57 - سورة الحديد (مدنیہ)
| رکوع - 4 | آیات - 29 |
مضمون: اہل ایمان جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کرکے سابقین کی صف میں شامل ہوں۔دنیا کی محبت ان کو پست حوصلہ نہ کرنے پائے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون:" لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ " صحیح عقیدہ توحید کے ساتھ ، نفاق ، حب دنیا ، بخل اور رہبانیت سے بچتے ہوئے جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کرنا چاہئے تاکہ ایسی اسلامی حکومت قائم ہو جائے جو تمام پیغمبروں کی طرح عدل و انصاف کرسکے ۔ السابقون اور اصحاب الیمین کے اوصاف بھی اس سورۂ میں بیان کئے گئے ہیں ۔
مسبحات : اگلی دس سورتیں مدنی ہیں جن میں پانچ مسبحات ہیں ۔
ـــ یہ و ہ سورتیں ہیں جو سبح ، یسبح سے شروع ہوتی ہیں ( ماضی اور مضارع کی اہمیت ) حضور ؐ سونے سے پہلے ان کی تلاوت کرتے تھے ۔ ان میں ایک آیت ہزار آیتوں سے بہتر ہے ۔ ( ترمذی ) ابن کثیر ؒ کے مطابق وہ آیت سورۂ الحدید کی یہ آیت (3 ) ہے۔ " هُوَالْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُوَالْبَاطِنُ وَهُوَبِكُلِّ شَيْءٍعَلِيمٌ " اس کے زمانہ نزول کے وقت ( جنگ احد کے بعد 4 تا 6 ہجری ) لا تعداد نئے لوگوں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے جذبہ جہاد کم ہوگیا ۔ اس لئے آج کے مسلمانوں کیلئے بھی یہ قرآن کا اہم ترین حصہ ہے ۔ سورۂ الحدید کو ام المسبحات بھی کہا جاتا ہے ۔
نام : آیت نمبر 25 کے فقرے " أَنْزَلْنَاالْحَدِيدَ " سے اس کا نام لیا گیا ہے ۔
شان نزول: دیگر مدنی سورتوں کی طرح اس سورۂ میں بھی انفاق فی سبیل اللہ، رجوع الی اللہ ،جہاد اور اسلامی نظام کے قیام اور اسکی برکات کا تذکرہ ملتا ہے ۔ دنیا کی بے ثباتی اور یہاں کی آرائش و زیبائش اور دولت کی ریل پیل پر ریجھ جانے والوں کی کم عقلی پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے ۔ سورۂ کے آخر میں رہبانیت کی بدعت کا ذکر کیاگیا ہے جو حضرت عیسی ؑ کے پیرو کاروں نے خود سے اختیار کرلی تھی ۔
نظم کلام: سورۂ قٓ
ترتیب مطالعہ و اہم مضامین : (1 ) ر -1/2 ( غلبہ حق کیلئے ایمان و انفاق کی اہمیت ) (2 ) ر -3 ( زرپرستوں کیلئے دنیا کی زندگی اور قیام عدل کیلئے لوہے یعنی طاقت کی حکمت ) (3 ) ر – 4 ( ایمان کے ثمرات ) ۔
اہم مضامین کی ایک اور ترتیب اور تجزیہ: (1 ) آیات : 1 تا 6 ( ذات و صفات باری تعالی - انتہائی جامعیت اور اعلے ترین علمی سطح پر ) (2 ) آیات : 7 تا 12 ( خالق کائنات کے انسانوں سے دو تقاضے : ایمان اور انفاق جو کر گزریں ان کا اعزاز و اکرام : عطائے نور ۔ بشارت جنت اور فوز عظیم ) (3 ) آیات : 13 تا 15 ( ان مطالبات سے پہلو تہی کا نتیجہ : نفاق ) (4 ) آیات : 16 تا 19 ( مسلمانوں کو آمادہ عمل کرنیکے لئے ترغیب و ترتیب - سلوک قرآنی کا اصل الاصول : انفاق - ترقی کے امکانات : صدیقیت و شہادت کا حصول ) (5 ) آیات : 20 تا 21 ( آخرت بمقابلہ دنیا - مسابقت الی الجنت ) (6 ) آیات : 22 تا 25 ( ایمان حقیقی کے مضمرات : تسلیم و رضا - ایتاء مال اور جہاد و قتال کے ذریعے اللہ اور اسکے رسولوں کی نصرت ) (7 ) آیات : 26 تا29 ( دوسری انتہائی غلطی ( نفاق کے بعد ) متبعین مسیح کی اختیار کردہ بدعت ( ترک دنیا و رہبانیت ) نجات اور فوز و فلاح کی راہ : اتباع حضورؐ ) ( ڈاکٹر اسرار احمد )
کلیدی مضمون:۔ " اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ" (آیت: 20)یہاں دنیا کی زندگی کے مختلف مراحل کو چھ(6)لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔(a)"لَعِب"سے مراد ،چھوٹے بچوں کےکھیل ہیں،جن میں لذت نہیں ہوتی۔(b)"لھو"وہ کھیل ہیں، جن میں لذت ہوتی ہے،جو بلوغت کے بعد نوجوانوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں، اس میں موسیقی بھی شامل ہے۔۔(c) "زِینَۃ"سے مراد ،ٹیہ ٹاپ ،میک اپ اور آرائش و زیبائش کے وہ تمام رویے ہیں، جو اس کے اگلے مرحلے میں جنم لیتے ہیں۔(d)"تَفَاخُر"سے مراد، انسان کا ایک دوسرے پر فخر جتانا ہے اور اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھنا ہے۔(e)"تَکَاثُر فِی الَاموَالِ"سے مراد، مال کی دوڑ دھوپ میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مگن ہوجاناہے۔(f)"تَکَاثُرفِی الاَولَادِ"سے مراد،اولاد کی کثرت میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ذہنیت ہے۔اس سورت میں"نور"کا لفظ کئی بار استعمال کیا گیا ہے۔اہل کتاب اگر آخری رسول پر ایمان لائیں گے تو اللہ انہیں بھی وہ"نور"عطاکرے گا،جس کی روشنی میں وہ چل سکیں گے(آیت: 28)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿1﴾ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿2﴾ هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ﴿3﴾ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴿4﴾ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿5﴾ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿6﴾ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ ﴿7﴾ وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿8﴾ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴿9﴾ وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ ۧۧ ﴿10ع الحديد 57﴾ |
