69 - سورة الحاقہ (مکیہ)

رکوع - 2 آیات - 52

مضمون: قرآن اور رسولوں کی مخاطب قوموں کےانجام سے عذاب قیامت کا اثبات۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: قرآن پر ایمان لاکر اعمالِ صالحہ اختیار کرنا چاہئے ،تاکہ انسان سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال حاصل کرنے والا خوش نصیب بن سکے ۔

نام: پہلی ہی آیت سے اس کا نام لیا گیا ہے۔اس سے مراد قیامت ہے ۔حاقہ کا لفظی معنیٰ ہے یقیناً وقوع پذیر ہونے والی چیز ۔ہماری زبان میں اُسے ہونی شدنی کہا جاتاہے۔سورۂ کا پورا مضمون قیامت ہی سے متعلق ہے۔

شانِ نزول: یہ سورت اعلانِ عام کے بعد ،حضورؐ کے قیام مکہ کے دوسرے دور (4تا5سن نبوی ) کے آخر میں نازل ہوئی جب آپؐ پر الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی تھی۔یہی سورت حضرت عمرؓ کے دل میں ایمان کی لوجگانے کا ذریعہ بنی ۔حضرت عمرؓ خود روایت کرتے ہیں کہ میں آخر رات طواف کی نیت سے حرم میں داخل ہوا ۔حضورؐ قرآن پڑھ رہے تھے ۔میرے دل میں آپکو تنگ کرنے کا خیال آیا ۔ سوچا کہ پہلے سنا جائے کہ آپؐ کیا پڑھ رہے ہیں ۔کعبہ کے پردے کے اندر داخل ۔کلام کی عظمت سے متاثر ۔خیال آیا کہ آپؐ واقعی عظیم شاعرہیں۔یہ شاعر کا قول نہیں (41)پھر ضرور کاہن۔نہ یہ کاہن کا قول ہے(42)شاعرو کاہن نہیں تو کیا ؟ یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے(43) ایمان دل میں گھر کرگیا۔آخر ی چوٹ بہن کےگھر پر۔(انوار القرآن)

نظمِ کلام: سورۂ ملک

ترتیب مطالعۂ و اہم مضامین: (1)ر۔1(قیامت کا بیان اور گذشتہ اقوام کے احوال) ۔(2) ر۔2(قرآن برحق صرف متقیوں کیلئے ہے)

سورۃ کے مطالب کا تجزیہ: سورۃ کے مطالب کی ترتیب کچھ اس طرح ہے

(1سے 12) تکذیبِ رسول کے نتیجہ میں عذاب اورقیامت کے شدنی اور اٹل ہونے پر رسولوں اور ان کی قوموں  کی تاریخ کی گواہی۔

(13 سے 18) ہولِ قیامت کا تصور۔

(19 سے 37) اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کے انجام کی تفصیل۔

(38 سے 52) قرآن کی عظمت و صداقت کا بیان کہ یہ کسی  شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہے بلکہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔ جو لوگ اس کے انذار  کی تکذیب کر رہے ہیں وہ اس کا انجام دور تک  سوچ لیں۔                                                                            (تدبرِ قرآن)


