9 - سورة التوبہ (مدنیہ)
| رکوع - 16 | آیات - 129 |
مضمون:سورہ انفال میں جس جہاد کے لیے مسلمانوں کو منظم کیا گیا تھا اس سورہ میں مشرکین ، اہل کتاب اور منافقین کو اس کا الٹی میٹم اور اعلان ہے۔دونوں سورتوں میں مضمون کے اس گہر ے اتصال کے باعث سورہ توبہ پر آیت بسم اللہ نہیں لکھی گئی اور یہ ایمائے الٰہی ہے (ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورة
شانِ نزول: پہلی تقریر آغاز سورة سے پانچویں رکوع کے آخر تک چلتی ہے۔ اس کا زمانہ نزول ذی القعدہ سن 9 ھجری یا اس کے لگ بھگ ہے۔ نبی ﷺ اس سال حضرت ابوبکر ؓ کو امیر الحاج مقرر کر کے مکہ روانہ کرچکے تھے کہ یہ تقریر نازل ہوئی اور حضور نے فوراً سیدنا علی ؓ کو ان کے پیچھے بھیجا تاکہ حج کے موقع پر تمام عرب کے نمائندہ اجتماع میں اسے سنائیں اور اس کے مطابق جو طرز عمل تجویز کیا گیا تھا اس کا اعلان کردیں۔ دوسری تقریر رکوع 6 کی ابتدا سے رکوع 9 کے اختتام تک چلتی ہے اور یہ رجب 9 ھجری یا اس سے کچھ پہلے نازل ہوئی جبکہ نبی ﷺ غزوہ تبوک کی تیاری کر رہے تھے۔ اس میں اہل ایمان کو جہاد پر اکسایا گیا ہے اور ان لوگوں کو سختی کے ساتھ ملامت کی گئی ہے جو نفاق یا ضعف ایمان یا سستی و کاہلی کی وجہ سے راہ خدا میں جان و مال کا زیاں برداشت کرنے سے جی چرا رہے تھے۔ تیسری تقریر رکوع 10 سے شروع ہو کر سورة کے ساتھ ختم ہوتی ہے اور یہ غزوہ تبوک سے واپسی پر نازل ہوئی۔۔۔ نزولی ترتیب کے لحاظ سے پہلی تقریر سب سے آخر میں آنی چاہئے تھی لیکن اہمیت کی وجہ سے موجودہ ترتیب ۔ (تفہیم القرآن)
تاریخی پسِ منظر :
-غزوہ تبوک کیلئے رسول اللہؐ رجب 9 ہجری میں شمالی محاذ پر قیصر روم سے مقابلے کیلئے 30 ہزار افراد کے ساتھ نکلے ۔قیصر مقابلے کیلئے نہیں آیا۔ رسول اللہؐ نے وہاں 20 دن قیام فرمایا ۔قیصر کے ماتحت چھوٹی موٹی عیسائی ریاستوں نے جزیہ دے کر اسلامی ریاست کی اطاعت قبول کرلی۔ واپسی شعبان 9 ہجری میں ہوئی ۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی )
نظم ِ سورت: یہ سورة ، جیسا کہ گروپ کی تمہید میں ہم عرض کرچکے ہیں، سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورة ہے۔ اس میں اور انفال میں بالکل اسی نوع کا تعلق ہے جس نوع کا تعلق متن اور شرح یا تمہید اور اصل مقصد میں ہوتا ہے۔۔۔ایک کا رخ بالکلیہ مسلمانوں کی طرف ہے اور دوسری کا رخ اصلاً مشرکین، اہل کتاب اور منافقین کی طرف۔ ایک کی نوعیت تیاری کی ہے اور دوسری کی، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، الٹی میٹم اور اعلانِ جنگ کی۔ اشتراک و انفصال کے ان دونوں پہلوؤں کو ممیز کرنے کے لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ یہ سورة سابق سورہ سے بالکل الگ بھی نہ ہو لیکن فی الجملہ نمایاں اور ممتاز بھی رہے۔ بسم اللہ نہ لکھے جانے سے یہ دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہوگئے۔ بسم اللہ، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، دو سورتوں کے درمیان علامت فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علامت فصل کے نہ ہونے سے دونوں کا معنوی اتصال نمایاں ہوگیا اور ساتھ ہی اس کے علیحدہ وجود نے اس کو علیحدہ نام دے دیا جس سے اس کی امتیازی خصوصیت بھی سامنے آگئی۔ (تدبر قرآن)
دونوں سورتوں کا تقابل:
سورۂ انفال،( فلسفہ جہاد ،جہاد کی ترغیب،غزوۂ بدراور مالِ غنیمت کی تقسیم) سورۂ توبہ( عملی جہاد۔۔۔۔۔مشرکین ،اہلِ کتاب، قیصر روم اور منافقین سے جہاد بالخصوص غزوۂ حنین و تبوک)
-سورۂ انفال اوائل ہجرت میں اور سورۂ توبہ اواخر ہجرت میں نازل ہوئی (بدر، تبوک ۔فلسفہ جہاد اور عملی جہاد) دونوں کے مضامین باہم اس قدر مرتبط واقع ہوئے ہیں کہ برأت کو انفال کا تکملہ اور تتمہ بھی کہا جاسکتاہے۔(تفسیر عثمانی)
ترتیب مطالعہ: (شان نزول کے حساب سے) (i)ر۔1 تا 5 (ii) ر 6 تا 9 (iii) ر 10 تا 16۔
سورۃ توبہ کی خصوصیات:۔
1۔ مدینہ منورہ میں وفات سے پہلے 9 اور 10 ہجری میں رسول اللہؐ پر تین سورتیں نازل ہوئیں ۔سورۃ البینہ،سورۃ توبہ اور سورۃ النصر۔چنانچہ سورۃ توبہ نزولی ترتیب کے اعتبار سے سب سے بڑی آخری مدنی سورت ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ ﴿1﴾ فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ ﴿2﴾ وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ ﴿3﴾ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ﴿4﴾ فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿5﴾ وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿6ع التوبة 9﴾ |
| 1. (اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے۔ 2. تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔ 3. اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو۔ 4. البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔ 5. جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 6. اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں۔ |
تفسیر آیات
1۔جیسا کہ ہم سورة کے دیباچہ میں بیان کرچکے ہیں، یہ خطبہ رکوع 5 کے آخر تک سن 9 ھجری میں اس وقت نازل ہوا تھا جب نبی ﷺ حضرت ابوبکر ؓ کو حج کے لیے روانہ کرچکے تھے۔ ان کے پیچھے جب یہ نازل ہوا تو صحابہ کرام نے حضور سے عرض کیا کہ اسے ابوبکر کو بھیج دیا جائے تاکہ وہ حج میں اس کو سنا دیں۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس اہم معاملہ کا اعلان میری طرف سے میرے ہی گھر کے کسی آدمی کو کرنا چاہیے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اس خدمت پر مامور کیا، اور ساتھ ہی ہدایت فرمادی کہ حاجیوں کے مجمع عام میں اسے سنانے کے بعد حسب ذیل چار باتوں کا اعلان بھی کردیں (1) جنت میں کوئی ایسا شخص داخل نہ ہوگا جو دین اسلام کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔ (2) اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے۔ (3) بیت اللہ کے گرد برہنہ طواف کرنا ممنوع ہے۔ (4) جن لوگوں کے ساتھ رسول اللہ کا معاہدہ باقی ہے، یعنی جو نقض عہد کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں، ان کے ساتھ مدت معاہدہ تک وفا کی جائے گی۔(تفہیم القرآن)
- برأۃ کے معنی کسی ذمہ داری سے دستبردار اور بری الذمہ ہونے کے ہیں یہاں یہ ان معاہدات کی ذمہ داری سے دستکش ہونے کے معنی میں ہے جو حضورؐ نے مشرکین سے کئے تھے ۔(تدبرقرآن)
- معاہدات ِ مشرکین کی چار اقسام : (i) صلح حدیبیہ کا معاہدہ جو انہوں نے خود توڑ دیا (ii) کچھ خاص مدت کےلئے کئے گئے معاہدات (آیات ِ برأت کے نزول کے وقت 9 ماہ باقی) (iii) کچھ سے بغیر تعین ِ مدت کے معاہدات (iv) وہ جن سے کوئی معاہدہ نہیں تھا۔۔۔۔۔چاروں اقسام کے احکام :(i)اشہر حرام(آیاتِ برأۃ ذی الحج سنہ 9 ہجری ان کو محرم سنہ10ہجری (مولانا مودودی ان کی مدت بھی 4 ماہ قرار دیتے ہیں)تک مہلت (آیت:5) (ii) مدتِ معاہدہ تک (9ماہ)۔آیت :4(iii) ۔(iv) چار ماہ(آیت،1تا2)۔۔۔۔۔کسی غیر مسلم کے مسلمان ہوجانے پر اعتماد تین چیزوں پر (i) توبہ(ii) اقامت صلوٰۃ (iii) ادائے زکوٰۃ۔محض کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں۔(معارف القرآن)
- اس مقام پر یہ جان لینا بھی فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ فتح مکہ کے بعد دورِ اسلامی کا پہلا حج سنہ8ہجری میں قدیم طریقے پر ہوا۔پھر سنہ9 ہجری میں دوسرا حج مسلمانوں نے اپنے طریقہ پر اور مشرکین نے اپنے طریقہ پر کیا ۔اس کے بعد تیسرا حج سنہ 10 ہجری میں خالص اسلامی طریقہ پر ہوا اور یہی وہ مشہور حج ہے جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں جو حضورؐ کی قیادت میں ہوا۔حضور ﷺ پہلے دو سال حج کے لیے تشریف نہ لے گئے ۔(تفہیم القرآن)
- اعلان برأت کی چار دفعات:۔ زید بن یثیع کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علیؓ سے پوچھا کہ حج میں تمہیں کیا پیغام دے کربھیجا گیا ۔انہوں نے جواب دیا کہ چار باتیں ۔ایک یہ کہ کوئی شخص ننگاہوکربیت اللہ کا طواف نہ کرے۔دوسرے جس کافر کے ساتھ نبی اکرمؐ کا معاہدۂ صلح ہے وہ مدت مقررہ تک بحال رہے گا۔اور تیسرے جن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ان کیلئے چار ماہ کی مدت ہے یا تو وہ اسلام لے آئیں اور وہ جنت میں داخل ہوں گے یا پھریہاں سے چلے جائیں اور چوتھے یہ کہ اس سال کے بعد مشرک اور مسلمان (حج میں )جمع نہ ہوں گے۔"(ترمذی۔ابواب التفسیر)(تیسیر القرآن)
2۔ فَسِیْحُوْا ۔لفظ کے معنی سیر و سیاحت کرنے کے ہیں،اب خطاب براہ راست کافروں سے شروع ہوگیا ،"قُل"محذوف ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ اس عظیم الشان تدبیر کی پوری حکمت اسی وقت سمجھ میں آسکتی ہے جبکہ ہم اس فتنہ ارتداد کو نظر میں رکھیں جو اس واقعہ کے ڈیڑھ سال بعد ہی نبی ﷺ کی وفات پر ملک کے مختلف گوشوں میں برپا ہوا اور جس نے اسلام کے نو تعمیر قصر کو یکلخت متزلزل کردیا۔ اگر کہیں سن 9 ھجری کے اس اعلان براءت سے شرک کی منظم طاقت ختم نہ کردی گئی ہوتی اور پورے ملک پر اسلام کی قوت ضابطہ کا استیلاء پہلے ہی مکمل نہ ہوچکا ہوتا، تو ارتداد کی شکل میں جو فتنہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے آغاز میں اٹھا تھا اس سے کم از کم دس گنی زیادہ طاقت کے ساتھ بغاوت اور خانہ جنگی کا فتنہ اٹھتا اور شاید تاریخ اسلام کی شکل اپنی موجودہ صورت سے بالکل ہی مختلف ہوتی۔۔۔۔۔ یہ اعلان 10 ذی الحجہ سن 9 ھجری کو ہوا تھا۔ اس وقت 10 ربیع الثانی سن 10 ھجری تک چار مہینہ کی مہلت ان لوگوں کو دی گئی کہ اس دوران میں اپنی پوزیشن پر اچھی طرح غور کرلیں۔ لڑنا ہو تو لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں، ملک چھوڑنا ہو تو اپنی جائے پناہ تلاش کرلیں، اسلام قبول کرنا ہو تو سوچ سمجھ کر قبول کرلیں۔ (تفہیم القرآن)
3۔ مِنَ الْمُشْرِكِیْن۔مشرکین سے یہاں آیت میں مراد وہی مشرکین ہیں جو نقضِ عہد کے مرتکب ہوچکے ہیں ۔۔۔۔یہاں مراد سنہ9 ہجری کا یو م الحج ہے، اور یوم الحج کی اصطلاح 9 ذی الحجہ (یوم عرفہ)کیلئے ہے۔10 ذی الحجہ کو یوم النحر کہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
4۔ اجتماعی تقویٰ کی وضاحت : اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ میں جس تقویٰ کا ذکر ہے، یہ انفرادی تقویٰ نہیں بلکہ اجتماعی و سیاسی تقویٰ ہے۔ اسلام جس طرح ہر شخص سے انفرادی تقویٰ کا مطالبہ کرتا ہے اسی طرح مسلمانوں سے من حیث الجماعت اجتماعی اور سیاسی تقویٰ کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ یعنی مسلمان دوسری قوموں سے جو معاملات اور معاہدات کریں ان میں راست باز، صداقت شعار اور وفادار رہیں، کسی عہد اور قول وقرار کی کوئی ادنی ٰ خلاف ورزی بھی نہ کریں۔ خدا ایسے ہی متقیوں کو دوست رکھتا ہے اور خدا جن کو دوست رکھتا ہے وہی دنیا اور آخرت میں برومند اور فائز المرام ہوتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