| 1. جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔ 2. آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ (وہی) زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 3. وہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) پچھلا اور (اپنی قدرتوں سے سب پر) ظاہر اور (اپنی ذات سے) پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے۔ 4. وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ 5. آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ اور سب امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ 6. رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔ 7. (تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔ 8. اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے۔ 9. وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ بےشک خدا تم پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔ 10. اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت خدا ہی کی ہے۔ جس شخص نے تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی وہ (اور جس نے یہ کام پیچھے کئے وہ) برابر نہیں۔ ان کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے بعد میں خرچ (اموال) اور (کفار سے) جہاد وقتال کیا۔ اور خدا نے سب سے (ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے واقف ہے۔ |
تفسیر آیات
- آیت :8 ( تحریکی نقطہ نظر سے اہم ) ۔۔۔ عوام الناس کیلئے ( آیت: 10 ابتدائی ہدایات ) ۔
ــــ منتخب نصاب: آیات۔8، 10 اور 16
1۔یہاں سَبَّحَ صیغہ ماضی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض دوسرے مقامات پر یُسَبِّحُ صیغہ مضارع استعمال ہوا ہے جس میں حال اور مستقبل دونوں کا مفہوم ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہمیشہ اپنے خالق و رب کی پاکی بیان کرتا رہا ہے، آج بھی کر رہا ہے، اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔۔۔۔۔عزیز کے معنی ہیں ایسا زبردست اور قادر و قاہر جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔۔۔۔اور حکیم کے معنی یہ ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے حکمت اور دانائی کے ساتھ کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
4۔ (غرض یہ کہ وہ ہرطرح اور ہراعتبار سے ہمہ داں، ہمہ بیں ہے) مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ۔مثلاً بارش کا پانی۔ مَا یَخْرُ جُ مِنْهَا۔ مثلا نباتات۔ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ۔مثلاً ملائکہ اور احکامِ تشریعی اور تکوینی۔ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا۔ مثلاً ملائکہ اور اعمالِ صالحہ۔(تفسیر ماجدی)
۔ بالفاظ دیگر وہ محض کلیات ہی کا عالم نہیں ہے بلکہ جْزئیات کا علم بھی رکھتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
7۔یہ خطاب غیر مسلموں سے نہیں ہے، بلکہ بعد کی پوری تقریر یہ ظاہر کر رہی ہے کہ مخاطب وہ مسلمان ہیں جو کلمہ اسلام کا اقرار کر کے ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہوچکے تھے، مگر ایمان کے تقاضے پورے کرنے اور مومن کا سا طرز عمل اختیار کرنے سے پہلو تہی کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت دینے کے ساتھ ہی فوراً ان سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے مصارف میں دل کھول کر اپنا حصہ ادا کرو، اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم میں سے جو فتح سے پہلے جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ کرے گا اس کا درجہ ان لوگوں سے بلند تر ہوگا جو بعد میں یہ خدمات انجام دیں گے۔ غیر مسلم کو دعوت ایمان دینے کی صورت میں تو پہلے اس کے سامنے ایمان کے ابتدائی تقاضے پیش کیے جاتے ہیں نہ کہ انتہائی۔ اس لیے فحوائے کلام کے لحاظ سے یہاں اٰمِنُوْا باللہِ وِرَسْوْلِہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوگئے ہو، اللہ اور اس کے رسول کو سچے دل سے مانو اور وہ طرز عمل اختیار کرو جو اخلاص کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔ اس مقام پر خرچ کرنے سے مراد عام بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا نہیں ہے، بلکہ آیت نمبر 10 کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں اس سے مراد اس جد و جہد کے مصارف میں حصہ لینا ہے جو اس وقت کفر کے مقابلے میں اسلام کو سر بلند کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں برپا تھی۔ خاص طور پر دو ضرورتیں اس وقت ایسی تھیں جن کے لیے اسلامی حکومت کو مالی مدد کی سخت حاجت در پیش تھی ایک، جنگی ضروریات۔ دوسرے، ان مظلوم مسلمانوں کو سہارا دینا جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر عرب کے ہر حصے سے ہجرت کر کے مدینے آئے تھے اور آ رہے تھے۔ (تفہیم القرآن)