پہلا رکوع

اَلْحَآقَّةُۙ  ﴿1﴾ مَا الْحَآقَّةُۚ  ﴿2﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ  ﴿3﴾ كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ ﴿4﴾ فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ ﴿5﴾ وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ  ﴿6﴾ سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ  ﴿7﴾ فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ ﴿8﴾ وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ  ﴿9﴾ فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً ﴿10﴾ اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ  ﴿11﴾ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ ﴿12﴾ فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ  ﴿13﴾ وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ  ﴿14﴾ فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ  ﴿15﴾ وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ  ﴿16﴾ وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ  ﴿17﴾ یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ ﴿18﴾ فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ  ﴿19﴾ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ  ﴿20﴾ فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ  ﴿21﴾ فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ  ﴿22﴾ قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ ﴿23﴾ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ ﴿24﴾ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ  ﴿25﴾ وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ  ﴿26﴾ یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ  ﴿27﴾ مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ  ﴿28﴾ هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ  ﴿29﴾ خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ  ﴿30﴾ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ  ﴿31﴾ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ  ﴿32﴾ اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ  ﴿33﴾ وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ  ﴿34﴾ فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ  ﴿35﴾ وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ  ﴿36﴾ لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْن ۠   ﴿37ع الحاقة 69﴾
1. سچ مچ ہونے والی۔ 2. وہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟ 3. اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟ 4. کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا۔ 5. سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیئے گئے۔ 6. رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا۔ 7. خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا تو (اے مخاطب) تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈھئے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔ 8. بھلا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟ 9. اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے۔ 10. انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے بھی ان کو بڑا سخت پکڑا۔ 11. جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا۔ 12. تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ 13. تو جب صور میں ایک (بار) پھونک مار دی جائے گی۔ 14. اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لئے جائیں گے۔ پھر ایک بارگی توڑ پھوڑ کر برابر کردیئے جائیں گے۔ 15. تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی۔ 16. اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا۔ 17. اور فرشتے اس کے کناروں پر (اُتر آئیں گے) اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اُٹھائے ہوں گے۔ 18. اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی۔ 19. تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے۔ 20. مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا۔ 21. پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا۔ 22. (یعنی) اونچے (اونچے محلوں) کے باغ میں۔ 23. جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے۔ 24. جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو۔ 25. اور جس کا نامہ (اعمال) اس کے بائیں ہاتھ میں یاد جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا۔ 26. اور مجھے معلوم نہ ہو کہ میرا حساب کیا ہے۔ 27. اے کاش موت (ابد الاآباد کے لئے میرا کام) تمام کرچکی ہوتی۔ 28. آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا۔ 29. (ہائے) میری سلطنت خاک میں مل گئی۔ 30. (حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو۔ 31. پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو۔ 32. پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو۔ 33. یہ نہ تو خدائے جل شانہ پر ایمان لاتا تھا۔ 34. اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا۔ 35. سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوستدار نہیں۔ 36. اور نہ پیپ کے سوا (اس کے لئے) کھانا ہے۔ 37. جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔

تفسیر آیات

اصل میں لفظ اَلْحَآقَّةُ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ واقعہ جس کو لازماً پیش آ کر رہنا ہے، جس کا آنا برحق ہے، جس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ قیامت کے لیے یہ لفظ استعمال کرنا اور پھر کلام کا آغاز ہی اس سے کرنا خود بخود یہ ظاہر کرتا ہے کہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو اس کے آنے کو جھٹلا رہے تھے۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ جس چیز کی تم تکذیب کر رہے ہو وہ ہونی شدنی ہے، تمہارے انکار سے اس کا آنا رک نہیں جائے گا۔ (تفہیم القران)

۔  اُردو محاورے میں اسی کو "شدنی"بھی کہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

4۔ ۔۔۔۔یہاں عذاب اور قیامت کی تعبیر کے لیے لفظ ’قَارِعَۃٌ‘ آیا ہے جس کے معنی ٹھونکنے اور کھٹکھٹانے والی کے ہیں۔۔۔۔۔۔اور جس طرح کوئی اچانک آ کر دروازے کو کھٹکھٹاتا اور نچنت سونے والوں کو ہڑبڑا دیتا ہے اس طرح یہ بھی ایک ہلچل برپا کر دیں گے۔ (تدبرِ قرآن)

 قوم ثمود پر کس قسم کا عذاب آیا تھا؟۔ثمود کو کون سے عذاب سے ہلاک کیا گیاتھا؟اس کے لیے مختلف مقامات پر مختلف الفاظ آئے ہیں۔سورۂ اعراف آیت87 میں اس کو اَلرَّجفَۃ (زبردست زلزلہ)کہا گیا ہے۔ سورۂ ہود کی آیت نمبر 67 میں اَلصَّیحَۃُ (زبردست دھماکہ یا ہیبت ناک چیخ)کا لفظ آیا ہے اور سورہ حم السجدہ کی آیت نمبر 17 میں "صَاعِقَۃُ العَذَابِ"(یعنی گرنے والی بجلی کا عذاب)کا لفظ آیا ہے اور یہاں اَلطَّاغِیَۃُ کا لفظ آیا ہے۔جس سے عذاب میں سخت سرکشی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیتوں کا بیان ہے۔اور وہ عذاب یہ تھا کہ ارضی اور سماوی دونوں قسم کے عذاب قوم ثمود پر یک دم آتے تھے۔ (تیسیر القرآن)