5۔یہاں حرمت والے مہینوں سے مراد 10 ذی الحجہ 9ہجری سے لے کر 10 ربیع الثانی 10 ہجری تک چارماہ کی مدت ہے جو مشرکوں کو سوچ و بچار کیلئے دی گئی تھی۔یہاں حرمت والے مہینوں سے مراد ذیقعدہ ،ذی الحجہ،محرم اور رجب نہیں ہیں جو دورجاہلیت میں بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھےاور اسلام نے بھی ان کی حرمت کو بحال رکھا ہے۔۔۔۔مرتدین اور بالفعل زکوٰۃ نہ دینے والوں سے سیدنا ابوبکرؓ ؓ کا جہاد:۔ دورنبویؐ میں اس اعلان کے بعد مشرکوں نے صرف تیسری راہ اختیار کی یعنی وہ اسلام لے آئے البتہ آپؐ کی وفات کے بعد پھر ایسے مشرکوں نے سراٹھایا۔کچھ تو سرے سے اسلام ہی سے مرتد ہوگئے اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا۔سیدنا ابوبکرؓ نے ایسے لوگوں کے بارے میں جنگ کرنے سے متعلق مجلس شوریٰ طلب کی ۔ اور ایسے نازک حالات میں ان مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کرنے کے متعلق مشورہ کیا۔اس مجلس میں اکثر صحابہ نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر ان سے فی الحال تعرض نہ کرنے کا مشورہ دیا اور بعض نے یہ کہا کہ آپ ایسے لوگوں سے کیسے جنگ کرسکتے ہیں جو کلمہ شہادت پڑھ کراسلام میں داخل ہوچکے ہیں توسیدنا ابوبکرؓ نے اسی آیت سے استدلال کرکے شوریٰ پر ثابت کردیا کہ اسلام کے دعویٰ کی صداقت کیلئے جیسے نماز کی ادائیگی شرط ہے ویسے ہی زکوٰۃ کی ادائیگی بھی شرط ہے چنانچہ شوریٰ کو اس بات کا قائل ہونا پڑا اور آپ نے ان مانعین زکوٰۃ سے کفار و مشرکین کی طرح جہاد کیا۔(تیسیر القرآن)
6۔ ۔۔اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر صرف ایک مسلمان خواہ وہ آزاد ہویا غلام یا عورت ہوکسی کو پناہ دے دے تو وہ تمام مسلمانوں کی طرف سے امان سمجھی جائے گی۔چنانچہ خوزستان (ایران)کی فتوحات کے سلسلہ میں ایک مقام شابور کا مسلمانوں نے محاصرہ کیا ہواتھا۔ایک دن شہروالوں نے خود شہر پناہ کے دروازے کھول دئیے اور نہایت اطمینان سے اپنے کام کاج میں لگ گئے۔مسلمانوں کو اس بات پر بڑی حیرت ہوئی۔سبب پوچھا تو شہر والوں نے کہا کہ تم ہم کو جزیہ کی شرط پر امان دے چکے ہو۔اب کیا جھگڑارہا (واضح رہے کہ جزیہ کی شرط پر امان کا اصل وقت جنگ شروع ہونے سے پہلے ہے۔دوران جنگ یا فتح کے بعد نہیں) سب کوحیرت تھی کہ امان کس نے دی۔تحقیق سے معلوم ہواکہ ایک غلام نے لوگوں سے چھپاکر امن کا رقعہ لکھ دیا ہے۔ابوموسیٰ اسلامی سپہ سالار نے کہا کہ ایک غلام کی امان حجت نہیں ہوسکتی۔شہر والے کہتے تھے کہ ہم آزاد غلام نہیں جانتے ۔آخر حضرت عمرؓ کو خط لکھا گیا ۔آپ نے جواب میں لکھا کہ"مسلمانوں کا غلام بھی مسلمان ہے اور جس کو اس نے امان دی تمام مسلمان امان دے چکے ۔"(الفاروق:231)۔(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ﴿7﴾ كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ ﴿8﴾ اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿9﴾ لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ ﴿10﴾ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ﴿11﴾ وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ ﴿12﴾ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿13﴾ قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ ﴿14﴾ وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿15﴾ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿16ع التوبة 9﴾ |
| 7. بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے۔ 8. (بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں۔ 9. یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو خدا کے رستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔ 10. یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ 11. اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ 12. اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔ 13. بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو۔ 14. ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔ 15. اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔ 16. کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔ |
تفسیر آیات
7۔ صلح حدیبیہ اور حلیف قبائل:۔ ان سے مراد وہ تین مشرک قبائل ہیں بنوخزاعہ،بنوکنانہ اور بنو ضمرہ۔جو صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کے حلیف بنے تھے۔اور جب اعلان برأت ہو اتو ان سے معاہدہ کی میعاد میں ابھی نومہینے باقی تھے۔اس سورہ کی آیت نمبر 4 کے مطابق اس مدت میں ان سے تعرض نہیں کیا گیا۔نیز اس آیت کی روسے اس بات کی بھی اجازت دے دی گئی کہ کوئی مشرک جب تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتاہےاس وقت تک تو تمہیں بہرحال قائم رہنا چاہیے اور اگر وہ اپنا عہد توڑتا ہے تو اس وقت تمہیں بھی مخالفانہ کارروائی کرنے کی اجازت ہے۔(تیسیر القرآن)
9۔ یعنی ایک طرف اللہ کی آیات ان کو بھلائی اور راستی اور قانون حق کی پابندی کا بلاوا دے رہی ہیں دوسری طرف دنیوی زندگی کے وہ چند روزہ فائدے تھے جو خواہش نفس کی بےلگام پیروی سے حاصل ہوتے تھے۔ ان لوگوں نے ان دونوں چیزوں کا موازنہ کیا اور پھر پہلی کو چھوڑ کر دوسری چیز کو اپنے لئے چن لیا۔۔۔۔۔۔ یعنی ان ظالموں نے اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا کہ ہدایت کے بجائے گمراہی کو خود اپنے لیے پسند کرلیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے کوشش یہ کی کہ دعوت حق کا کام کسی طرح چلنے نہ پائے، خیر و صلاح کی اس پکار کو کوئی سننے نہ پائے، بلکہ وہ منہ ہی بند کردیے جائیں جن سے یہ پکار بلند ہوتی ہے۔ جس صالح نظام زندگی کو اللہ تعالیٰ زمین میں قائم کرنا چاہتا تھا اس کے قیام کو روکنے میں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور ان لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا جو اس نظام کو حق پا کر اس کے متبع بنے تھے۔ (تفہیم القرآن)
11۔ فِی الدِّیْنِ نے اسے بھی صاف کردیا کہ یہ اخوت وہم سطحی دین کے لحاظ سے ہوگی ،فقہاء نے جو بحث کفو کی کی ہے، اس کا تعلق تمام تر نسب سے ہے نہ کہ دینی اخوت سے ۔(تفسیر ماجدی)
۔ یہاں پھر یہ تصریح کی گئی ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے بغیر محض توبہ کرلینے سے وہ تمہارے دینی بھائی نہیں بن جائیں گے۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ اگر ایسا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شرائط پوری کرنے کا نتیجہ صرف یہی نہ ہوگا کہ تمہارے لیے ان پر ہاتھ اٹھانا اور ان کے جان و مال سے تعرض کرنا حرام ہوجائے گا۔ بلکہ مزید برآں اس کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اسلامی سوسائٹی میں ان کو برابر کے حقوق حاصل ہوجائیں گے۔ معاشرتی، تمدنی اور قانونی حیثیت سے وہ تمام دوسرے مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔ کوئی فرق و امتیاز ان کی ترقی کی راہ میں حائل نہ ہوگا۔(تفہیم القرآن)
12۔ توہین رسالت کی سزاموت:۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ اگر کسی اسلامی حکومت میں رہنے والے اہل الذمہ دین اسلام کا تمسخر اڑائیں یا طعنہ زنی کریں تو ان کا معاہدہ ختم اور ان کی سرکوبی کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہوتاہے اور یہ بھی کہ جو ذمی یا کوئی دوسراشخص رسول اللہؐ کو گالیاں دے یا آپؐ کی شان میں گستاخی کی کوئی باتیں کرے وہ واجب القتل ہے کیونکہ یہ دین میں طعنہ زنی کی ایک بدترین قسم کا جرم ہے۔(تیسیر القرآن)
14۔ جہاد کے نتیجہ میں مسلمانوں سے پانچ وعدے:۔ آیت نمبر14 اور 15 میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے متعلق پانچ وعدے فرمائے ۔بالفاظ دیگر جہاد کے فوائد سے تعلق رکھنے والی پانچ خوشخبریاں سنائیں جو سب کی سب پوری ہوئیں ۔پہلی یہ کہ تمہارے دشمنوں پر کوئی ارضی یا سماوی عذاب نہیں آئے گابلکہ انہیں یہ عذاب تمہارے ہاتھوں سے دلوایا جائے گااور اس عذاب کی ابتداء غزوۂ بدرسے شروع ہوگئی تھی۔دوسری یہ کہ مشرکوں کو رسواکرے گا۔اب اعلان برأت میں مشرکوں کی رسوائی کے جس قدر پہلو موجود ہیں اور جن کی تفصیل حاشیہ نمبر 3 میں دی گئی ہے اس سے بڑھ کر ان کی رسوائی کیا ہوسکتی ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس رسوائی کو برداشت کرنے کے بغیر ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔تیسری یہ کہ تمہیں ان پر مدد دے گا اور اس مدد کا آغاز بھی غزوہ بدر سے شروع ہوگیا تھا جس کی تفصیل پہلے دی جاچکی ہے۔پھر اللہ کی یہ مدد ہردم مسلمانوں کے شامل حال رہی ،چوتھی یہ کہ مسلمانوں کے دل مشرکوں کے ظلم و ستم سہہ سہہ کر بہت زخمی ہوچکے تھے اور ابتداً انہیں ہاتھ تک اٹھانے کی بھی اجازت نہ تھی ۔صرف ان کے ظلم وستم برداشت کرنےکی اور درگزرکرنے کی تاکید کی جاتی رہی ۔پھر جوں جوں اللہ تعالیٰ انہیں ستم رسیدہ کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں ان مغرور و سرکش مشرکوں کو پٹواتارہاتو ان مسلمانوں کے دل ان کی طرف سے ٹھنڈے ہوگئے کہ دلوں میں جاگزیں رنجشیں اور غصے سب کافور ہوگئے اور پانچویں یہ کہ انہی مغرور کافروں میں سے اللہ جسے چاہے گاتوبہ کی توفیق دے کر تمہارا بھائی اور تمہارا غمگسار بھی بنادے گااور اس کی مثالیں بے شمار ہیں جو ابتدائے اسلام سے لے کر تاہنوز جاری ہیں۔(تیسیر القرآن)
تیسرا رکوع |
| مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ ﴿17﴾ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ ﴿18﴾ اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ ﴿19﴾ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ ﴿20﴾ یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ ﴿21﴾ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ﴿22﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿23﴾ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿24ع التوبة 9﴾ |
| 17. مشرکوں کو زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ 18. خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں۔ 19. کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ 20. جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ 21. ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے۔ 22. (اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے۔ 23. اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔ 24. کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ |
تفسیر آیات
17۔ مذہبی صحیفوں میں مشرک کو زانیہ عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح ایک عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ سارا چاؤ پیار بیکار ہے اگر وہ بدکار ہے اسی طرح بندے کا سارا کیا دھرا برباد ہے اگر وہ اپنے رب کا کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
