اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ﴿49﴾ وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ ﴿50﴾ وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ﴿51﴾ وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ ﴿52﴾ وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ ﴿53﴾ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ ﴿54﴾ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ ۧ ۧ ﴿55ع القمر 54﴾
41. اور قوم فرعون کے پاس بھی ڈر سنانے والے آئے۔ 42. انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے۔ 43. (اے اہل عرب) کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (پہلی) کتابوں میں کوئی فارغ خطی لکھ دی گئی ہے۔ 44. کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی مضبوط ہے۔ 45. عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ 46. ان کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہے۔ 47. بےشک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں۔ 48. اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے اب آگ کا مزہ چکھو۔ 49. ہم نے ہر چیز اندازہٴ مقرر کے ساتھ پیدا کی ہے۔ 50. اور ہمارا حکم تو آنکھ کے جھپکنے کی طرح ایک بات ہوتی ہے۔ 51. اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟ 52. اور جو کچھ انہوں نے کیا، (ان کے) اعمال ناموں میں (مندرج) ہے۔ 53. (یعنی) ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے۔ 54. جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ 55. (یعنی) پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں۔

تفسیر آیات

45۔شکست  کی پیش   گوئی   ، جبکہ حالات   (  کچھ   مسلمان  حبش میں  اور کچھ  شعب  ابی طالب  میں  )  ۔حضرت   عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی   روایت    ہےکہ حضرت   عمر رضی اللہ  تعالی عنہ فرماتے   تھے  کہ اس   آیت   کی سمجھ  نہیں  آتی   تھی   کہ  کونسی   جمعیت    شکست   کھائے   گی ؟  مگر   غزوہ   بدر  میں  کفار   بھاگ  رہے  تھے  کہ حضور ؐ  زرہ  پہنے   یہی  آیت  (45 )   پڑھ  رہے  تھے ۔(تفہیم القرآن)

ــــ یہ پیش گوئی اس وقت کی گئی جب مسلمان شعب ابی طالب میں محصور تھے اور بدر کے دن پوری ہوئی :۔سیدنا عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن آپؐ ایک خیمہ میں مقیم تھے۔ آپؐ نے یوں دعا فرمائی: یا اللہ ! میں تجھے تیرے عہد اور وعدہ کی قسم دیتاہوں،یا اللہ! اگر تو چاہے تو (ان تھوڑے سے مسلمانوں کو ہلاک کردے)تو پھر آج کے بعد کوئی تیری پرستش کرنے والا نہ رہے گا"۔پھر سیدنا ابوبکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا:یا رسول اللہؐ اب بس کیجئے، آپ نے اپنے پروردگار سے التجا کرنے میں حد کردی۔ آپؐ اس دن زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے تو یہ آیت پڑھ رہے تھے۔"سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ"(بخاری،کتاب التفسیر)اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ انتقام لینے والے خود اللہ کے انتقام کا شکار ہوگئے۔ستر بڑے بڑے کافر موت کے گھاٹ اترے اور اتنے ہی بھاگتے بھاگتے گرفتار ہوگئے۔(تیسیر القرآن)

49۔ یعنی دنیا کی کوئی چیز بھی اَلَل ٹپ نہیں پیدا کردی گئی ہے، بلکہ ہر چیز کی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق وہ ایک مقرر وقت پر بنتی ہے، ایک خاص شکل اختیار کرتی ہے، ایک خاص حد تک نشو و نما پاتی ہے، ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے، اور ایک خاص وقت پر ختم ہوجاتی ہے۔ اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق خود اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق ایک وقت خاص تک یہ چل رہی ہے اور ایک وقت خاص ہی پر اسے ختم ہونا ہے۔ جو وقت اس کے خاتمہ کے لیے مقرر کردیا گیا ہے نہ اس سے ایک گھڑی پہلے یہ ختم ہوگی، نہ اس کے ایک گھڑی بعد یہ باقی رہے گی۔ یہ نہ ازلی و ابدی ہے کہ ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ قائم رہے۔ اور نہ کسی بچے کا کھلونا ہے کہ جب تم کہو اسی وقت وہ اسے توڑ پھوڑ کر دکھا دے۔ (تفہیم القرآن)

50۔یعنی قیامت برپا کرنے کے لیے ہمیں کوئی بڑی تیاری نہیں کرنی ہوگی اور نہ اسے لانے میں کوئی بڑی مدت صرف ہوگی۔ (تفہیم القرآن)

55۔ عِنْدَ۔ قربِ الٰہی سے مراد قربِ معنوی ہے نہ کہ قرب مادّی۔(تفسیر ماجدی)