۔۔۔۔۔۔ طَاغِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں وہ شے جو اپنے حدود و قیود سے متجاوز ہو جائے۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ قوموں کو سزا ان کے رویہ کی مناسبت سے دیتا ہے، جب کوئی قوم طغیان کی روش اختیار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کی انہی چیزوں میں سے، جو انسان کی نفع رسانی کے لیے مسخر ہیں، کسی چیز کو اس کے خلاف طغیان پر ابھار دیتا ہے جو ’طَاغِیَۃٌ‘ بن کر اس کو ہلاک کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ آفت کیا تھی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔قوم ثمود کی تباہی صاعقہ کے ذریعہ سے ہوئی جو سرما کے دھاریوں والے بادلوں کے اندر سے نمودار ہوئی۔(تدبرِ قرآن)

'الٹی ہوئی بستیوں 'سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں جو زلزلہ سے الٹ دی گئی تھیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

13۔ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌسے مراد یہ ہے کہ یکبارگی اچانک یہ صور کی آواز ہوگی اور ایک آواز مسلسل رہے گی یہاں تک کہ اس آواز سے سب مر جائیں گے۔ قرآن و سنت کی نصوص سے قیامت میں صور کے دو نفخے ہونا ثابت ہیں پہلے نفخہ کو نفخہ صعق کہا جاتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں (آیت) فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ ہے یعنی اس نفخہ سے تمام آسمان والے فرشتے اور زمین پر بسنے والے جن وانس اور تمام جانور بیہوش ہوجائیں گے (پھر اسی بیہوشی میں سب کو موت آجائے گی) دوسرے نفخہ کو نفخہ بعث کہا جاتا ہے بعث کے معنے اٹھنے کے ہیں اس نفخہ کے ذریعہ سب مردے پھر زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے (آیت) ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ، یعنی پھر صور دوبارہ پھونکا جائے گا جس سے اچانک سب کے سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے اور دیکھنے لگیں گے۔۔۔۔۔۔۔بعض روایات میں جو ان دونوں نفخوں سے پہلے ایک تیسرے نفخہ کا ذکر ہے جس کا نام نفخہ فزع بتلایا گیا ہے۔ مجموعہ روایات و نصوص میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلا نفخہ ہی ہے اسی کو ابتدا میں نفخہ فزع کہا گیا ہے اور انتہا میں وہی نفخہ صعق ہوجائے گا۔ (مظہری) (معارف القرآن)

17۔آسمان کے پھٹ جانے کے بعد آسمان کے فرشتوں کا جو حال ہو گا یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت وہ اس کے اطراف اور کناروں میں سمٹے ہوئے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس ہلچل سے ان پر بھی ایک سراسیمگی کی حالت طاری ہو گی۔ یہ ان مشرکین کی آگاہی کے لیے واضح فرمایا ہے جو فرشتوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کے مرجع بنیں گے اور ان کی سفارش کریں گے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد چار ہے۔اس دن آٹھ فرشتے اس عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔یہ عرش کتنا بڑا ہے اس کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ زمین کو پہلا آسمان محیط ہے۔دوسرا آسمان پہلے آسمان سے بڑا اور اس کو محیط ہے۔علی ہذا القیاس ساتواں آسمان چھٹے کو محیط ہے۔پھر اس کے اوپر آٹھواں آسمان ہے جسے کرسی بھی کہتے ہیں اور فلک افلاک بھی ۔پھر اس کے اوپر اللہ کا عرش ہے جیسے محیط ہونے کے لحاظ سے نواں آسمان کہہ لیجئے۔واللہ اعلم بالصواب۔(تیسیر القرآن)

20۔ یہاں بہرحال ظن کے معنی علم الیقین کے صحابیوں سے بھی مروی ہیں۔ھاؤم کااستعمال جمع کے موقع پر ہوتاہے۔(تفسیر ماجدی)