8۔ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ ۔ میثاق سے مراد بیعت رسول ؐ بھی سمجھی گئی ہے اور میثاق صلبِ آدمؑ بھی لی گئی ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔بعض مفسرین نے اس عہد سے مراد اللہ کی بندگی کا وہ عہد لیا ہے جو ابتدائے آفرینش میں آدم ؑ کی پشت سے ان کی ذریت کو نکال کرلیا گیا تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد وہ عہد لیا ہے جو ہر انسان کی فطرت اور اس کی فطری عقل میں اللہ کی بندگی کے لیے موجود ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا وہ شعوری عہد ہے جو ہر مسلمان ایمان لا کر اپنے رب سے باندھتا ہے۔(تفہیم القرآن)
۔ تمہارا حال یہ ہے کہ رسول، اللہ کی راہ میں انفاق کی دعوت دے رہا ہے اور تم منہ چھپاتے پھر رہے ہو ! تو یہ کس قسم کا عہد اور کس نوع کا ایمان ہے !(تدبرِ قرآن)
9۔ یعنی رسول ؐ تمہیں انفاق کی دعوت دے رہے ہیں کہ تمہیں خواہشات نفس اور حب دنیا کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور حب آخرت کی روشنی میں لائے ۔(تدبرِ قرآن)
10۔ کمزور مسلمانوں کو انفاق پر ابھارا ہے ۔(1 ) آسمان و زمین کی تمام چیزوں کا مالک اللہ ہے اور انسان کے پاس جو کچھ ہے اسکے خلیفہ اور امین کی حیثیت سے ہے ۔ (2 ) حالات کے تغیر سے اعمال کی قدر و قیمت میں بڑا فرق ہوجاتا ہے جیسے فتح مکہ سے پہلے اور بعد ( یا آجکل کے مسلمانوں کے حالات میں انفاق اور جہاد دونوں )( تدبر قرآن)
ــــ مذکورہ آیت کی روشنی میں علمانے کتب اصول حدیث میں یہ صراحت کی ہے کہ " الصحابہ کلھم عدول " ( سارے صحابہ عادل ہیں ) ۔(انوار القرآن)
۔ قَبْلَ الْفَتْحِ۔الفتح سے اکثر نے مراد فتح مکہ لی ہے۔۔۔۔۔اور بعض قول صلح حدیبیہ سے متعلق بھی ہیں۔(تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ ﴿11﴾ یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ ﴿12﴾ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ ﴿13﴾ یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ ﴿14﴾ فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ ﴿15﴾ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ﴿16﴾ اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ﴿17﴾ اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ ﴿18﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ ۧ ۧ ﴿19ع الحديد 57﴾ |
| 11. کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے تو وہ اس کو اس سے دگنا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی جنت) ہے۔ 12. جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان (کے ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو بشارت ہو (کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ 13. اُس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف سے (شفقت) کیجیئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور (وہاں) نور تلاش کرو۔ پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اس کی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (واذیت)۔ 14. تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔ لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزوؤں نے تم کو دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آ پہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغاباز دغا دیتا رہا۔ 15. تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ (وہ) کافروں ہی سے (قبول کیا جائے گا) تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ (کہ) وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ 16. کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتابیں دی گئی تھیں۔ پھر ان پر زمان طویل گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے۔ اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ 17. جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔ 18. جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی۔ اور خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دیتے ہیں ان کو دوچند ادا کیا جائے گا اور ان کے لئے عزت کا صلہ ہے۔ 19. اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا ، اور ان (کے ایمان) کی روشنی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں۔ |