18۔ ۔۔سیدناابوسعیدؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا "اگرتم کسی آدمی کو مسجد میں آجانے کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مسجدیں صرف وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔"(ترمذی۔ابواب التفسیر)۔۔۔سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا"سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔1۔عادل بادشاہ،2۔وہ جوان جو جوانی کی امنگ سے اللہ کی عبادت میں رہا۔3۔وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگارہتاہے،4۔ وہ دومردجنہوں نے اللہ کی خاطر محبت کی پھر اس پر قائم رہے۔اور اسی پر جدا ہوئے۔5۔وہ شخص جسے کسی حسب و جمال والی عورت نے(بدی کیلئے)بلایامگر اس نے کہا کہ میں اللہ سے ڈرتاہوں،6۔ وہ مرد جس نے داہنے ہاتھ سے ایسے چھپاکر صدقہ دیا کہ بائیں ہاتھ تک کو خبر نہ ہوئی،7۔ وہ مرد جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیاتو اس کے آنسوبہہ نکلے۔"(بخاری۔کتاب الزکوٰۃ۔باب الصدقۃ بالیمین)۔(تیسیر القرآن)
ــــ عسیٰ کیلئے اوپر کئی بار آچکا ہے کہ جب یہ وعدۂ الٰہی کے سیاق میں آتاہے ،تو اس میں معنی یقین کے پیدا ہوجاتے ہیں، اور وجۂ احتمال باقی نہیں رہتا۔۔۔ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ۔محققین نے یہاں یہ قید لگادی ہے کہ دین کے باب میں بجزاللہ کے کسی سے نہیں ڈرتے ،یہ مراد نہیں کہ جن چیزوں سے ڈرنا ایک امر طبعی ہے ان میں بھی کسی سے نہیں ڈرتے ،جیساکہ عوام اور ناقصِ قسم کے مشائخ نے سمجھ رکھا ہے۔۔۔ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ۔بعض اکابر سلف نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جن لوگوں کو مساجد میں آباد ہوتے دیکھو ،ان سے حسن ظن رکھنا لازم ہے۔(تفسیر ماجدی)
19/18۔ سب سے افضل عمل ،ایمان باللہ اور جہاد ہے :۔مشرکین مکہ کو اس پر بڑا فخر و ناز تھا کہ ہم حاجیوں کی خدمت کرتے، انہیں پانی پلاتے،کھانا کپڑا دیتے اور مسجد حرام کی مرمت یا کِسوَۃ کعبہ یا تیل بتی وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں۔اگر مسلمان اپنے جہاد و ہجرت وغیرہ پرنازاں ہیں تو ہمارے پاس عبادات کا یہ ذخیرہ موجود ہے۔ایک زمانہ میں حضرت عباسؓ نے بھی حضرت علیؓ کے مقابلہ میں اسی طرح کی بحث کی تھی،بلکہ صحیح مسلم میں ہے کہ ایک دفعہ چندمسلمان آپس میں جھگڑرہے تھے،کوئی کہتا تھا کہ میرے نزدیک اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے سے زیادہ کوئی عبادت نہیں ۔دوسرے نے کہا میرے خیال میں اسلام کے بعد بہترین عمل مسجد حرام کی خدمت ہے(مثلاً جھاڑو دینا یا روشنی وغیرہ کرنا)تیسرا بولا کہ جہاد فی سبیل اللہ تمام عبادات و اعمال سے افضل و اشرف ہے۔حضرت عمرؓ نےان کو ڈانٹا کہ تم "جمعہ"کے وقت منبر رسول اللہؐ کے پاس بیٹھ کر اس طرح بحثیں کررہے ہو۔ذرا صبر کرو۔جب حضورؐجمعہ سے فارغ ہوجائیں گے آپؐ سے یہ چیز دریافت کرلی جائیگی۔چنانچہ جمعہ کے بعد حضورؐ سے سوال کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں۔"اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔الخ"یعنی حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کا ظاہری طورپربسانا ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ میں سے کسی ایک کے برابر بھی نہیں ہوسکتا(افضل ہونا توکجا؟)یہاں جہاد کے ساتھ ایمان باللہ کا ذکر یا تو اس لئے کیا کہ مشرکین کے فخرو غرور کا جواب بھی ہوجائے کہ تمام عبادات کی روح ایمان باللہ، اس روح کے بدون پانی پلانا یا مسجد حرام کی خدمت کرنا محض مردہ عمل ہے تو یہ بے جان اور مردہ عمل ایک زندہ جاوید عمل کی برابری کیسے کرسکتاہے۔"وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ"(فاطررکوع3) اور اگر صرف مؤمنین کے اعمال کی فضیلت کو بیان فرمانا ہے۔ایمان کے ذکر سے تنبیہ فرمادی کہ جہاد فی سبیل اللہ کی تمہید کے طورپر ہوگا۔اصل مقصود جہاد و غیرہ عزائم اعمال کی فضیلت کو بیان فرمانا ہے۔ایمان کے ذکر سے تنبیہ فرمادی کہ جہاد فی سبیل اللہ ہویا کوئی عمل ایمان کے بغیر ہیچ اور لاشے محض ہے۔ ان عزائم اعمال(جہاد و ہجرت وغیرہ)کا تقوم بھی ایمان باللہ سے ہوتاہے اور اس نکتہ کو وہ ہی لوگ سمجھتے ہیں جو فہم سلیم رکھتے ہوں۔ظالمین (بے موقع کام کرنے والوں)کی ان حقائق تک رسائی نہیں ہوتی۔(تفسیر عثمانی)
20۔ جہاد کے فضائل کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر مذکورہیں یہاں ہم صرف دواحادیث پر اکتفاء کرتے ہیں۔1۔ سیدناابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا"مجھے ایسا عمل بتلائیے جوجہاد کے ہم پلہ ہو؟آپؐ نے فرمایا"میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا۔"(بخاری۔کتاب الجہاد۔باب فضل الجہاد و السیر)2۔ سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ سے سوال کیا گیا اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟فرمایا "مومن جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتاہو۔"(بخاری۔کتاب الجہاد۔باب افضل الناس مومن،مسلم۔کتاب الجہاد۔باب فضل الجہاد والرباط)۔(تیسیر القرآن)
23۔ ایمان کی تکمیل کب؟:۔ یعنی ایمان کا تقاضایہ ہے کہ اگر باپ یا بھائی کافر ہوں تو ان سے قرابت تو کیا رفاقت بھی نہ رکھی جائے اور اگر مومن یا مسلمان اس معیار پر پورانہیں اترتا تو سمجھ لے کہ اس کا ایمان مکمل نہیں۔اس مضمون کو کتاب و سنت میں متعدد مقامات پر مختلف پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ ایک دفعہ سیدنا عمرؓ نے آپؐ سے کہا کہ آپ مجھے اپنی ذات کے سواسب سے زیادہ محبوب ہیں تو آپؐ نے فرمایا "ابھی تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوا۔"پھر کسی وقت سیدنا عمرؓ نےآپؐ سے کہا "اللہ کی قسم! آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں"۔آپؐ نے فرمایا "اب تمہاراایمان مکمل ہوا۔"(بخاری۔کتاب الایمان والنذور۔باب کیف کانت یمین النبیؐ)۔(تیسیر القرآن)
24۔ سچا ایمان اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ اللہ اور رسول کی محبت ساری دنیا اور خود اپنی جان سے بھی زیادہ ہو۔(معارف القرآن)
چوں می گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلاتِ لاالٰہ را
- نہایت فیصلہ کن انداز میں اس باب کی آخری تنبیہ ہے ۔انسان کی تمام محبوبات میں سے ایک ایک کو گناکرفرمایا کہ اگر ان میں سے کوئی چیز بھی کسی کو اللہ،رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ عزیز و محبوب ہےتو وہ اللہ کے فیصلے کا انتظار کرے۔
- یہاں محبوبات و مرغوبات کی جو فہرست گنوائی ہے ان میں نہایت لطیف نفسیاتی ترتیب ہے ۔باپ ، بیٹا،بھائی، بیوی اور خاندان پھر اموال ،کاروبار اور مکانات۔ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ۔دھمکی اور نہایت سخت دھمکی ۔(تدبرقرآن)
ــــ اس میں جہاد سے گریز پر سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ(اعلائے کلمۃ اللہ کیلئے جنگ)کو اسلام میں انتہائی اہمیت دی گئی ہے اور اسے اسلام کی ایک عظیم چوٹی کہا گیاہے۔جہاد سے اسلام کا قیام عمل میں آتاہے(کلمۃ اللہ)"اللہ کا کلمہ،دین اسلام"(لا الٰہ الا اللہ)"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں"کو غلبہ حاصل ہوتاہے اور اس سے دین(اسلام)کی اشاعت ہوتی ہے جہاد ترک کرنے سے اسلام پامال ہوکر رہ جاتاہے اور مسلمان انتہائی پستی و ذلت میں جاگرتے اور شرف و عزت سے محروم ہوجاتے ہیں (نعوذ باللہ من ذلک)ان کی زمینیں غصب کرلی جاتی ہیں اور ان کی حکومت اور اقتدار معدوم ہوجاتاہے۔اسلام میں جہاد ایک نہایت اہم فریضہ ہے اورجو اس فریضے سے فرار کی کوشش کرتاہے یا دل کی گہرائیوں سے اس کو اداکرنے کی آرزو نہیں کرتا تو وہ نفاق کی خصلتوں میں سے ایک خصلت کے ساتھ مرتاہے،یعنی نفاق کی حالت میں اسے موت آتی ہے۔(صحیح مسلم، الامارۃ، باب ذم من مات وولم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو،حدیث:1910)(احسن الکلام)
-ہرکوئی اپنے دل میں ترازو لگائے اور ایک طرف رشتے دار اور مال اور دوسری طرف اللہ اور رسول ؐ اور جہادرکھے ۔پہلی صورت میں انتظار کرے۔
ع۔ یہ مال و منال ِ دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں ،لاالٰہ الا اللہ(بیان القرآن)
۔ فَتَرَبَّصُوْا۔ایسے موقع پر قرآن مجید جب صیغۂ امر اختیار کرتاہے تو مقصود ہمیشہ تہدید و تخویف ہوتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
چوتھا رکوع |
| لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ ﴿25﴾ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ ﴿26﴾ ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿27﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿28﴾ قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿29ع التوبة 9﴾ |
| 25. خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے۔ 26. پھر خدا نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی (اور تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اُتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔ 27. پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 28. مومنو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہٴ کعبہ کا پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بےشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔ 29. جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ |
تفسیر آیات
25۔ حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک مقام کا نام ہے، جو مکہ مکرمہ سے دس میل سے کچھ زیادہ فاصلہ پر واقع ہے، رمضان 8 ہجری میں جب مکہ مکرمہ فتح ہوا اور قریش مکہ نے رسول کریم ﷺ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، تو عرب کا ایک بہت بڑا مشہور بہادر جنگجو اور مالدار قبیلہ ہوازن جس کی ایک شاخ طائف کے رہنے والے بنو ثقیف بھی تھے، ان میں ہلچل مچ گئی، انہوں نے جمع ہو کر یہ کہنا شروع کیا کہ مکہ فتح ہوجانے کے بعد مسلمانوں کو کافی قوت حاصل ہوگئی ہے، اس سے فارغ ہونے کے بعد لازمی ہے کہ ان کا رخ ہماری طرف ہوگا، اس لئے دانشمندی کی بات یہ ہے کہ ان کے حملہ آور ہونے سے پہلے ہم خود ان پر حملہ کردیں، اس کام کے لئے قبیلہ ہوازن نے اپنی سب شاخوں کو جو مکہ سے طائف تک پھیلی ہوئی تھیں جمع کرلیا، اس قبیلہ کے سب بڑے چھوٹے بجز معدودے چند افراد کے جن کی تعداسو (100) سے بھی کم تھی، سب ہی جمع ہوگئے۔۔۔۔۔اس تحریک کے لیڈر مالک بن عوف تھے جو بعد میں مسلمان ہوگئے اور اسلام کے بڑے علمبردار ثابت ہوئے۔ اس وقت مسلمانوں کے خلاف حملہ کا سب سے زیادہ جوش ان ہی میں تھا۔ قبیلہ کی عظیم اکثریت نے ان کی رائے سے اتفاق کر کے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں، اس قبیلہ کی چھوٹی چھوٹی دو شاخیں بنو کعب اور بنو کلاب اس رائے سے متفق نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ نے ان کو کچھ بصیرت دے دی تھی، انہوں نے کہا کہ اگر مشرق سے مغرب تک ساری دنیا بھی محمد ﷺ کے خلاف جمع ہوجائے گی تو وہ ان سب پر بھی غالب آئیں گے، ہم خدائی طاقت کے ساتھ ْجنگ نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔ 25، 26 آیت میں اسی مضمون کا بیان ہے، ارشاد فرمایا کہ جب تم کو اپنے مجمع کی کثرت سے غرہ ہوگیا تھا پھر وہ کثرت تمہارے لیے کچھ کارآمد نہ ہوئی اور زمین باوجود فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی نازل فرمائی اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اور ایسے لشکر فرشتوں کے نازل کردیئے، جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو تمہارے ہاتھ سے سزا دلوا دی۔(معارف القرآن)