28۔ یعنی وہ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ جو مال اس اہتمام سے جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا بھلا کس کام آیا"ما"یہاں نافیہ بھی ہوسکتاہے لیکن اظہارِ ِ حسرت کے پہلو سے اس کا استفہامیۂ ہونا میرے نزدیک زیادہ موزوں ہے۔(تدبرقرآن)

29۔ وہ اقتدار بھی چھن گیا جس پر ہمیں ناز تھا اور جس کے گھمنڈ نے آج کے دن کی طرف سے ہمیں اندھا بنائے رکھا ۔(تدبر قرآن)

ــــ سُلْطٰنِیَهْ سلطان کا لفظ بادشاہی اور اقتدار کے معنی میں بھی آتاہے ۔اس صورت میں اس سے مراد وہ علاقہ ہے جو کسی شخص یا ادارہ یا سلطان کے زیر نگین ہو اور اس پر تسلط ہو۔ سلطان کا دوسرا معنی حجت ،دلیل اور برہان ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ  ہوگا کہ جتنی دلیلیں آخرت کے انکار پردیا کرتاتھا ۔آج ان میں سے کوئی دلیل بھی مجھے یاد نہیں آرہی۔(تیسیر القرآن)

ــــ سُلْطٰنِیَهْ کا ترجمہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے "بادشاہی"کیا ہے اور ابن عباسؓ نے یہاں اس کی تفسیر حجۃ سے کی ہے۔(تفسیر ماجدی)

32۔ قرآن مجید کے بعض مقامات سے معلوم ہوتاہے کہ دولت کو گن گن کر جمع رکھنے والے سرمایہ دار دوزخ میں ڈال کر بھاری زنجیروں میں ستونوں کے ساتھ باندھ دئیے جائیں گےتاکہ جس دولت پر سانپ بن کر بیٹھے رہے اس کی تپش کا مزا اچھی طرح چکھیں ۔سورۂ ہمزہ میں اس کی تفصیل آئے گی۔(ھمزہ:1تا4)(تدبر قرآن)

ــــ سَبْعُوْنَ سے یہ لازم نہیں آتاکہ متعین عدد ستر کا مراد ہو بلکہ مقصود محض کمالِ طول بھی ہوسکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

34۔ آیت 28 تا 34 فردِ جرم ہے جس کے سبب سے وہ اس غضب اور سزا کے مستحق ٹھہرے ۔۔۔۔۔- فرمایا کہ یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ اس کا یہ رویہ کہ یہ دولت کا بچاری بن کے بیٹھا رہااو رآج حسرت کررہاہے کہ(میری دولت میرے کیا کام آئی؟)اس بات کی شہادت دے رہاہے کہ خدا پر اس کا ایمان نہیں تھا اگر خدا پر ایمان ہوتاتو اس کے حضور پیش ہونے اور بخشے ہوئے مال کا حساب دینے کی فکر ہوتی۔۔۔۔۔۔فردِ جرم کی سب سے بڑی دفعات ۔یہی بات سورۂ ماعون میں یوں بیان فرمائی گئی (الماعون:2-3) اور ان کی نماز کو بالکل بے حقیقت ٹھہرایا جوکمینے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی کسی ضرورت مند کو نہیں دیتے(الماعون:4تا7)  (تدبر قرآن)

35۔ یعنی اس کی خست و بخالت کی سزا اس کو یہ ملی کہ یہاں کوئی اس کا ہمدرد و مددگار نہیں ۔جس نے خدا کا حق پہچانا اور نہ اس کی مخلوق کا ،قیامت کے دن بھلا کون اس کے ساتھ ہمدردی کرنے والا ہوگا؟یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جو لوگ مال رکھتے ہوئے بخیل ہوتے ہیں ان کے ساتھ اس دنیا میں بھی کسی کو ہمدردی نہیں ہوتی تو جزائے اعمال کی دنیا میں ان کے ساتھ کون ہمدردی کرے گا۔(تدبرقرآن)