تفسیر آیات
11۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کی امانت ہے ۔ اپنی امانت کی واپسی کو وہ قرض ٹھہرا رہا ہے اور گئی گنا بڑھا کر واپسی۔ مضاعفہ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے دگنا کرنا کیا ہے ۔ جو صحیح نہیں ۔ ۔۔۔۔ قرض حسن کی شرائط : (1 ) دل کی پوری فراخی اور بلند حوصلگی کے ساتھ نہ کہ دل کی تنگی کے ساتھ (2 ) اچھے مال میں سے (3 ) محض اللہ کی خوشنودی کیلئے (4 ) دیکر احسان نہ جتانا (5 ) دیکر دل آزاری نہ کرنا (6 ) ریا کاری نہ ہو (7 ) حلال مال سے (8 ) خود بھی اسکی اشد ضرورت ہو ۔ (9 ) پوشیدہ طور پردے ۔(تدبر قرآن)
ــــ جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اس کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک ملے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ اسکے علاوہ اجر عظیم بھی۔(ضیاء القرآن)
۔۔۔۔۔حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضور کی زبان مبارک سے لوگوں نے اس کو سنا تو حضرت ابو الدحداح انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے ؟ حضور نے جواب دیا، ہاں، اے ابو الدحداح۔ انہوں نے کہا، ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھایئے۔ آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا۔ انہوں نے آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا " میں نے اپنے رب کو اپنا باغ قرض میں دے دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے 600 درخت تھے، اسی میں ان کا گھر تھا، وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کر کے وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا ‘’ دحداح کی ماں، نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے " وہ بولیں " تم نے نفع کا سودا کیا دحداح کے باپ "، اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں (ابن ابی حاتم)۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخلص اہل ایمان کا طرز عمل اس وقت کیا تھا، اور اسی سے یہ بات بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ کیسا قرض حسن ہے جسے کئی گنا بڑھا کر واپس دینے اور پھر اوپر سے اجر کریم عطا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔(تفہیم القرآن)
ـــــ قرضِ حسنہ کے سلسلہ میں دس ہدایات:۔ قرض حسنہ سے مراد ہر وہ مال ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے اس کی ہدایات و احکام کے مطابق خرچ کیاجائے ۔خواہ وہ فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہو یا واجبی صدقات ہوں یا نفلی ہوں اور خواہ وہ فی سبیل اللہ جہاد میں خرچ کیا جائے یا کسی محتاج کی احتیاج کو دور کرنے کے لیے اسے دیا جائے ۔قرض حسنہ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل دس امور کا لحاظ رکھنا اسے افضل صدقہ بنادیں گے۔(1)حلال کمائی سے خرچ کیا جائے کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ قبول نہیں،(2)صدقہ میں ناقص مال نہ دے، (3)اس وقت صدقہ کرے جبکہ خود بھی اسے احتیاج ہو،(4)اپنی احتیاج پر دوسرے کی احتیاج کو مقدم رکھے،(5)صدقہ چھپا کردینا زیادہ بہتر ہے۔(6)صدقہ دینے کے بعد احسان نہ جتلائے اور نہ ہی کسی دوسری صورت میں اس کا معاوضہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔یہ باتیں صدقہ کو برباد کردیتی ہیں، (7)صدقہ میں نمود و نمائش یعنی ریا کا شائبہ تک نہ ہو۔یہ بات بھی صدقہ کو برباد کردیتی ہے،(8)اپنے دئیے ہوئے صدقہ کو حقیر جانے ۔صدقہ دے کر اس کا نفس اس نیکی پر پھول نہ جائے ،(9)اگر صدقہ میں اپنا بہترین اور پسندیدہ مال دے تو یہ اس کے اپنے حق میں بہت بہتر ہے۔(10)محتاج کو صدقہ دینے کے بعد یہ نہ سمجھے کہ میں نے اس پر احسان کیا ہے بلکہ یہ سمجھے کہ میرے مال میں اس کا یہ حق اداکیا ہے اور مستحق کو حق دے کر اپنے سرسے بوجھ ہلکا کیا ہے۔(تیسیر القرآن)
13۔ ۔۔۔اگر تم واپس دنیا میں جاسکتے ہو تو جاؤ اور وہاں یہ روشنی تلاش کرو۔۔۔۔۔واپس اس مقام پر چلے جاؤ جہاں یہ نور تقسیم ہواتھا اور وہاں جاکر اپنے لیے روشنی کی تلاش کرو،اگر کرسکو۔(تیسیر القرآن)
15۔یہاں اس امر کی تصریح ہے کہ آخرت میں منافق کا انجام وہی ہوگا جو کافر کا ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
16۔ امام اعمش ؒ نے فرمایا کہ مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو کچھ معاشی سہولتیں اور آرام ملا تو بعض حضرات میں عمل کی جدوجہد جو انکی عادت تھی اس میں کچھ سستی اور کمی پائی گئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( روح المعانی) (معارف القرآن)
ــــ مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں: ایک خشوع کا لزوم و دوام ۔ دوسرے یہ کہ طولِ غفلت سے قساوتِ قلب پیدا ہوجاتی ہے۔تیسرے یہ کہ قساوت کا علاج ذکر اللہ کی کثرت ہے۔(تھانوی،ج2/ص: 621)(تفسیر ماجدی)