ــــ غزوۂ حنین اور اس کے اسباب:۔حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے جہاں فتح مکہ کے بعد شوال8 ھ میں حق و باطل کا ایک بہت بڑا معرکہ پیش آیاتھا۔عرب کے اکثر بدوی قبائل اس انتظار میں تھے کہ اگرمحمدؐ قریش پر غالب آگئے اور مکہ فتح ہوگیا تو بلاشبہ وہ پیغمبرہیں اور ان کی دعوت کو قبول کرلینا چاہیے۔چنانچہ مکہ کی فتح کے بعد بہت سے قبائل خود بخود آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لے آئے لیکن ہوازن اور ثقیف کا معاملہ دوسرے قبائل کے بالکل برعکس تھا۔قبائل نہایت جنگجو اور فنون حرب و ضرب کے خوب ماہر تھے اور جوں جوں اسلام کو غلبہ حاصل ہوتاتھا یہ قبائل اس غلبہ کو اپنی ریاست و اقتدار کیلئے خطرہ سمجھ کر اور بھی زیادہ سیخ پاہوجاتے تھے۔مکہ کی فتح کے بعد ان دونوں قبائل نے باہمی اتفاق سے یہ پروگرام بنایا کہ اس وقت مسلمان مکہ میں جمع ہیں۔اسی مقام پر ان پر ایک بھرپور حملہ کرکے ان کا زور توڑدیا جائے۔ان لوگوں کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی عورتیں اور بچے بھی ساتھ لے آئے تھےتاکہ کسی کو پسپائی کا خیال ہی پیدا نہ ہو۔ایک تیس سالہ نوجوان مالک بن عوف ان کا سپہ سالار تھا۔(تیسیر القرآن)
ـــ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ۔یہاں صاف بتادیا کہ شکست کا اصلی راز مسلمانوں کی خود بینی تھی،اپنی کثرتِ تعداد پر نازوغرّہ ۔فقہاء مفسرین نے اس آیت کو بھی آیات احکام میں شمار کیا ہے ، اور چونکہ حدیثِ مالک میں ذکر آیا ہے کہ اس جہاد میں صفوان مشرک بھی شریک تھا ،اس لئے اس سے بعض فقہی مسائل مستنبط کئے ہیں،امام مالکؒ کی رائے ہے کہ مشرکین کے خلاف جہاد میں مشرک سے مدد لینا جائز نہیں بجز اس صورت کے کہ وہ مشرک خادم بن کر پیش ہوجائے۔۔۔دوسرے ائمہ فقہ، ابوحنیفہ و شافعی و ثوری اوزاعی کی رائے میں جب کلمۂ اسلام غالب ہورہاہوتو اس کیلئے مشرکین سے استعانت جائز ہے۔(تفسیر ماجدی)
28۔ ۔۔۔اللہ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو اس طرح غنی کردیا کہ لوگ اپنی زکوۃ کا مال مدینہ کی گلیوں میں لیے پھرتے تھے لیکن اس کا کوئی لینے والا نہیں ملتا تھا۔ (تدبرِ قرآن)
29۔ غیرمسلموں سے جزیہ :۔ اس آیت میں صرف اہل کتاب سے جزیہ لینے کا ذکر ہے جبکہ رسول اللہؐ نے مجوس سے بھی جزیہ لیا تھا۔جس سے معلوم ہواکہ ہر مذہب کے غیر مسلموں سے جزیہ لیا جاسکتاہے جیساکہ درج ذیل حدیث میں بھی کسریٰ شاہ ایران سے جزیہ کے مطالبہ کا ذکر ہے اور ظاہرہے کہ یہ لوگ سورج پرست اور آتش پرست تھے۔(تیسیر القرآن)
ــــ یعنی ان سے جنگ و قتال اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ ہتھیار رکھ کر ،امن طلب کرکے ،جزیہ دینے پر مجبور نہ ہوجائیں۔۔۔ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۔یہ تصریح تو اہل کتاب کی ہے، لیکن جو صفات ان کی بیان ہوئی ہیں وہ ان سے بڑھ کر مشرکین میں پائی جاتی ہیں، اس لئے مشرکین سے قتال بدرجۂ اولیٰ واجب ہوگا ،البتہ مشرکین عرب سنت و احادیث رسول کی بناپر اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، ان کے حق میں جزیہ نہیں جزیرۃ العرب، قیامت تک کیلئے توحید کا جغرافی مرکز قراردیا گیا اس کے اندر کفروشرک کی اجازت کسی شرط پر بھی نہیں دی جاسکتی،ان لوگوں کے حق میں قرآن کی دوسری آیتیں ہیں۔مثلاً قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وغیرھا۔ مجوس و مشرکین ہند وغیرہ سب اس حیثیت سے اہل کتاب کے حکم میں داخل ہیں،مستثنیٰ صرف مشرکین عرب ہیں۔۔۔امام شافعیؒ نے بہت صحیح کہا ہے کہ صغار یہی ہے کہ قانونِ اسلام کی بالادستی تسلیم کرلی جائے۔۔۔روم و ایران کی رعایا کو ،مسلمانوں کی حکومت میں آجانے کے بعد جو رقم جزیہ کی دینا پڑتی تھی ،وہ ان محصولوں سے کہیں کم تھی جو ان لوگوں کو پہلی حکومتوں کے وقت دینا پڑتی تھی،یہ شہادت حال کے ایک مشہور عیسائی اہل قلم جرجی زیدان مصری کی ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔اہل کتاب اور مشرکین میں فرق کی وجہ : یہاں ایک بات بہت نمایاں طور پر محسوس ہوگی کہ اہل کتاب کے ساتھ جو معاملہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے وہ اس سے مختلف ہے جس کی ہدایت اوپر مشرکین کے باب میں کی گئی ہے۔ مشرکین کے باب میں تو یہ حکم ہوا کہ جب تک یہ کفر سے توبہ کر کے اسلام نہ اختیار کرلیں اس وقت تک ان کا پیچھا نہ چھوڑو لیکن ان اہل کتاب کو جزیہ کی ادائیگی پر امان دے دینے کی ہدایت ہوئی۔ اس فرق کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں کہ مشرکین عرب کی طرف رسول اللہ ﷺ کی بعثت براہ راست تھی۔ آپ انہی کے اندر سے اٹھائے گئے، انہی کی زبان میں آپ ﷺ پر اللہ کا کلام اترا ا ور انہی کو آپ نے اپنی دعوت کا مخاطب اول بنایا اور ہر پہلو سے انہی کے معروف و منکر اور انہی کے مطالبات کے مطابق آپ نے ان پر اتمام حجت کیا۔ اس اہتمام کے بعد ان کے لیے کسی مزید مہلت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چناچہ مشرکین بنی اسماعیل ذمی نہیں بنائے جاسکتے تھے لیکن دوسرے غیر مسلموں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اسلامی حکومت میں ذمی بن کر رہ سکتے ہیں۔۔۔۔مفتوح اور معاہدان ذمہ کا حکم : یہ بات یہاں خاص طور پر ذہن میں رکھنے کی ہے کہ آیت میں جو حکم بیان ہوا ہے وہ مفتوح اہل ذمہ کا ہے یعنی جنہوں نے اسلامی حکومت سے جنگ کی ہو اور شکست کھا کر اس کی اطاعت پر مجبور ہوئے ہوں۔ وہ اہل ذمہ اس سے الگ ہیں جن کو فقہاء نے معاہدہ یا اہل صلح سے تعبیر کیا ہے۔ معاہد اہل ذمہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بغیر کسی جنگ و قتال کے بطور خود اپنی مرضی سے اسلامی حکومت کی رعیت بن کر رہنا اختیار کیا ہو۔ ان لوگوں کے ساتھ حکومتِ اسلامی اس عہد نامے کے مطابق معاملہ کرے گی جو ان کے اور حکومت کے مابین طے پا چکا ہو۔ یہاں تک کہ اگر وہ اس بات پر مصر ہوں کہ ان پر بھی اسی طرح کے مالی واجبات عائد کیے جائیں جو مسلمانوں پر عائد ہیں تو حکومت ان سے اپنی صواب دید کے مطابق اس شرط پر بھی معاہدہ کرسکتی ہے، دوسروں لفظوں میں اس فرق کو یوں سمجھیے کہ اگر جزیہ کی ادائیگی میں وہ عار اور ذلت محسوس کریں تو ان کو اس سے مستثنی کر کے ان کے لیے کوئی اور مناسب شکل اختیار کی جاسکتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ اگر مسلمانوں نے کسی ملک کو جنگ کے ذریعہ فتح کیا، پھر وہاں کے باشندوں کی جائیدادوں کو انہی کی ملکیت پر برقرار رکھا، اور وہ رعیت بن کر رہنے پر رضا مند ہوگئے، تو ان کے جزیہ کی مقرر شرح یہ ہوگی جو حضرت فاروق اعظم نے اپنے عہد خلافت میں نافذ فرمائی کہ سرمایہ دار متمول سے چار درہم اور متوسط الحال سے اس کا نصف صرف دو درہم اور غریب سے جو تندرست اور محنت مزدوری یا صنعت و تجارت وغیرہ کے ذریعہ کماتا ہے اس سے اس کا بھی آدھا صرف ایک درہم ماہوار یعنی ساڑھے تین ماشہ چاندی یا اس کی قیمت لی جائے، اور ان کے تارک الدنیا مذہبی پیشواؤں سے کچھ نہ لیا جائے۔ (معارف القرآن)
پانچواں رکوع |
| وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ ﴿30﴾ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿31﴾ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ﴿32﴾ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ﴿33﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ ﴿34﴾ یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ ﴿35﴾ اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ﴿36﴾ اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿37ع التوبة 9﴾ |
| 30. اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے۔ یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔ 31. انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔ 32. یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔ 33. وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔ 34. مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو۔ 35. جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔ 36. خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔ 37. امن کے کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ |
تفسیر آیات
30۔ عزیر یا توریت کے تلفظ میں عزرا (متوفی غالباً458 قبل مسیح)یہود کے مذہبی نوشتوں میں نبی سے زیادہ کاتب کی حیثیت سے مشہورہیں،بخت نصر (604 تا 561 قبل مسیح )کے حملہ یروشلم اور اس کی کامل تباہی اور بربادی (586ق۔م)کے بعد سے جب تو رات کے نسخے یہود کے پاس سے بالکل غائب ہوگئے تو انہی عزیر (عزرا)نے توریت کو ازسرنواپنی یادداشت سے لکھا اور اس لئے انہیں یہود مثل موسیٰ تسلیم کرتے ہیں،بلکہ بعض نے غلو کرکے اس مرتبہ سے بھی بڑھادیا ہے ۔۔۔مسیحیت کی دوگمراہیاں ایک شدید اور دوسری شدید تر الگ الگ ہیں ،ایک ہے حضرت مسیحؑ کو اللہ کا ولد (SON OF GOD)قرار دینا،اس کا ذکر قرآن میں جہاں آیا ہےاکثر بہت سخت وعید کے ساتھ آیا ہے۔ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ وغیرہا،دوسری گمراہی ہے ،حضرت مسیح ؑ کو خدا کا فرزند مجازی (CHILD OF GOD)قراردینا،قرآن نے اس عقیدہ کو ابن اللٰہیت سے تعبیر کیا ہے،یہ گوبجائے خود شدید ہے ،پھر بھی ولد اللٰہیت کا عقیدہ اس سے اشد ہے۔۔۔۔یعنی ان مہمل عقائد پر ان کے پاس نہ دلیل عقلی ہے نہ نقلی، یہ تو محض ان جاہلی مشرک قوموں کی تقلید ہے جو باری تعالیٰ کی تجسیم کی قائل تھیں ، اور عقیدہ حلول یا اوتار کی ماننے والی تھیں ،اشارۂ خاص مشرکین یونان کی جانب ہے کہ انہی کے حکماو فلاسفہ کے اقوال سے پہلی صدی عیسوی کے یہود و نصاریٰ دونوں ہی متاثر ہوگئے تھے اور ان کی مشرکانہ تعلیمات کو برابر اپنے عقائد کا جزوبناتے چلے گئے،مسیحیت پر یونانی اور رومی مذہبوں کے گہرے اثرکی دریافت انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر کےفاضل محققوں کا خاص کارنامہ سمجھا جاتاہے قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے صدیوں قبل جب کوئی نام بھی بائیبل کی(HIGHER CRITICISM) کا نہیں جانتا تھا ،ایک امی کی زبان سے دنیا کو اس حقیقت سے آشنا کردیا۔(تفسیر ماجدی)