ــــ  "غِسْلِیْن" ناپاک اور گندی چیزوں کے دھوون کو کہتے ہیں ۔چونکہ انہوں نے اپنی دولت کا مصرف صرف اپنی تن پروری اور اپنے کام و دہن کی لذت کو سمجھا اور اس حرص میں غربا و مساکین کے حقوق ہڑپ کرکے اپنے سارے مال کو نجس بنایا اس وجہ سے قیامت کے دن ان کو ناپاک چیزوں کا دھوؤن ہی کھانے پینے کو ملے گا ۔آدمی کا مال انفاق سے پاک ہوتاہے وگرنہ گندگی کا ڈھیر ۔(تدبرقرآن)


دوسرا رکوع

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ  ﴿38﴾ وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ  ﴿39﴾ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ  ﴿40﴾ وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ  ﴿41﴾ وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ  ﴿42﴾ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿43﴾ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ  ﴿44﴾ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ  ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ  ﴿46﴾ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ ﴿47﴾ وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ ﴿48﴾ وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ ﴿49﴾ وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ ﴿50﴾ وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ ﴿51﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠   ﴿52ع الحاقة 69﴾
38. تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں۔ 39. اور ان کی جو نظر میں نہیں آتیں۔ 40. کہ یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے۔ 41. اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو۔ 42. اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو۔ 43 ( یہ تو) پروردگار عالم کا اُتارا (ہوا) ہے۔ 44. اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے۔ 45. تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے۔ 46. پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے۔ 47. پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ 48. اور یہ (کتاب) تو پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے۔ 49. اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اس کو جھٹلانے والے ہیں۔ 50. نیز یہ کافروں کے لئے (موجب) حسرت ہے۔ 51. اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے۔ 52. سو تم اپنے پروردگار عزوجل کے نام کی تنزیہ کرتے رہو۔

تفسیر آیات

39۔دلائل دوطرح کے ہیں ۔ایک کا تعلق آفاق و انفس کے شواہد سے ہے جو آنکھوں سے دیکھے جاسکتے ہیں۔دوسروں کا تعلق خدا کی صفات اور آخرت کے احوال سے ہے جو دیکھے نہیں جاسکتے لیکن عقل سے سمجھے جاسکتے ہیں۔ان تمام دلائل کی گواہی یہ ہے کہ جزاوسزا ایک حقیقت ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ـــــ وہ چیزیں جو کافروں کو نظر آتی تھیں اور وہ جو نظر نہیں آتی تھیں وہ کیا ہیں؟تم یہ دیکھ رہے ہو، تمہارایہ صاحب(رسول اللہؐ )ایک پاکیزہ سیرت انسان ہے۔اور اس بات کے تم گواہ ہو کہ اس نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔وہ ایک راست باز اور امین آدمی ہے۔وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتا ۔اس کا کوئی استاد بھی نہیں پھر چالیس سال کی عمر میں یک لخت ایسا معجزہ نما کلام پیش کرنے لگا ہے جس نے تم سب کو چونکا دیا ہے۔اس نے کہا کہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔اور اللہ نے ایک فرشتہ جبرائیل کے ذریعہ مجھ پر اتاراہے اور میں اس کا رسول ہوں۔تم نے انکار کیا تو اس نے تمہیں چیلنج کردیا کہ اگر یہ اللہ کا کلام نہیں تو تم اس جیساکلام بنا لاؤ اور اپنے سب ادیبوں اور شاعروں اور علماء کو اپنی مدد کے لیے بلا لو ۔مگر تم اس کا جواب دینے سے عاجز رہے پھر تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ جو کلام پیش کرتاہے سب سے پہلے خود ان پر عمل پیرا ہوتاہے پھراس کے ساتھی بھی ان احکام کی تعمیل کرتے ہیں جن سے ان کے اخلاق سدھر رہے ہیں ۔تمہاری طعن و تشنیع کو،دشنام طرازیوں اور تمہاری ایذا رسانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کررہے ہیں اور تمہاری کارروائیوں کا زبان سے بھی جواب نہیں دیتے۔ یہ چیزیں تو وہ ہیں جو تم دیکھ رہے ہو اور جو نہیں دیکھ رہے وہ یہ ہیں کہ نہ تمہیں اللہ نظر آتاہے نہ اس کے فرشتے جن کا تمام تر ظاہری اور باطنی اسباب پر کنٹرول ہے۔ اور نہ وہ فرشتہ جبرئیل جو قرآن لے کر تمہارے صاحب کے دل پر نازل ہوتاہے۔نہ تمہیں یہ نظر آسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے مسلمانوں کی کیسے امداد کررہاہے اور نہ تمہیں یہ نظر آسکتاہےکہ کون سے اسباب کے ذریعہ تمہاری جڑکٹ جانے والی ہے؟۔(تیسیر القرآن)