18۔ مردوں کے ساتھ عورتوں کے ذکر کی اہمیت -بیوی بچے بخل اور بزدلی کے بڑے اہم عوامل میں سے ہیں۔۔۔۔۔۔۔یہاں انفاق کے لیے صدقہ اور قرض کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ پہلا فاعل یا صفت کی شکل میں دوسرا فعل کی صورت میں۔ اس اختلاف کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ ایک انفاق تو وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہے اور جو تزکیہ نفس کے پروگرام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ دوسرا وہ انفاق ہے جس کا مطالبہ کسی ناگہانی ضرورت کے موقع پر ملت کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے۔ پہلے کو یہاں صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے لیے فاعل اور صفت کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لیے کہ وہ دواماً مطلوب ہے۔ دوسرے کو قرض سے تعبیر فرمایا ہے۔ جو عند الضرورت دیا جاتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ (تدبرقرآن)
19۔ صدیق کی گواہی کے دومفہوم:۔ایسے ہی صدیق لوگ قیامت کے دن دوسرے لوگوں پر گواہ بنیں گے ۔پھر اس کے بھی دوپہلوہیں۔ایک یہ کہ انہوں نے اپنے قول اور عمل سے نمونہ بن کر سب لوگوں پر واضح کردیا کہ اللہ اور اس کے رسول پر صحیح طورپر ایمان لانے کے یہ اثرات انسان پر مرتب ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے دربار میں یہ گواہی دیں گے کہ ہم نے فلاں فلاں شخص کو دعوت حق دی تھی اور اس کے ردعمل کے طورپر انہوں نے ایسے ایسے جواب دیے تھےاور ہمارے خلاف فلاں فلاں مظالم ڈھائے تھے،بعض مفسرین اس آیت میں واو عاطفہ قرارنہیں دیتے۔ان کے نزدیک یہ دو الگ الگ اور مستقل جملے ہیں۔پہلا جملہ صدِّیقون پر ختم ہوجاتاہے اور والشھداءُ سے دوسرا جملہ شروع ہوتاہے۔ اس صورت میں وہ شہداء سے مراد راہ حق میں شہید ہوجانے والے لیتے ہیں۔میرے خیال میں پہلا مفہوم ربطِ مضمون سے زیادہ مطابقت رکھتاہے۔(تیسیر القرآن)
۔اسلام میں اس وصف کے سب سے نمایاں مصداق حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ انہوں نے اسے اقرار ایمان کی صداقت، نازک سے نازک زمانے میں، اپنے انفاق سے جس طرح ثابت کی ہے وہ ہماری تاریخ کا سب سے زیادہ روشن باب ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ اور آیت میں لفظ "هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ" جو کلمہ حصر ہے یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ صدیقیت صحابہ کرام میں منحصر ہے، حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ صحابہ کرام سب کے سب کمالات نبوت کے حامل تھے، جس شخص نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کو ایمان کے ساتھ دیکھ لیا، وہ کمالات نبوت میں مستغرق ہوگیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ (معارف القرآن)
تیسرا رکوع |
| اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ﴿20﴾ سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ﴿21﴾ مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ ﴿22﴾ لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ ﴿23﴾ اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ﴿24﴾ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ ﴿ 25 الحديد 57﴾ |
| 20. جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت (وآرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (وستائش) اور مال واولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اُگتی اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے۔ 21. (بندو) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی (طرف) جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ اور جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو۔ یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔ 22. کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔ (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے۔ 23. تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہو اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو۔ اور خدا کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔ 24. جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپروا (اور) وہی سزاوار حمد (وثنا) ہے۔ 25. ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے۔ |
تفسیر آیات
20۔ زندگی کے مختلف مراحل : ( 1 ) لعب ، کھیل کود ( بچپن ) (2 ) لھو ،عیش و عشرت ( لڑکپن ) (3 ) زینت ، کلچر ۔ خوش ذوقی ، خوش لباسی ( نوجوانی ، اٹھتی جوانی ) (4 ) تفاخر ( بھرپور جوانی ) (5 ) تکاثر مال و اولاد کی کثرت ( ڈھلتی جوانی اور بڑھاپا - قبر تک ) (بیان القرآن)