32۔ نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔( انوار القرآن)
30۔ عزیر یا توریت کے تلفظ میں عزرا (متوفی غالباً458 قبل مسیح)یہود کے مذہبی نوشتوں میں نبی سے زیادہ کاتب کی حیثیت سے مشہورہیں،بخت نصر (604 تا 561 قبل مسیح )کے حملہ یروشلم اور اس کی کامل تباہی اور بربادی (586ق۔م)کے بعد سے جب تو رات کے نسخے یہود کے پاس سے بالکل غائب ہوگئے تو انہی عزیر (عزرا)نے توریت کو ازسرنواپنی یادداشت سے لکھا اور اس لئے انہیں یہود مثل موسیٰ تسلیم کرتے ہیں،بلکہ بعض نے غلو کرکے اس مرتبہ سے بھی بڑھادیا ہے ۔۔۔مسیحیت کی دوگمراہیاں ایک شدید اور دوسری شدید تر الگ الگ ہیں ،ایک ہے حضرت مسیحؑ کو اللہ کا ولد (SON OF GOD)قرار دینا،اس کا ذکر قرآن میں جہاں آیا ہےاکثر بہت سخت وعید کے ساتھ آیا ہے۔ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ وغیرہا،دوسری گمراہی ہے ،حضرت مسیح ؑ کو خدا کا فرزند مجازی (CHILD OF GOD)قراردینا،قرآن نے اس عقیدہ کو ابن اللٰہیت سے تعبیر کیا ہے،یہ گوبجائے خود شدید ہے ،پھر بھی ولد اللٰہیت کا عقیدہ اس سے اشد ہے۔۔۔۔یعنی ان مہمل عقائد پر ان کے پاس نہ دلیل عقلی ہے نہ نقلی، یہ تو محض ان جاہلی مشرک قوموں کی تقلید ہے جو باری تعالیٰ کی تجسیم کی قائل تھیں ، اور عقیدہ حلول یا اوتار کی ماننے والی تھیں ،اشارۂ خاص مشرکین یونان کی جانب ہے کہ انہی کے حکماو فلاسفہ کے اقوال سے پہلی صدی عیسوی کے یہود و نصاریٰ دونوں ہی متاثر ہوگئے تھے اور ان کی مشرکانہ تعلیمات کو برابر اپنے عقائد کا جزوبناتے چلے گئے،مسیحیت پر یونانی اور رومی مذہبوں کے گہرے اثرکی دریافت انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر کےفاضل محققوں کا خاص کارنامہ سمجھا جاتاہے قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے صدیوں قبل جب کوئی نام بھی بائیبل کی(HIGHER CRITICISM) کا نہیں جانتا تھا ،ایک امی کی زبان سے دنیا کو اس حقیقت سے آشنا کردیا۔(تفسیر ماجدی)
32۔ نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔( انوار القرآن)
33۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ دین اسلام کو تمام دوسرے دینوں پر غالب کرنے کی خوشخبری اکثر زمانوں اور اکثر حالات کے اعتبار سے ہے جیسا کہ حضرت مقداد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی کچا پکا مکان باقی نہ رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوجائے، عزت داروں کی عزت کے ساتھ اور ذلیل لوگوں کی ذلت کے ساتھ جن کو اللہ تعالیٰ عزت دیں گے وہ مسلمان ہوجائیں گے اور جن کو ذلیل کرنا ہوگا وہ اسلام کو قبول تو نہ کریں گے مگر اسلامی حکومت کے تابع ہوجائیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا، ایک ہزار سال کے قریب اسلام کی شان و شوکت پوری دنیا پر چھائی رہی۔ (معارف القرآن)
34۔ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ۔ اگرچہ اس ٹکڑے میں اشارہ انہی زرپرستوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر گزرا لیکن اس کا اسلوب ِ بیان عام تعلیم کا ہے کہ جو لوگ بھی دولت جمع کریں گے اور اسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کریں گے ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنادو۔اس تعلیم کا واضح مدعا یہی ہے کہ دولت جمع کرنے کیلئے نہیں بلکہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے ہے۔خداکی راہ سے مراد،جیساکہ کہ دوسرے مقام میں وضاحت ہوچکی ہے، وہ تمام مصارفِ خیر ہیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں یا بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کے تحت آتے ہیں۔یہ بات یہاں پیش نظر رکھنے کی ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ مالک نصاب ہوتے زکوٰۃ نہیں دینگے اس کیلئے یہ وعید ہے بلکہ یہ فرمایا کہ جو لوگ مال و دولت ذخیرہ کرینگے اور اس کو راہ خدا میں خرچ نہیں کرینگے ان کیلئے یہ وعیدہے۔ انفاق فی سبیل اللہ ایتائے زکوٰۃ سے الگ چیز ہے۔ہر صاحب مال سے اللہ تعالیٰ کے دومطالبے ہیں۔ایک یہ کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ اداکرے ،دوسرا یہ کہ وہ اپنا مال سینت کررکھنے کی بجائے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔پہلا مطالبہ قانونی ہے اور ایک اسلامی حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ ہر شہری سے زکوٰۃ ،اگر محسوس کرے، بجبر و بزور وصول کرے۔دوسرا مطالبہ اگرچہ جبر و زور کے ذریعہ سے پورانہیں کرایا جاسکتابلکہ یہ صاحبِ مال کے اختیار پر چھوڑا گیاہے لیکن اللہ کے ہاں آدمی کے درجہ و مرتبہ کا اصلی انحصار اسی آزادانہ اور رضاکارانہ انفاق پر ہے۔اسی انفاق سے آدمی کے ایمان کو ،جیساکہ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں واضح کرآئے ہیں، ثبات و استحکام حاصل ہوتاہے،یہی انفاق حکمت کا خزانہ بخشتا ہے،اسی سے نور قلب میں افزونی ہوتی ہے۔اگر مال کے ڈھیر رکھتے ہوئے کوئی شخص اپنے پاس پڑوس کے یتیموں ،بے کسوں، ناداروں سے بے پرواہے یا دعوتِ دین ،اقامتِ دین ، تعلیم دین اور جہاد فی سبیل اللہ کے دوسرے کاموں سے بے تعلق ہوجائے تو وہ عنداللہ مواخذہ اور مسؤلیت سے بری نہیں ہوسکتااگرچہ اس نے اپنے مال کا قانونی مطالبہ پورا کردیا ہو۔آگے اسی سورۂ میں ان منافقین کا بیان آئے گا جو مال رکھتے ہوئے خداکی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان سمجھتے تھے۔قرآن نے ان کی اس زرپرستی کو ان کے نفاق کی دلیل قراردیاہے اور نہایت ہی سخت الفاظ میں ان کو وعید سنائی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ وعید ان کوزکوٰۃ نہ اداکرنے پر نہیں دی گئی ہے۔زکوٰۃتو وہ طوعاً وکرہاً بہرحال اداکرتے ہی تھے۔ نہ اداکرتے توتلوار کے زور سے اداکرتے ۔ان کا اصلی جرم یہی تھا کہ وہ مال دار ہونے کے باوجود جہاد کیلئے انفاق سے جی چراتے تھے اور جہاد کیلئے انفاق سے جی چرانا علامات نفاق میں سے ہے بلکہ بعض حالات میں تو یہ نہایت غلیظ قسم کا نفاق بن جاتاہے جس کے ساتھ ایمان جمع ہوہی نہیں سکتا۔-----صحابہ کرامؓ کی دولت مندی کی نوعیت:۔بعض لوگ بعض صحابہؓ کی دولت مندی کو مثال میں پیش کرکے اس سے استدلال کرتے ہیں کہ ادائیگی زکوٰۃ کے ساتھ جمع کرنے میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔صحابہؓ میں جو لوگ دولت مند تھے ان کی دولت مندی کا روباری اور تجارتی نوعیت کی تھی۔جائز کا روبار اور تجارت میں سرمایہ لگانا اور اس کو بڑھانا کنز نہیں بلکہ اکتساب ِ دولت ہے اور یہ اسلام میں کوئی مذموم فعل نہیں بلکہ ایک محمود فعل ہے۔اگر ایک شخص جائز کاروبار میں سرمایہ لگائے، حلال راستوں سے روپیہ کمائے، اسراف اور بخل دونوں سے پرہیز کرتاہوا اپنی ضروریات پر خرچ کرے،اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے اور اپنی فاضل دولت سراً اور علانیۃًاللہ کی راہ میں اپنی مرضی سے خرچ کرے تو وہ اسلامی معاشرہ کا ایک سچا خدمت گزار اور آخرت میں اللہ کا مقبول بندہ ہے۔صحابہ میں سیدنا عثمان غنیؓ ایسے ہی دولت مند تھے اور دوسرے اصحاب کی دولت مندی بھی اسی نوعیت کی تھی۔ عثمان غنیؓ کی دولت سے مسلمانوں کو جو فائدے پہنچے اس سے کون انکار کرسکتاہے؟پھر یہ بات کس طرح باور کی جاسکتی ہے کہ یہ غنئ دریا دل اپنی زندگی کے آخری دور میں اپنی انفاق کی عادت مستمرہ کے خلاف دولت جمع کرنے کی فکر میں لگ گیا ہوگا۔۔۔۔۔زکوٰۃ اور انفاق میں فرق: ۔لیکن خوب یادرکھیے کہ یہ انفاق زکوٰۃ کی طرح کوئی قانونی اور جبری چیز نہیں بلکہ اختیاری چیز ہے۔ اور اس کے اس اختیاری ہونے ہی میں اس کی ساری برکتیں ہیں۔ ایک اسلامی معاشرہ میں یہ چیز ہر صاحبِ مال سے مطلوب ہے لیکن بالجبر نہیں بلکہ بالرضا۔یہ حکومت کے فرائض میں ہے کہ وہ معاشرہ کے اندر لوگوں کے اندر دولت کی ذخیرہ اندوزی کی بیماری نہ پھیلنے دے بلکہ برابر اپنے تمام ترغیبی و تعلیمی ذرائع سے لوگوں کے جذبۂ انفاق کو اُبھارتی اور اکساتی رہے۔اس کا سب سے زیادہ کارگر اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ اولوا الامر کے درجہ پر فائز ہوں وہ خود معیار زندگی متوسطانہ رکھیں اور دوسروں کو بھی اسی کی تعلیم دیں بلکہ ان رجحانات کی شدت سے حوصلہ شکنی کریں جو لوگوں کو معیارِ زندگی اونچا کرنے کے تنافس میں مبتلا کرنے والے ہوں۔۔۔۔۔جمعِ مال کا انجام:۔ یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ الایۃ۔ یعنی راہ خداسے بچا اور چرا کر جو دولت جمع کی جاتی ہے وہ قیامت کے دن پیشانی کا داغ اور پہلو اور پیٹھ کا زخم بنے گی۔دولت جمع کرنے کی سرگردانی میں بڑا دخل دوچیزوں کو ہوتاہے۔ایک ہم چشموں میں اپنا سر اونچا رکھنے کی خواہش دوسری اپنے ذاتی آرام و راحت کی طلب۔ فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں سربلندی اور فخر کی خاطر دولت جمع کرینگے ان کی دولت بروز قیامت ان کی پیشانی پر داغ لگائے گی۔اسی طرح جو لوگ نرم ریشمین و مخملیں گدوں ،غالیچوں،قالینوں اور صوفوں کے درپے ہوکر انفاق کی سعادت سے محروم رہیں گے ان کی یہ بچائی ہوئی دولت ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو زخمی کرے گی۔(تدبر قرآن)
- دوسری رائے ۔کنز ،لغت میں اس مال کو کہتے ہیں جسے اکٹھا کرکے جمع کردیا جائے ۔حضرت ابوذرؓ کی رائےہے کہ وہ مال جو ضرورت سے زیادہ ہواسکو جمع کرکے رکھنے کی یہی سزا ہے جو اس آیت میں مذکورہے۔لیکن جمہور صحابہؓ جن میں خلفائے راشدین بھی ہیں کا مذہب ہے کہ ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ اداکردی گئی ہو وہ کنز نہیں۔(ضیاء القرآن)
- اہل کتاب کی حرام خوری :۔ ان کے ناجائز طریقے یہ تھے کہ انہوں نے سود کو جائز قراردے لیا تھا۔بالخصوص غیر یہود سے سود وصول کرنا نیکی کا کام سمجھتے تھے۔نیز غیر یہود کے اموال جس جائز و ناجائز طریقہ سے ہاتھ لگ جائیں وہ ان کے نزدیک حلال اور طیب تھے۔رشوتیں لے کر غلط فتوے دیتےتھے۔نجات نامے فروخت کرتے تھے۔حرام کردہ چیزوں مثلاً چربی کو پگھلاکر ان کی قیمت کھالیتے تھے ۔شادی یا غمی کی کوئی رسم ہو اس میں اپنا حصہ اور نذرانے وصول کرتے تھے۔اور ان کی یہی کارستانیاں بالواسطہ اللہ کے دین میں رکاوٹ کا سبب بن جاتی تھیں۔۔۔۔۔خزانہ جمع کرنے سے مراد:۔ اس جملہ کے مخاطب صرف اہل کتاب ہیں یا ان میں مسلمان بھی شامل ہیں۔اس بارہ میں صحابہ کرامؓ کے درمیان بھی اختلاف تھا۔مثلاً سیدنا عبداللہ بن عمرؓ اس بات کے قائل تھے کہ جس مال سے زکوٰۃ اداکردی جائے وہ خزانہ کے حکم میں نہیں رہتاجبکہ سیدنا ابوذرغفاریؓ اور سیدنا ابن عباسؓ خزانہ جمع کرنے کے مخالف تھے جیساکہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتاہے:۔1۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ ابھی زکوٰۃ کی فرضیت نازل نہیں ہوئی تھی۔پھر جب زکوٰۃ فرض ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اموال کوزکوٰۃ سے پاک کردیا۔(بخاری۔کتاب الزکوٰۃ۔باب مااُدّی زکوٰتہ فلیس بکنز)۔2۔ احنف بن قیس کہتے ہیں کہ:میں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھا ہواتھا۔اتنے میں ایک شخص آیا جس کے بال سخت،موٹے جھوٹے کپڑے اور سیدھی سادی شکل تھی۔اس نے سلام کیا۔پھر کہنے لگا"ان کو خوشخبری سنادو کہ ایک پتھر دوزخ کی آگ میں تپایا جائےگا وہ ان کی چھاتی پر رکھ دیا جائے گااور ان کے مونڈھے کی اوپر والی ہڈی پر رکھ دیا جائے گا جو چھاتی کی بُھٹنی سے پار ہو جائے اسی طرح وہ پتھر ڈھلکتارہے گا۔"یہ کہہ کر اس نے پیٹھ موڑی اور ایک درخت کے پاس جابیٹھا ۔میں نے اس سے کہا "میں سمجھتاہوں تمہاری یہ بات ان لوگوں کو ناگوار گزری ہے"وہ کہنے لگا "یہ لوگ تو بے وقوف ہیں۔ مجھ سے میرے جانی دوست نے کہا"میں نے پوچھا تمہارا جانی دوست کون ہے، کہنے لگا"رسول اللہؐ اور کون؟"آپ نے فرمایا "ابوذر !تو احد پہاڑ دیکھتاہے؟"میں نے عرض کیا"جی ہاں"فرمایا"میں نہیں چاہتاکہ میرے پاس احد پہاڑ برابر سونا ہو۔اگر ہوتومیں تین دینار کے علاوہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کرڈالوں۔"اور یہ لوگ تو بے وقوف ہیں جو روپیہ اکٹھا کرتے ہیں اور میں تو اللہ کی قسم! ان سے نہ تو دنیا کا کوئی سوال کروں گا اور نہ دین کی کوئی بات پوچھوں گا ۔یہاں تک کہ اللہ سے جاملوں۔"(بخاری۔کتاب الزکوٰۃ ۔باب ماادی زکوٰتہ فلیس بکنز)۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
