88 - سورة الغاشیہ (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 26 |
مضمون: مکذبین اور مومنین کے انجام میں فرق ۔ہٹ دھرموں کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: تذکیر بالقرآن کئے جائیں۔۔۔۔ کافرین و مکذبین اور قیامت سے منہ موڑنے والے عذاب الاکبر یعنی بڑے عذاب سے دوچار ہوں گے۔
نام: پہلی آیت سے اس کا نام لیا گیا ہے ۔الغاشیہ کا لفظی معنی ہے چھاجانے والی آفت یعنی قیامت۔
شانِ نزول: سورۂ الغاشیہ کی پہلی ہی آیت سے معلوم ہوتاہے کہ یہ اعلان ِ عام کے بعد حضورؐ کے قیامِ مکہ کے دوسرے دور (4تا5نبوی)میں نازل ہوئی جس میں حضورؐ کو حکم ہوا: فَذَكِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَكِّرٌ۔
نظمِ کلام: سورۂ الملک ،سورۂ الاعلیٰ اور سورۂ البروج۔
خلاصۂ مضامین :پچھلی سورت (الاعلیٰ) کی طرح یہاں بھی فذکر سے تذکیر کی ہدایت موجود ہے۔پچھلی سورت میں جسے النارالکبریٰ کہاگیا تھا اُسے یہاں عذاب الاکبرکہا گیا ہے۔ اس سورت کے چار حصے ہیں ۔پہلے میں مکذبینِ قیامت کا انجام، دوسرے میں مومنین ِ قیامت کا ، تیسرے میں آخرت کے آفاقی دلائل اور چوتھے میں تذکیر بالقرآن کی نصیحت۔
نظمِ جلی:اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت پر دلالت کرنے والی چار(4)آفاقی دلیلیں: (1)اونٹ کی تخلیق پر(جس پر عربوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی کا انحصار ہے)غور کرنا چاہیے!(2)آسمان کی بلندی کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کو بلند کرنے والی ہستی کتنی عظیم ہوسکتی ہے؟(3)پہاڑوں کی تنصیب پر تدبر کرنا چاہیے کہ ان کو گاڑنے والی ہستی کس قدر قدرت و طاقت کی مالک ہوسکتی ہے؟ اور (4)زمین کو ہموار کرنے والی ہستی کس قدر صاحب اختیار ہوگی؟ ان چار دلیلوں کی روشنی میں انسان کو غور کرنا چاہیے کہ کیا ان سب کا خالق، مردوں کو زندہ کرکے عدالت قائم نہیں کرسکتا؟ کیا وہ لوگوں کو جزاء اور سزا نہیں دے سکتا؟۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
| هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ ﴿1﴾ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ ﴿2﴾ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ ﴿3﴾ تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ ﴿4﴾ تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ ﴿5﴾ لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ ﴿6﴾ لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ ﴿7﴾ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ ﴿8﴾ لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ ﴿9﴾ فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ ﴿10﴾ لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ ﴿11﴾ فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ ﴿12﴾ فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ ﴿13﴾ وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ ﴿14﴾ وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ ﴿15﴾ وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ ﴿16﴾ اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ ﴿17﴾ وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ ﴿18﴾ وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ ﴿19﴾ وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ ﴿20﴾ فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ ﴿21﴾ لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ ﴿22﴾ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ ﴿23﴾ فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ ﴿24﴾ اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ ﴿25﴾ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ ﴿26ع الغاشية 88﴾ |
| 1. بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے۔ 2. اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے۔ 3. سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے۔ 4. دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔ 5. ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔ 6. اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا)۔ 7. جو نہ فربہی لائے اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے۔ 8. اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوں گے۔ 9. اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل۔ 10. بہشت بریں میں۔ 11. وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے۔ 12. اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے۔ 13. وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے۔ 14. اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے۔ 15. اور گاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے۔ 16. اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی۔ 17. یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کیے گئے ہیں۔ 18. اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے۔ 19. اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں۔ 20. اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی۔ 21. تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ 22. تم ان پر داروغہ نہیں ہو۔ 23. ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا۔ 24. تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا۔ 25. بےشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ 26. پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ اس انداز میں جو سوال ہوتاہے وہ طلب جواب کیلئے نہیں بلکہ کسی چیز کے ہول و ہیبت یا اس کی عظمت و شان کے اظہار کیلئے ہوتاہے ۔یہاں جو خطاب ہے اگر چہ عام بھی ہوسکتاہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ مخاطب رسول مکرمؐ ہی ہیں چنانچہ اسی پر عطف (ف) کرکے فرمایا ہے : فَذَكِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَكِّرٌ (آیت:21)۔(تدبرقرآن)
ــــ هَلْ کے ایک دوسرے معنی حقیقۃً یا قطعاً کے بھی کیے گئے ہیں اور بعض لغت و زبان کے ماہرین اس طرف گئے ہیں کہ قرآن میں جہاں جہاں هَلْ اَتٰىكَ آیا ہے وہاں ھل، قدکے مترادف ہے۔(تفسیر ماجدی)
3۔ بہت سےچہرے ذلیل ہوں گے۔یعنی آخرت میں مصیبتیں جھیلنے والے اور مصیبت جھیلنے کی وجہ سے خستہ و درماندہ اور بعض نے کہا کہ عاملۃ ناصبۃ سے دنیا کا حال مراد ہے ۔یعنی کتنے لوگ ہیں جو دنیا میں محنتیں کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی محنتیں برحق نہ ہونے کی وجہ سے اکارت ہیں (خسر الدنیا والآخرۃ)حضرت شاہصاحب لکھتے ہیں "کافر (لوگ) جو دنیا میں (بڑی بڑی)ریاضت کرتے ہیں اللہ کے ہاں کچھ قبول نہیں ہوتی ۔(تفسیر عثمانی)
5۔ اٰنِیَةٍ کے معنی ہیں جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔(تفسیر عثمانی)
6۔ دوزخیوں کی مختلف غذائیں:۔ ضَرِیع ایک خاردار گھاس جس کا ذائقہ انتہائی تلخ اور بونا گوار ہوتی ہے اور جب سوکھ جاتی ہے تو زہر بن جاتی ہے۔عربی میں اسے شبرق بھی کہتے ہیں۔اہل دوزخ کی یہی غذاہوگی۔واضح رہے کہ قرآن میں بعض مقامات پر اہل دوزخ کی خوراک تھوہر کا درخت ذکر ہوئی ہے اور بعض مقامات پر غسلین یعنی زخموں کا دھوون اور اس مقام پر ضریع بتائی گئی ہے۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہوسکتی ہے کہ مختلف قسم کے مجرموں کی خوراک مختلف ہو،دوسری وجہ اختلاف زمانہ ہے یعنی کسی دور میں ایک قسم کی خوراک دی جائے گی اور دوسرے دور میں دوسری قسم کی اور اس کی تیسری وجہ تنوع بھی ہوسکتی ہے۔یعنی کبھی ایک خوراک دی جائے اور کبھی دوسری اور کبھی تیسری۔(تیسیر القرآن)
12۔ عَیْنٌ۔ اسم جنس ہے، صورۃ واحد اور معناً جمع ۔(تفسیر ماجدی)
16۔یہ اس سامان آرائش و زیبائش کا ذکر ہے جو اہل جنت کی آسائش کے لیے موجود ہو گا۔ اس کی تفصیلات بھی مختلف سورتوں میں مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ اختلاف زیادہ تر تو اجمال و تفصیل کی نوعیت کا ہے لیکن بعض مقامات میں وہ تفاوت بھی ملحوظ ہے جو اہل جنت کے درجات و مراتب میں ہو گا۔ نیز ان کو پڑھتے ہوئے یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے کہ یہ چیزیں تمثیل کی صورت میں بیان ہوئی ہیں۔ عالم غیب کی نادیدہ حقیقتیں تمثیل ہی کے پیرائے میں بیان ہو سکتی ہیں اور ان کے لیے الفاظ اسی زبان اور اسی تہذیب و تمدن سے مستعار لینے پڑتے ہیں جس سے مخاطب فی الجملہ آشنا ہوں۔ (تدبرِ قرآن)
17۔ علامہ اقبالؒ کے مطابق یہاں سے مشاہدہ (Observation) کی دعوت (بمقابلہ یونانی فلسفہ) ۔ محض توہمات پر یقین نہیں بلکہ مشاہداتی علم اور علمِ وحی ۔چاروں چیزوں کا پسِ منظر ۔عرب سفر کرتے ہوئے اونٹ پر سوار ،کھلے صحرا میں اوپر آسمان(اپنی بے پناہ وسعتوں کے ساتھ )، پھر راستے میں پہاڑ اور زمین کی ہمواری اور نرمی (روزمرہ کا تجربہ بھی اور سفر کا بھی)۔اس کا خالق کون اور حکمت کیا؟ (بیان القرآن)
ــــ مقصود ان تمام جانوروں کی طرف توجہ دلاناہے جو قدرت نے انسان کیلئے مسخر کئے(آخر شیر ،ہاتھی،چیتے کیوں نہیں)اور جن پر اس کی معاش و معیشت کا انحصار ہے ۔(تدبرقرآن)
20۔ خانہ بدوشوں کی کل کائنات کیا تھی؟اور اللہ کی نشانیاں:۔ ان خانہ بدوش بدوؤں کی زندگی کے مشاہدات کیا تھے؟ بس یہی کہ ادھر ادھر منتقل ہونے کے لیے اونٹ جو ان کی سواری اور باربرداری کا کام دیتاتھا۔اوپر آسمان تھا، نیچے زمین اور اردگرد پھیلے ہوئے طویل سلسلہ ہائے کوہ۔(تیسیر القرآن)
24۔ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ سے مراد جہنم کا عذاب ہے جو دنیا کے تمام عذابوں سے بڑا ہوگا ۔اس دنیا کا کوئی عذاب نہ شدت میں اس کا مقابلہ کرسکتاہے نہ پائیداری میں سابق سورۂ میں اس کو النَّارَ الْكُبْرٰى کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے لیکن مدعا ایک ہی ہے۔(تدبرقرآن)