40۔ قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے جو جبرئیل کی زبان سے ادا ہوتاہے۔لہذا یہاں معزز رسول سے جبرائیلؑ بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔اور اس لحاظ سے کہ بعینہ وہی الفاظ آپؐ کی زبان سے اداہوتے ہیں۔معزز رسول سے آپؐ کی ذات بھی مراد لی جاسکتی ہے۔(تیسیر القرآن)

43۔۔۔۔۔۔جو کچھ لوگوں کو نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ؛  (1) اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النفس ہونا مکہ کے معاشرے میں کسی سے چھپا ہوا نہ تھا۔۔۔۔۔(2) وہ یہ بھی علانیہ دیکھ رہے تھے کہ اس کلام کو پیش کرنے میں اپنا کوئی ذاتی مفاد اس شخص کے پیش نظر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔(3) جوگ اس شخص پر ایمان لا رہے تھے ان کی زندگی میں یک لخت انقلاب برپا ہوجاتا تھا۔۔۔۔۔(4) ان سے یہ بات بھی چھپی ہوئی نہ تھی کہ شعر کی زبان کیا ہوتی ہے اور کاہنوں کا کلام کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔(5)  پورے عرب میں کوئی شخص ایسا فصیح وبلیغ نہ تھا جس کا کلام قرآن کے مقابلے میں لایا جاسکتا ہو۔۔۔۔۔۔(6)  خود محمد ﷺ کی زبان بھی اپنی ادبی شان کے لحاظ سے قرآن کی ادبی شان سے بہت مختلف تھی۔۔۔۔۔۔(7) قرآن جن مضامین اور علوم پر مشتمل تھا، دعوائے نبوت سے ایک دن پہلے تک بھی مکہ کے لوگوں نے کبھی وہ باتیں محمد ﷺ کی زبان سے نہ سنی تھیں۔۔۔۔۔(8) زمین سے لے کر آسمان تک اس عظیم الشان کارخانہ ہستی کو بھی اپنی آنکھوں سے چلتا ہوا دیکھ رہے تھے جس میں ایک زبردست حکیمانہ قانون اور ہمہ گیر نظم و ضبط کار فرما نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کچھ تو وہ دیکھ رہے تھے۔ اور جو کچھ وہ نہیں دیکھ رہے تھے وہ یہ تھا کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک اور فرمانروا ہے، کائنات میں سب بندے ہی بندے ہیں، خدا اس کے سوا کوئی نہیں ہے، قیامت ضرور برپا ہونے والی ہے، محمد ﷺ کو واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے اپنا رسول مقرر کیا ہے، اور ان پر اللہ ہی کی طرف سے یہ قرآن نازل ہو رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

47۔۔۔۔۔حالانکہ اس آیت میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں ہے، نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ جھوٹے مدعی تو نبوت ہی نہیں خدائی تک کے دعوے کرتے ہیں اور زمین پر مدتوں دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ ان کی صداقت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)

52۔ ابو داؤد میں حضرت عقبہ ابن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت "فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ" نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اپنے رکوع میں رکھو اور جب آیت "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى" نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس کو اپنے سجدہ میں رکھو۔ اسی لئے باجماع امت رکوع اور سجدے میں یہ دونوں تسبیحات پڑھی جاتی ہیں۔ جمہور کے نزدیک ان کا پڑھنا اور تین مرتبہ تکرار کرنا سنت ہے۔ بعض حضرات نے واجب بھی کہا ہے۔ (معارف القرآن)