36۔۔۔اس آیت اور مضمون کی دوسری آیات جن میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے مخالفین اسلام نے پروپیگنڈہ شروع کررکھا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور اس اعتراض کے کئی بار کافی و شافی جواب بھی دیئے جاچکے ہیں۔ہمارے خیال میں یہ اعتراض نہ نقلی اعتبار سے درست ہے نہ عقلی اعتبار سے اور نہ تاریخی اعتبار سے ذیل میں ہم انہی باتوں کا مختصر ساجائزہ پیش کررہے ہیں :۔نقلی اعتبار سے یہ اعتراض درج ذیل آیات کی روسے غلط ہے۔1۔لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ۔(دین میں کوئی جبریا زبردستی نہیں)2۔ أَ فَأَنْتَ تُکْرِهُ النّاسَ حَتّى یَکُونُوا مُؤْمِنینَ۔(کیا آپ لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں؟ )3۔ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ۔(جوشخص چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کافر رہے)ایسی واضح آیات کی موجودگی میں کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ رسول اللہؐ یا آپ کے صحابہ کرام نے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہوگی اور کسی شخص کو تلوار دکھا کر یا کسی دباؤ کے ذریعہ اسلام لانے پر مجبور کیا ہوگا؟ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہوتو اسے پناہ دو تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچادو۔"غورفرمائیے کہ دباؤکا اس سے بہتر بھی کوئی موقع ہوسکتاہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اسے مجبور کروکہ وہ اسلام لائے یا پھر اسے موت کے گھاٹ اتاردو بلکہ یوں فرمایا کہ اسے اللہ کا کلام سنانے کے بعد اسے اس کی مرضی پر چھوڑدو۔پھر اگر وہ اسلام لانے پر آمادہ نہ ہو تو اسے اس کے محفوظ علاقہ تک پہنچانا بھی پناہ دینے والے کے ذمہ ڈال دیا گیا۔کیااسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے؟۔سیدنا عمرؓ جس شان وشوکت اور رعب و دبدبہ والے خلیفہ تھے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں آپ کا غلام اسبق نامی عیسائی تھا۔ وہ چونکہ سمجھدار اور ہوشیار آدمی تھا لہذا سیدناعمرؓ نے اسے کہا کہ اگر تم مسلمان ہوجاؤتو ہم مسلمانوں کے کام میں تم سے مدد لیں گے۔یہ واضح اشارہ تھا کہ آپ اسے کوئی اچھا منصب دینا چاہتے تھے۔(تیسیر القرآن)
37۔ لیپ کا طریقہ کیوں رائج ہوااور لیپ کے ذریعے 36 سالوں میں ایک حج گم کردینا:۔ مہینوں کو آگے پیچھے کرلینے کا ایک دوسرا طریق بھی مشرکین عرب میں رائج ہوچکاتھا۔اور وہ یہ تھا کہ ہر قمری سال میں 10 دن زیادہ شمار کرکے اسے شمسی سال کے مطابق بنالیتے تھے۔اور اسے کبیسہ یا لوند یا لیپ کہا کرتے تھے اور اسی کبیسہ کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ہر تین قمری سال بعد ایک ماہ زائد شمار کرلیا جاتاتھا کہ قمری سال بھی شمسی سال کے مطابق رہے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حج کے موقعہ پر بیت اللہ کے متولیوں کو اور دوسرے عبادت خانوں کے مجاوروں کو جو نذرانے پیش کیے جاتے تھےوہ عموماً غلہ کی صورت میں ہوتے تھے اور غلہ پکنے کا تعلق سورج یا شمسی سال سے ہوتاہے۔اگر وہ قمری تقویم پر قائم رہتے تو ان کے نذرانے انہیں بروقت نہیں مل سکتے تھے۔محض اس دنیوی مفاد کی خاطر انہوں نےدوسرے ملکوں کی دیکھا دیکھی یہ کبیسہ کا طریق اختیار کیا تھا۔ اس طرح دوسری قباحتوں کے علاوہ ایک بڑی قباحت یہ واقع ہوتی تھی کہ 36 قمری سال کے عرصہ میں 35 حج ہوتے تھےاورایک حج گم کردیا جاتاتھا۔اتفاق کی بات ہے کہ جب 10ھ میں آپؐ نے حج کیا تو حج کے ایام انہی اصلی قمری تاریخوں اور قمری تقویم کے مطابق تھے۔چنانچہ آپؐ نے اسی موقع پر اپنے خطبہ حجتہ الوداع میں کبیسہ کے اس غیر شرعی اور مذموم طریقہ کو کالعدم قراردے کرشرعی احکام کو قمری تقویم پر استوار کردیا۔(تیسیر القرآن)
33۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ دین اسلام کو تمام دوسرے دینوں پر غالب کرنے کی خوشخبری اکثر زمانوں اور اکثر حالات کے اعتبار سے ہے جیسا کہ حضرت مقداد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی کچا پکا مکان باقی نہ رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوجائے، عزت داروں کی عزت کے ساتھ اور ذلیل لوگوں کی ذلت کے ساتھ جن کو اللہ تعالیٰ عزت دیں گے وہ مسلمان ہوجائیں گے اور جن کو ذلیل کرنا ہوگا وہ اسلام کو قبول تو نہ کریں گے مگر اسلامی حکومت کے تابع ہوجائیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا، ایک ہزار سال کے قریب اسلام کی شان و شوکت پوری دنیا پر چھائی رہی۔ (معارف القرآن)
34۔ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ۔ اگرچہ اس ٹکڑے میں اشارہ انہی زرپرستوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر گزرا لیکن اس کا اسلوب ِ بیان عام تعلیم کا ہے کہ جو لوگ بھی دولت جمع کریں گے اور اسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کریں گے ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنادو۔اس تعلیم کا واضح مدعا یہی ہے کہ دولت جمع کرنے کیلئے نہیں بلکہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے ہے۔خداکی راہ سے مراد،جیساکہ کہ دوسرے مقام میں وضاحت ہوچکی ہے، وہ تمام مصارفِ خیر ہیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں یا بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کے تحت آتے ہیں۔یہ بات یہاں پیش نظر رکھنے کی ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ مالک نصاب ہوتے زکوٰۃ نہیں دینگے اس کیلئے یہ وعید ہے بلکہ یہ فرمایا کہ جو لوگ مال و دولت ذخیرہ کرینگے اور اس کو راہ خدا میں خرچ نہیں کرینگے ان کیلئے یہ وعیدہے۔ انفاق فی سبیل اللہ ایتائے زکوٰۃ سے الگ چیز ہے۔ہر صاحب مال سے اللہ تعالیٰ کے دومطالبے ہیں۔ایک یہ کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ اداکرے ،دوسرا یہ کہ وہ اپنا مال سینت کررکھنے کی بجائے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔پہلا مطالبہ قانونی ہے اور ایک اسلامی حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ ہر شہری سے زکوٰۃ ،اگر محسوس کرے، بجبر و بزور وصول کرے۔دوسرا مطالبہ اگرچہ جبر و زور کے ذریعہ سے پورانہیں کرایا جاسکتابلکہ یہ صاحبِ مال کے اختیار پر چھوڑا گیاہے لیکن اللہ کے ہاں آدمی کے درجہ و مرتبہ کا اصلی انحصار اسی آزادانہ اور رضاکارانہ انفاق پر ہے۔اسی انفاق سے آدمی کے ایمان کو ،جیساکہ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں واضح کرآئے ہیں، ثبات و استحکام حاصل ہوتاہے،یہی انفاق حکمت کا خزانہ بخشتا ہے،اسی سے نور قلب میں افزونی ہوتی ہے۔اگر مال کے ڈھیر رکھتے ہوئے کوئی شخص اپنے پاس پڑوس کے یتیموں ،بے کسوں، ناداروں سے بے پرواہے یا دعوتِ دین ،اقامتِ دین ، تعلیم دین اور جہاد فی سبیل اللہ کے دوسرے کاموں سے بے تعلق ہوجائے تو وہ عنداللہ مواخذہ اور مسؤلیت سے بری نہیں ہوسکتااگرچہ اس نے اپنے مال کا قانونی مطالبہ پورا کردیا ہو۔آگے اسی سورۂ میں ان منافقین کا بیان آئے گا جو مال رکھتے ہوئے خداکی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان سمجھتے تھے۔قرآن نے ان کی اس زرپرستی کو ان کے نفاق کی دلیل قراردیاہے اور نہایت ہی سخت الفاظ میں ان کو وعید سنائی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ وعید ان کوزکوٰۃ نہ اداکرنے پر نہیں دی گئی ہے۔زکوٰۃتو وہ طوعاً وکرہاً بہرحال اداکرتے ہی تھے۔ نہ اداکرتے توتلوار کے زور سے اداکرتے ۔ان کا اصلی جرم یہی تھا کہ وہ مال دار ہونے کے باوجود جہاد کیلئے انفاق سے جی چراتے تھے اور جہاد کیلئے انفاق سے جی چرانا علامات نفاق میں سے ہے بلکہ بعض حالات میں تو یہ نہایت غلیظ قسم کا نفاق بن جاتاہے جس کے ساتھ ایمان جمع ہوہی نہیں سکتا۔-----صحابہ کرامؓ کی دولت مندی کی نوعیت:۔بعض لوگ بعض صحابہؓ کی دولت مندی کو مثال میں پیش کرکے اس سے استدلال کرتے ہیں کہ ادائیگی زکوٰۃ کے ساتھ جمع کرنے میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔صحابہؓ میں جو لوگ دولت مند تھے ان کی دولت مندی کا روباری اور تجارتی نوعیت کی تھی۔جائز کا روبار اور تجارت میں سرمایہ لگانا اور اس کو بڑھانا کنز نہیں بلکہ اکتساب ِ دولت ہے اور یہ اسلام میں کوئی مذموم فعل نہیں بلکہ ایک محمود فعل ہے۔اگر ایک شخص جائز کاروبار میں سرمایہ لگائے، حلال راستوں سے روپیہ کمائے، اسراف اور بخل دونوں سے پرہیز کرتاہوا اپنی ضروریات پر خرچ کرے،اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے اور اپنی فاضل دولت سراً اور علانیۃًاللہ کی راہ میں اپنی مرضی سے خرچ کرے تو وہ اسلامی معاشرہ کا ایک سچا خدمت گزار اور آخرت میں اللہ کا مقبول بندہ ہے۔صحابہ میں سیدنا عثمان غنیؓ ایسے ہی دولت مند تھے اور دوسرے اصحاب کی دولت مندی بھی اسی نوعیت کی تھی۔ عثمان غنیؓ کی دولت سے مسلمانوں کو جو فائدے پہنچے اس سے کون انکار کرسکتاہے؟پھر یہ بات کس طرح باور کی جاسکتی ہے کہ یہ غنئ دریا دل اپنی زندگی کے آخری دور میں اپنی انفاق کی عادت مستمرہ کے خلاف دولت جمع کرنے کی فکر میں لگ گیا ہوگا۔۔۔۔۔زکوٰۃ اور انفاق میں فرق: ۔لیکن خوب یادرکھیے کہ یہ انفاق زکوٰۃ کی طرح کوئی قانونی اور جبری چیز نہیں بلکہ اختیاری چیز ہے۔ اور اس کے اس اختیاری ہونے ہی میں اس کی ساری برکتیں ہیں۔ ایک اسلامی معاشرہ میں یہ چیز ہر صاحبِ مال سے مطلوب ہے لیکن بالجبر نہیں بلکہ بالرضا۔یہ حکومت کے فرائض میں ہے کہ وہ معاشرہ کے اندر لوگوں کے اندر دولت کی ذخیرہ اندوزی کی بیماری نہ پھیلنے دے بلکہ برابر اپنے تمام ترغیبی و تعلیمی ذرائع سے لوگوں کے جذبۂ انفاق کو اُبھارتی اور اکساتی رہے۔اس کا سب سے زیادہ کارگر اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ اولوا الامر کے درجہ پر فائز ہوں وہ خود معیار زندگی متوسطانہ رکھیں اور دوسروں کو بھی اسی کی تعلیم دیں بلکہ ان رجحانات کی شدت سے حوصلہ شکنی کریں جو لوگوں کو معیارِ زندگی اونچا کرنے کے تنافس میں مبتلا کرنے والے ہوں۔۔۔۔۔جمعِ مال کا انجام:۔ یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ الایۃ۔ یعنی راہ خداسے بچا اور چرا کر جو دولت جمع کی جاتی ہے وہ قیامت کے دن پیشانی کا داغ اور پہلو اور پیٹھ کا زخم بنے گی۔دولت جمع کرنے کی سرگردانی میں بڑا دخل دوچیزوں کو ہوتاہے۔ایک ہم چشموں میں اپنا سر اونچا رکھنے کی خواہش دوسری اپنے ذاتی آرام و راحت کی طلب۔ فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں سربلندی اور فخر کی خاطر دولت جمع کرینگے ان کی دولت بروز قیامت ان کی پیشانی پر داغ لگائے گی۔اسی طرح جو لوگ نرم ریشمین و مخملیں گدوں ،غالیچوں،قالینوں اور صوفوں کے درپے ہوکر انفاق کی سعادت سے محروم رہیں گے ان کی یہ بچائی ہوئی دولت ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو زخمی کرے گی۔(تدبر قرآن)