ـــ دنیوی زندگی کے دامن میں جو رنگین کھلونے ہیں - دنیاوی زندگی عبارت ہے لہو و لعب سے جو بچوں کا کام ہے ، زینت و آرائش جو عورتوں کا شیوہ ہے ( یا عورت نما مردوں کا ) تفاخر و تکاثر جس میں احمق اور نادان لوگ ہی اپنے آپکو مشغول رکھ سکتے ہیں ۔ اے بندہ مومن ! تیری زندگی بہت قیمتی ہے ۔ اسے ان میں ضائع مت کر۔ (ضیا ء القرآن)
21۔ اور مسابقت کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ نیک اعمال میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی نصائح میں فرمایا کہ : تم مسجد میں سب سے پہلے جانے والے اور سب سے آخر میں نکلنے والے بنو ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جہاد کی صفوف میں سے پہلی صف میں رہنے کیلئے بڑھو ۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ باجماعت نماز میں پہلی تکبیر میں حاضر رہنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔ جنت کی تعریف میں فرمایا کہ اس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہوگا ۔ سورۂ آل عمران میں لفظ سمٰوات جمع کے ساتھ آیا ہے ۔ ساتوں آسمانوں اور زمین کی وسعت ایک جگہ جمع کرلو تو وہ جنت کا عرض یعنی چوڑائی ہوگا ۔ لفظ عرض کبھی مطلق وسعت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ (معارف القرآن)
ــــ جنت کی وسعت:۔ یہاں یہ فرمایا کہ جنت کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے اور سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر 133 میں فرمایا کہ جنت کا عرض تمام آسمانوں اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔حالانکہ ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک بھی لاکھوں میل کا فاصلہ ہے۔ اس سے واضح ہوتاہے کہ یہاں جنت کا رقبہ بتانا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ محاورتاً استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مقصود صرف جنت کی وسعت کا تصور دلاناہے۔ جو یہ ہے کہ زمین و آسمان کو تو تم دیکھ ہی رہے ہو جنت ان سب آسمانوں اور زمین سے بھی بڑی ہوگی۔لہذا تم دنیا کے بجائے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور اگر تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروگے تو تمہارے گناہ اور لغزشیں بھی اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا اور اتنی وسیع و عریض جنت بھی عطافرمائے گا۔رہی یہ بات کہ جس جنت کی وسعت یہاں بیان ہورہی ہے یہ سب اہل جنت کا حق ہوگا، یا ہر جنتی کو اتنی وسیع و عریض جنت ملے گی؟ تو استقصاء سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی ایک مخصوص رہائش گاہ ہوگی جیساکہ رسول اللہؐ نے معراج کی رات کو جنت میں سیدنا عمرؓ کا محل دیکھا تھا۔سیر و تفریح کے لحاظ سے ہر جنتی اتنی وسیع و عریض جنت میں جہاں چاہے گا جاسکے گا۔اور اس آمد و رفت میں اسے کوئی مشکل حائل نہ ہوگی نہ ہی اسے گاڑیوں یا جہازوں کی ضرورت پیش آئے گی۔(تیسیر القرآن)
22۔" اس کو " کا اشارہ مصیبت کی طرف بھی ہوسکتا ہے، زمین کی طرف بھی، نفس کی طرف بھی، اور فحوائے کلام کے لحاظ سے مخلوقات کی طرف بھی۔۔۔۔۔۔کتاب سے مراد ہے نوشتہ تقدیر۔ (تفہیم القرآن)
24۔ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ یہ اس طرح کے بخیلوں سے نہایت تہدید آمیز الفاظ میں اظہار بےنیازی و اعلان بیزاری ہے کہ اگر یہ لوگ اس تذکیرو تعلیم کے بعد بھی اعراض ہی کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ خدا بھی ان سے بالکل بےنیاز ہے۔ (تدبرِ قرآن)
25۔ موجودہ زمانے کیلئے اہم ترین آیت : ہندوستان کے ایک بہت بڑے عالم نے کہا کہ ہمیں انگریز کو تکلیف نہیں پہنچا نا چاہیئے اس نے ہمیں مذہبی آزادی دی -علامہ اقبال :
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد (بیان القرآن)
۔۔۔۔۔کِتٰب کے ساتھ ِمیزان کا ذکرمیرے نزدیک کتاب ہی کے سب سے بڑے مقصد کی وضاحت کے لیے ہے کہ وہ تول کر بتاتی ہے کہ کس کے ساتھ کتنا حق ہے اور اس میں کتنا غیر مطلوب اضافہ ہے۔ سورة ٔ شوریٰ میں کتاب الٰہی کے اس پہلو کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے۔۔۔۔۔۔اسی پہلو سے قرآن کو مھیمن بھی کہا گیا ہے۔ مھیمن کے معنی کسوٹی کے ہیں۔ یعنی قرآن ایک کسوٹی ہے جس پر پرکھ کر کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کیا جاتا ہے۔ عدل اور قسط کو قائم کرنے کے لیے میزان اور کسوٹی کا ہونا ضروری ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی یہ دونوں صفتیں واضح فرمائی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس ٹکڑے میں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ "باس" مقدم ہے لفظ منافع پر ۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے نزدیک لوہے کی اصل افادیت جہاد کی قوت فراہم کرنا ہے ۔ (اور پھر لفظ شدید ) ۔ اس کے دوسرے تعمیری اور تمدنی فوائد مزید برآں و ضمنی ہیں۔ (تدبر قرآن)