- دوسری رائے ۔کنز ،لغت میں اس مال کو کہتے ہیں جسے اکٹھا کرکے جمع کردیا جائے ۔حضرت ابوذرؓ کی رائےہے کہ وہ مال جو ضرورت سے زیادہ ہواسکو جمع کرکے رکھنے کی یہی سزا ہے جو اس آیت میں مذکورہے۔لیکن جمہور صحابہؓ جن میں خلفائے راشدین بھی ہیں کا مذہب ہے کہ ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ اداکردی گئی ہو وہ کنز نہیں۔(ضیاء القرآن)
- اہل کتاب کی حرام خوری :۔ ان کے ناجائز طریقے یہ تھے کہ انہوں نے سود کو جائز قراردے لیا تھا۔بالخصوص غیر یہود سے سود وصول کرنا نیکی کا کام سمجھتے تھے۔نیز غیر یہود کے اموال جس جائز و ناجائز طریقہ سے ہاتھ لگ جائیں وہ ان کے نزدیک حلال اور طیب تھے۔رشوتیں لے کر غلط فتوے دیتےتھے۔نجات نامے فروخت کرتے تھے۔حرام کردہ چیزوں مثلاً چربی کو پگھلاکر ان کی قیمت کھالیتے تھے ۔شادی یا غمی کی کوئی رسم ہو اس میں اپنا حصہ اور نذرانے وصول کرتے تھے۔اور ان کی یہی کارستانیاں بالواسطہ اللہ کے دین میں رکاوٹ کا سبب بن جاتی تھیں۔۔۔۔۔خزانہ جمع کرنے سے مراد:۔ اس جملہ کے مخاطب صرف اہل کتاب ہیں یا ان میں مسلمان بھی شامل ہیں۔اس بارہ میں صحابہ کرامؓ کے درمیان بھی اختلاف تھا۔مثلاً سیدنا عبداللہ بن عمرؓ اس بات کے قائل تھے کہ جس مال سے زکوٰۃ اداکردی جائے وہ خزانہ کے حکم میں نہیں رہتاجبکہ سیدنا ابوذرغفاریؓ اور سیدنا ابن عباسؓ خزانہ جمع کرنے کے مخالف تھے جیساکہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتاہے:۔1۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ ابھی زکوٰۃ کی فرضیت نازل نہیں ہوئی تھی۔پھر جب زکوٰۃ فرض ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اموال کوزکوٰۃ سے پاک کردیا۔(بخاری۔کتاب الزکوٰۃ۔باب مااُدّی زکوٰتہ فلیس بکنز)۔2۔ احنف بن قیس کہتے ہیں کہ:میں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھا ہواتھا۔اتنے میں ایک شخص آیا جس کے بال سخت،موٹے جھوٹے کپڑے اور سیدھی سادی شکل تھی۔اس نے سلام کیا۔پھر کہنے لگا"ان کو خوشخبری سنادو کہ ایک پتھر دوزخ کی آگ میں تپایا جائےگا وہ ان کی چھاتی پر رکھ دیا جائے گااور ان کے مونڈھے کی اوپر والی ہڈی پر رکھ دیا جائے گا جو چھاتی کی بُھٹنی سے پار ہو جائے اسی طرح وہ پتھر ڈھلکتارہے گا۔"یہ کہہ کر اس نے پیٹھ موڑی اور ایک درخت کے پاس جابیٹھا ۔میں نے اس سے کہا "میں سمجھتاہوں تمہاری یہ بات ان لوگوں کو ناگوار گزری ہے"وہ کہنے لگا "یہ لوگ تو بے وقوف ہیں۔ مجھ سے میرے جانی دوست نے کہا"میں نے پوچھا تمہارا جانی دوست کون ہے، کہنے لگا"رسول اللہؐ اور کون؟"آپ نے فرمایا "ابوذر !تو احد پہاڑ دیکھتاہے؟"میں نے عرض کیا"جی ہاں"فرمایا"میں نہیں چاہتاکہ میرے پاس احد پہاڑ برابر سونا ہو۔اگر ہوتومیں تین دینار کے علاوہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کرڈالوں۔"اور یہ لوگ تو بے وقوف ہیں جو روپیہ اکٹھا کرتے ہیں اور میں تو اللہ کی قسم! ان سے نہ تو دنیا کا کوئی سوال کروں گا اور نہ دین کی کوئی بات پوچھوں گا ۔یہاں تک کہ اللہ سے جاملوں۔"(بخاری۔کتاب الزکوٰۃ ۔باب ماادی زکوٰتہ فلیس بکنز)۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
36۔۔۔اس آیت اور مضمون کی دوسری آیات جن میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے مخالفین اسلام نے پروپیگنڈہ شروع کررکھا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور اس اعتراض کے کئی بار کافی و شافی جواب بھی دیئے جاچکے ہیں۔ہمارے خیال میں یہ اعتراض نہ نقلی اعتبار سے درست ہے نہ عقلی اعتبار سے اور نہ تاریخی اعتبار سے ذیل میں ہم انہی باتوں کا مختصر ساجائزہ پیش کررہے ہیں :۔نقلی اعتبار سے یہ اعتراض درج ذیل آیات کی روسے غلط ہے۔1۔لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ۔(دین میں کوئی جبریا زبردستی نہیں)2۔ أَ فَأَنْتَ تُکْرِهُ النّاسَ حَتّى یَکُونُوا مُؤْمِنینَ۔(کیا آپ لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں؟ )3۔ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ۔(جوشخص چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کافر رہے)ایسی واضح آیات کی موجودگی میں کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ رسول اللہؐ یا آپ کے صحابہ کرام نے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہوگی اور کسی شخص کو تلوار دکھا کر یا کسی دباؤ کے ذریعہ اسلام لانے پر مجبور کیا ہوگا؟ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہوتو اسے پناہ دو تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچادو۔"غورفرمائیے کہ دباؤکا اس سے بہتر بھی کوئی موقع ہوسکتاہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اسے مجبور کروکہ وہ اسلام لائے یا پھر اسے موت کے گھاٹ اتاردو بلکہ یوں فرمایا کہ اسے اللہ کا کلام سنانے کے بعد اسے اس کی مرضی پر چھوڑدو۔پھر اگر وہ اسلام لانے پر آمادہ نہ ہو تو اسے اس کے محفوظ علاقہ تک پہنچانا بھی پناہ دینے والے کے ذمہ ڈال دیا گیا۔کیااسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے؟۔سیدنا عمرؓ جس شان وشوکت اور رعب و دبدبہ والے خلیفہ تھے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں آپ کا غلام اسبق نامی عیسائی تھا۔ وہ چونکہ سمجھدار اور ہوشیار آدمی تھا لہذا سیدناعمرؓ نے اسے کہا کہ اگر تم مسلمان ہوجاؤتو ہم مسلمانوں کے کام میں تم سے مدد لیں گے۔یہ واضح اشارہ تھا کہ آپ اسے کوئی اچھا منصب دینا چاہتے تھے۔(تیسیر القرآن)
37۔ لیپ کا طریقہ کیوں رائج ہوااور لیپ کے ذریعے 36 سالوں میں ایک حج گم کردینا:۔ مہینوں کو آگے پیچھے کرلینے کا ایک دوسرا طریق بھی مشرکین عرب میں رائج ہوچکاتھا۔اور وہ یہ تھا کہ ہر قمری سال میں 10 دن زیادہ شمار کرکے اسے شمسی سال کے مطابق بنالیتے تھے۔اور اسے کبیسہ یا لوند یا لیپ کہا کرتے تھے اور اسی کبیسہ کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ہر تین قمری سال بعد ایک ماہ زائد شمار کرلیا جاتاتھا کہ قمری سال بھی شمسی سال کے مطابق رہے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حج کے موقعہ پر بیت اللہ کے متولیوں کو اور دوسرے عبادت خانوں کے مجاوروں کو جو نذرانے پیش کیے جاتے تھےوہ عموماً غلہ کی صورت میں ہوتے تھے اور غلہ پکنے کا تعلق سورج یا شمسی سال سے ہوتاہے۔اگر وہ قمری تقویم پر قائم رہتے تو ان کے نذرانے انہیں بروقت نہیں مل سکتے تھے۔محض اس دنیوی مفاد کی خاطر انہوں نےدوسرے ملکوں کی دیکھا دیکھی یہ کبیسہ کا طریق اختیار کیا تھا۔ اس طرح دوسری قباحتوں کے علاوہ ایک بڑی قباحت یہ واقع ہوتی تھی کہ 36 قمری سال کے عرصہ میں 35 حج ہوتے تھےاورایک حج گم کردیا جاتاتھا۔اتفاق کی بات ہے کہ جب 10ھ میں آپؐ نے حج کیا تو حج کے ایام انہی اصلی قمری تاریخوں اور قمری تقویم کے مطابق تھے۔چنانچہ آپؐ نے اسی موقع پر اپنے خطبہ حجتہ الوداع میں کبیسہ کے اس غیر شرعی اور مذموم طریقہ کو کالعدم قراردے کرشرعی احکام کو قمری تقویم پر استوار کردیا۔(تیسیر القرآن)
چھٹا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ ﴿38﴾ اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿39﴾ اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ﴿40﴾ اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿41﴾ لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿42ع التوبة 9﴾ |
| 38. مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں۔ 39. اور اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہوں گے) اور تم اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 40. اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے۔ اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے۔ 41. تم سبکبار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت، گھروں سے) نکل آؤ۔ اور خدا کے رستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو۔ 42. اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے) ۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں۔ |
تفسیر آیات
38۔یہاں سے وہ خطبہ شروع ہوتا ہے جو غزوہ تبوک کی تیاری کے زمانہ میں نازل ہوا تھا۔ (تفہیم القرآن)
۔ جہاد کی فضلیت ۔حالانکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بڑافضیلت والا عمل ہے حتیٰ کہ شہید دنیا میں دوبارہ آنے کی آرزو کرےگا تاکہ پھر شہادت کے درجے سے مشرف ہو۔رسول اللہؐ نے فرمایا :"کوئی شخص ایسا نہیں جسے مرنے کے بعد اللہ کے ہاں اچھا اجروثواب ملے اور پھر بھی وہ دنیا میں واپس آنا پسند کرے اگرچہ اس کو ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ دے دیا جائے سوائے شہید کے ۔وہ شہادت کی فضیلت دیکھ کر چاہے گا کہ دنیا میں واپس آئے اور دوبارہ (اللہ کی راہ میں)ماراجائے۔"(صحیح بخاری، الجہاد والسیر،باب:6حدیث:2795))احسن الکلام(
- غزوہ تبوک میں مسلمانوں کے مقابل اتحادی ،عیسائی، مشرک قبائل،مدینہ کے منافق اور یہود:۔یہاں سے ایک بالکل نیامضمون یعنی غزوہ تبوک کا آغاز ہورہاہے۔۔۔۔مسلمانوں کے حالات کی ناسازگاری :۔ دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں قحط سالی کا دور دورہ تھا۔شدید گرمی کا موسم تھا ۔فصلیں پکنے کے قریب تھیں ۔فاصلہ دور کا اور پرمشقت تھا سامان اور سواریوں کی کمی تھی اور مقابلہ اس عظیم طاقت سے جس نے حال ہی میں کسریٰ شاہ ایران کو شکست دے کر دنیا پر اپنے رعب و دبدبہ کی دھاک بٹھارکھی تھی گویا ہر لحاظ سے یہ حق و باطل کی فیصلہ کن جنگ تھی ۔ انہی حالات میں اللہ کا نام لے کر آپؐ نے شاہ روم سے ٹکرلینے کا فیصلہ کرلیا اور مسلمانوں میں عام اعلان جہاد کردیا۔ اور معمول کےخلاف سب کو صاف صاف بتلادیا کہ شام کو جانا ہے اور ملک غسان اور قیصر کے مقابلہ کیلئے جاناہے ان حالات میں منافقوں کا جنگ سے جی چرانا تو فطری امر تھا بعض کمزوردل اور ضعیف اعتقاد والے مسلمان بھی تذبذب میں پڑگئے تھے۔اس آیت میں انہیں ہی خطاب کیا جارہاہے اور جہاد کی پرزور ترغیب دی جارہی ہے۔)تیسیر القرآن(