۔ اس آیت میں کتاب کی طرح میزان کے لئے بھی نازل کرنے کا ذکر فرمایا ہے، کتاب کا آسمان سے نازل ہونا اور فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچنا تو معلوم و معروف ہے، میزان کے نازل کرنے کا کیا مطلب ہے اس کے متعلق تفسیر روح المعانی مظہری وغیرہ میں ہے کہ انزال میزان سے مراد ان احکام کا نزول ہے، جو ترازو استعمال کرنے اور انصاف کرنے کے متعلق نازل ہوئے اور قرطبی نے فرمایا کہ دراصل انزال تو کتاب ہی کا ہوا ہے، ترازو کے وضع کرنے اور ایجاد کرنے کو اس کے ساتھ لگا دیا گیا ہے، جیسا کہ عرب کے کلام میں اس کی نظائر موجود ہیں تو گویا مفہوم کلام کا یہ ہے کہ اَنزَلنَا الکِتٰبَ وَ وَضَعنَا المِیزَانِ ”یعنی ہم نے اتاری کتاب اور ایجاد کی ترازو“ اس کی تائید سورة رحمان کی (آیت) (وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَ) سے بھی ہوتی ہے کہ اس میں میزان کے ساتھ لفظ وضع استعمال فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔ عدل و انصاف کیلئے اصل چیزیں قرآن اور میزان - مگر سرکش معاند جو نہ کسی دلیل سے مانتا ہے نہ ترازو کی تقسیم کے مطابق عمل کرنے کو تیار ہے اگر اسکو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ دنیا میں عدل وانصاف قائم نہ ہونے دےگا۔ اس کو پابند کرنا لوہے اور تلوار کا کام ہے ۔ جو حکومت و سیاست کرنے والے آخر میں بدرجہ مجبوری استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس سے ثابت ہوا کہ خلق خدا کی اصل اصلاح اور ان کا عدل و انصاف پر قائم کرنا درحقیت ذہنوں کی تربیت اور تعلیم سے ہوتا ہے، حکومت کا زور زبردستی دراصل اس کام کے لئے نہیں، بلکہ راستہ سے رکاوٹ دور کرنے کے لئے بدرجہ مجبوری ہے، اصل چیز ذہنوں کی تربیت اور تعلیم و تلقین ہے۔ (معارف القرآن)
۔ اسی لوہے سے تلوار بنتی ہے جسکی بابت کہا گیا ہے کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے ۔ (بخاری )
نہ مسجد میں نہ مندر میں نہ بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میں نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں(احسن الکلام)
۔فتنہ و فساد کی روک تھام، دین کے غلبہ اور نظامِ عدل کے قیام کے لیے تین چیزوں کی ضرورت :قوانینِ الٰہیہ ،میزان اور قوت نافذہ:۔ دنیا میں فتنہ و فساد کو روکنے کے لیے تین باتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس آیت میں بیان کردی گئی ہیں۔ واضح نشانیوں سے مراد ایسے دلائل ہیں جن سے یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی یہ رسول برحق اور اس پر نازل شدہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور واضح نشانات بھی اسی کتاب میں مذکور وموجود ہیں۔یعنی اس کتاب میں پر امن زندگی، فتنہ و فساد کی روک تھام اور اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے قوانین بیان کیے گئے ہیں۔میزان سے مراد ماپ تول کے پیمانے بھی ہیں۔تاکہ لوگوں کو ان کے حقوق پورے پورے اداکیے جاسکیں اور نظام عدل کو قائم کرنے کے تقاضے اور ہدایات بھی جو کتاب و سنت میں تفصیل سے مذکور ہیں۔اور لوہاسے مراد ڈنڈا یاطاقت اور قوت نافذہ بھی ہے جو عدالتوں کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ جو لوگ لاتوں کے بھوت ہوں وہ باتوں سے کبھی نہیں مانتے اور جنگی یا سیاسی قوت اور سامان جنگ بھی جو بالعموم لوہے سے ہی تیار کیا جاتاہے جیسے توپ و تفنگ ،تیر،تلوار، میزائیل، بندوقیں، رائفلیں، اور کلاشنکوفیں وغیرہ ۔تاکہ ان رکاوٹوں کو دورکیا جاسکے جو اسلام کے نفاذ کی راہ میں حائل ہوں۔ ربطِ مضمون کے لحاظ سے لوہا سے مراد اسلحہ اور جنگی قوت لینا ہی زیادہ مناسب ہے۔یہ تینوں چیزیں ہر رسول کو عطا کی گئیں جو کہ نظامِ عدل کے قیام اور اللہ کے دین کے نفاذ اور فتنہ و فساد کے قلع قمع کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔(تیسیر القرآن)
۔ الْبَیِّنٰت کے تحت احکام، ہدایات ،دلائل و معجزات سب آگئے۔(تفسیر ماجدی)
چوتھا رکوع |
| وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ۧ﴿26 ﴾ ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ﴿27﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚ ۙ ﴿28﴾ لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ ۧ ۧ ﴿29ع الحديد 57﴾ |
| 26. اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں۔ اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں۔27 . پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ اور لذات سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیئے تھا نباہ بھی نہ سکے۔ پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں۔ 28. مومنو! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کردے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 29. (یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔ |
تفسیر آیات
27۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ رأفت شدت رحمت کو کہا جاتا ہے گو یا عام رحمت سے یہ مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ غرض رأفت کا تعلق دفع مضرت کے ساتھ ہے اور رحمت کا جلب منفعت سے ۔ دفع مضرت مقدم اس لئے رأفت کو رحمت سے مقدم بولا جاتاہے۔(معارف القرآن)
۔ رَهْبَانِیَّة - مکمل مضمون - 326 – 329 (معارف القرآن)
۔ لا رھبانیۃ فی الاسلام ( مسند احمد ) حضور ؐ نے فرمایا رھبانیۃ ھذہ الامۃ الجھاد فی الاسلام ( مسند احمد ) بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت - ایک صاحب نے کہا میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا ، دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا کہ کبھی شادی نہ کروں گا ، حضور ؐ نے سنا اور فرمایا خدا کی قسم میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا اور اس کا تقویٰ اختیار کرتا ہوں مگر میرا طریقہ یہ ہے کہ روزہ رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا، راتوں کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ جس کو میرا طریقہ پسند نہ ہو اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ۔(تفہیم القرآن)
۔ رہبانیت پر ایک جامع مضمون ۔(325 ۔ 333) ۔ (تفہیم القرآن) ۔۔۔رہبانیت : 127 – 131 (ضیا ء القرآن) رہبانیت اور عیسائی اعتقادات ۔ 231 - 235( تدبر قرآن)
ــــ واقعہ جریج:۔ ایسے ہی ایک راہب ابن جریج کا واقعہ بخاری اور مسلم میں مذکور ہے۔ابن جریج نے جنگل میں کٹیا بنارکھی تھی۔ مامتا ماری ماں اسے ملنے آئی اور اسے پکارا ۔وہ عبادت میں مصروف تھا۔ ماں کی آواز سن کر اور اسے پہچان کر بھی وہ اپنی عبادت میں مصروف رہا اورماں کی پکار کو کوئی اہمیت نہ دی۔ دوسرےدن پھر اس کی ماں آئی۔پھر اس نے کوئی توجہ نہ دی۔تیسرے دن پھر ایسا ہی واقعہ ہوا تو ماں کو اس بات کا اتنا صدمہ ہوا کہ اس کے منہ سے اپنے اس درویش بیٹے کے حق میں بے اختیار یہ بددعا نکل گئی کہ الٰہی جب تک میرا یہ بیٹا کسی فاحشہ عورت کا منہ نہ دیکھ لے اسے موت نہ آئے۔ دکھیاری ماں کے منہ سے نکلی ہوئی بددعا بھلا رائیگاں کب جاسکتی تھی؟ ابن جریج اپنی عبادت اور خدا ترسی میں اتنا مشہور تھا کہ بنی اسرائیل کے اکثر لوگ اس سے حسد کرنے لگے تھے اور چاہتے تھے کہ ابن جریج پر کوئی ایسا الزام لگے جس سے اس کا بلند مقام چھن جائے ۔اور اسی مقصد سے خفیہ مشورے بھی ہونے لگے۔ ایک بدنام زمانہ فاحشہ عورت نے ،جو حسن و جمال میں اپنی نظیر نہیں رکھتی تھی،اس خدمت کو سرانجام دینے کا ذمہ لیا اور اسی غرض سے اپنے آپ کو ابن جریج پر پیش کردیا۔ جسے ابن جریج نے رد کردیا۔ اس پر یہ اپنے حسن و جمال پر ناز کرنے والی عورت سیخ پاہوگئی اور اس بے اعتنائی اور ہتک کا انتقام لینے پر اتر آئی ۔اس نے اپنے آپ کو ایک چرواہے پر پیش کیا جس سے اسے حمل ہوگیا۔ جب بچہ پیدا ہوا تو اس نے یہ مشہور کردیا کہ یہ حمل ابن جریج راہب سے ہواتھا۔بس پھر کیا تھا۔ لوگ دوڑ ے آئے اور بلا تامل ابن جریج کو مارنا پیٹنا شروع کردیا اور اس کی کٹیا کو منہدم کردیا۔ ابن جریج نے وجہ پوچھی تو لوگوں نے سارا ماجرا بتادیا ابن جریج کہنے لگے۔ تھوڑی دیر ٹھہرو۔لوگ رک گئے تو اس نے وضو کیا اور عبادت میں مشغول ہوا اور اللہ سے بصد گریہ و زاری اپنی بریت کی دعاکی۔ماں کی بددعا تو قبول ہوہی چکی تھی۔ اب اللہ نے اس پر رحم فرماکر اس کی بھی دعا قبول فرمالی ۔پھر جب وہ لوگوں کے پاس آیا تو وہ فاحشہ عورت بمعہ بچہ وہاں کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی۔ابن جریج نے اس بچہ کے پیٹ میں کچوکادے کر پوچھا کہ بتا تیرا باپ کون ہے؟ بچہ قدرت الٰہی سے بول اٹھا:"فلاں چرواہا"تب جاکر لوگوں نے ابن جریج کا پیچھا چھوڑا ۔ ان میں سے بعض اس سے معافی مانگنے لگے اور کہنے لگے: اگر کہو تو تمہیں سونے کی کٹیا بنادیں۔لیکن ابن جریج نے کہا: بس مجھے ویسی ہی مٹی کی کٹیا بنادو۔(مسلم۔ کتاب البر والصلۃ۔باب تقدیم بر الوالدین)(تیسیر القرآن)
28۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنْوْا، کا خطاب ان لوگوں سے ہے جو حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اب محمد ﷺ پر ایمان لاؤ، تمہیں اس پر دہرا اجر ملے گا، ایک اجر ایمان بر عیسیٰ کا اور دوسرا اجر ایمان بر محمد کا۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہ خطاب محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں سے ہے۔ ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ تم محض زبان سے آپ کی نبوت کا اقرار کر کے نہ رہ جاؤ، بلکہ صدق دل سے ایمان لاؤ اور ایمان لانے کا حق ادا کرو۔ اس پر تمہیں دہرا اجر ملے گا۔ ایک اجر کفر سے اسلام کی طرف آنے کا، اور دوسرا اجر اسلام میں اخلاص اختیار کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)