ـــــ یعنی مستعدی کے ساتھ اٹھتے اور چلتے نہیں۔اشارہ رجب سنہ 9 ہجری کے غزوۂ تبوک کی جانب ہے ،تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے،شام اس وقت مسیحیوں کی رومن امپائر کا ایک صوبہ تھا، جب رسول اللہؐ غزوۂ حنین سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ آئے تو آپؐ کو اطلاع ملی کہ مسیحی فوجیں تبوک پر جمع ہورہی ہیں ،اور عنقریب مدینہ پر حملہ کرنے والی ہیں،آپؐ نے خود ہی بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا ،چنانچہ تیس ہزار کی جمعیت آپؐ کے ہمراہ ہوگئی ،اب کے مسلمانوں کو مقابلہ کسی قبیلہ سے نہیں، ایک باضابطہ قواعد داں شاہی فوج سے کرنا تھا ،پھر موسم بھی گرمی کا، فصل پکنے اور کٹنے کا زمانہ قریب ، اور سفر بھی خاصہ دور دراز ،قدرۃًہمتیں جواب دے گئیں اور منافقین تو خوب خوب رنگ لائے،تاہم لشکر نصاریٰ کو جب لشکر اسلام کی اس مستعدی اور آمد کی اطلاع ملی تو خود ان کے بھی حوصلے پست ہوگئے،اور اس کی ہمت حملہ کی نہ پڑی ،لشکر اسلام ایک مدت کے انتظار کے بعد بلامقابلہ واپس آیا۔(تفسیر ماجدی)
39۔ دنیا میں تمہاری عزت و دبدبہ خاک میں مل جائے گااور آخرت میں دوزخ کا ایندھن بنادئیے جاؤگے۔(ضیاء القرآن)
- نفیرِ عام نہ ہو تو جہاد فرض کفایہ۔ امام مسلمین کی طرف سے عام بلاوہ ہو تو فرض ِ عین حتٰی کہ جو شخص کسی حقیقی معذوری کے بغیر نہ نکلے تو اس کا ایمان تک معتبر نہیں ۔(تفہیم القرآن)
40۔سراقہ بن مالک کا تعاقب:۔سراقہ بن مالک بن جعثم کو اپنے بھتیجے عبدالرحمٰن بن مالک سے خبر ملی کہ قریش نے ان دونوں صاحبوں میں سےہر ایک کے قتل یا گرفتار کرنے پر سواونٹ (انعام)کا وعدہ کیا ہے۔ایک دن میری ہی قوم (بنی مدلج)کے ایک آدمی نے مجھے کہا"سراقہ!میں نے ابھی چند آدمی دیکھے جو ساحل کے رستہ سے جارہے تھے اور میں سمجھتاہوں کہ یہ وہی محمدؐ اور اس کے ساتھی ہیں۔"سراقہ کہتے ہیں میں سمجھ تو گیا مگر بظاہر یہی کہا کہ وہ لوگ محمدؐ اور اس کے ساتھی نہیں بلکہ فلاں فلاں ہونگے جو اپنی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں گئے ہیں۔" یہ کہہ کر میں نے چوری چھپے اپنا برچھا سنبھالا اور اپنا گھوڑا ان کے تعاقب میں سرپٹ دوڑایا۔جب میں آپؐ کے قریب پہنچ گیا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں گرپڑا۔میں نے تیروں سے فال نکالی جو میرے ارادہ کےخلاف نکلی مگر انعام کی لالچ میں پھر گھوڑے پر سوار ہوکر دوڑایا تومیرے گھوڑے کے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں گرپڑا ۔میں نے فال نکالی وہ بھی میرے ارادہ کے خلاف نکلی۔آخر میں نے آپؐ کو امان دینے کیلئے آواز دی کیونکہ میں سمجھ گیا تھا کہ عنقریب آپؐ کا بول بالا ہوگا۔پھر میں نے انہیں قریش کی سب خبریں بتلا دیں اور دیت والی خبر بھی بیا ن کی اور توشہ یا سامان کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول نہ کی۔ البتہ آپؐ نے مجھے اتنا کہا کہ ہمارے حالات کسی کو نہ بتلانا ۔پھر میں نے امان کی تحریر کا مطالبہ کیا۔آپؐ نے عامر بن فہیرہ کو تحریر لکھنے کو کہا تو اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھےتحریر لکھ دی اور آگے روانہ ہوگئے۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
ساتواں رکوع |
| عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ ﴿43﴾ لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ ﴿44﴾ اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ ﴿45﴾ وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ ﴿46﴾ لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ ﴿47﴾ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ ﴿48﴾ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ ﴿49﴾ اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ ﴿50﴾ قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ﴿51﴾ قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ ﴿52﴾ قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ﴿53﴾ وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ ﴿54﴾ فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ ﴿55﴾ وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ ﴿56﴾ لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ ﴿57﴾ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ ﴿58﴾ وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿59ع التوبة 9﴾ |
| 43. خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہو جاتے جو جھوٹے ہیں اُن کو اجازت کیوں دی۔ 44. جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے۔ 45. اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں۔ 46. اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے سامان تیار کرتے لیکن خدا نے ان کا اُٹھنا (اور نکلنا) پسند نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے ہی نہ دیا اور (ان سے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور) بیٹھے ہیں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہو۔ 47. اگر وہ تم میں (شامل ہوکر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے اور تم میں ان کے جاسوس بھی ہیں اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ 48. یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لیے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے۔ 49. اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ 50. (اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں۔ 51. کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے جو خدا نے ہمارے لیے لکھ دی ہو وہی ہمارا کارساز ہے۔ اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ 52. کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔ 53. کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا تم نافرمان لوگ ہو۔ 54. اور ان کے خرچ (اموال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔ 55. تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں۔ 56. اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ و ہ تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔ 57. اگر ان کی کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغاک یا (زمین کے اندر) گھسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں۔ 58. اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں۔ 59. اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)۔ |
تفسیر آیات
49-جو منافق بہانے کر کر کے پیچھے ٹھہر جانے کی اجازتیں مانگ رہے تھے ان میں سے بعض ایسے بےباک بھی تھے جو راہ خدا سے قدم پیچھے ہٹانے کے لیے مذہبی و اخلاقی نوعیت کے حیلے تراشتے تھے۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص جد بن قیس کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ اس نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میں ایک حسن پرست آدمی ہوں، میری قوم کے لوگ میری اس کمزوری سے واقف ہیں کہ عورت کے معاملہ میں مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں رومی عورتوں کو دیکھ کر میرا قدم پھسل نہ جائے۔ لہٰذا آپ مجھے فتنے میں نہ ڈالیں اور اس جہاد کی شرکت سے مجھ کو معذور رکھیں۔ (تفہیم القرآن)
51۔ یہاں دنیا پرست اور خدا پرست کی ذہنیت کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ دنیا پرست جو کچھ کرتا ہے اپنے نفس کی رضا کے لیے کرتا ہے اور اس کے نفس کی خوشی بعض دنیوی مقاصد کے حصول پر منحصر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔بخلاف اس کے خدا پرست انسان جو کچھ کرتا ہے اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے اور اس کام میں اس کا بھروسہ اپنی قوت یا مادی اسباب پر نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر ہوتا ہے۔(تفہیم القرآن)
52۔ اس کشمکش میں حصہ لینے کے بجائے اپنی دانست میں کمال دانشمندی کے ساتھ دور بیٹھے ہوئے یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس کشمکش کا انجام کیا ہوتا ہے، رسول اور اصحاب رسول فتحیاب ہو کر آتے ہیں یا رومیوں کی فوجی طاقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
۔۔۔'دوبھلائیوں 'سے مراد فتح یا شہادت ہے۔ اہل ایمان کے لیے مصیبت اور راحت ،دکھ اور سکھ اور موت زندگی دونوں ہی میں خیر ہوتاہے۔ایک سے مومن کو صبر، کمزوریوں کی اصلاح اور توبہ کی تربیت ملتی ہے،دوسری سے شکر نعمت،ادائے حقوق اور احسان کی ترغیب ہوتی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
آ ٹھواں رکوع |
| اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿60﴾ وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿61﴾ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ ﴿62﴾ اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ ﴿63﴾ یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ﴿64﴾ وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ ﴿65﴾ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿66ع التوبة 9﴾ |
| 60. صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ 61. اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے۔ 62. مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں۔ 63. کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔ 64. منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا۔ 65. اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے۔ 66. بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔ |
تفسیر آیات
60۔ مصارف الصدقات : ۔ ۔۔۔۔اسی لئے آپؐ نے اس کا اس قدر اہتمام فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کو صرف زبانی بتلادینے پر کفایت نہیں فرمائی ،بلکہ اس معاملہ کے متعلق مفصل فرمان لکھواکر حضرت فاروق اعظمؓ اور عمرو بن حزم کو سپرد فرمائے،جس سے واضح طورپر ثابت ہوگیا کہ زکوٰۃ کے نصاب اور ہر نصاب میں سے مقدار زکوٰۃ ہمیشہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کے واسطہ سے متعین کرکے بتلادئیے ہیں،اس میں کسی زمانہ اور کسی ملک میں کسی کو کمی بیشی یا تغیر و تبدل کا کوئی حق نہیں۔صدقہ ،زکوٰۃ کی فرضیت صحیح یہ ہے کہ اوائل ِ اسلام ہی میں مکہ مکرمہ کے اندر نازل ہوچکی تھی، جیساکہ امام تفسیر ابن کثیرؒ نے سورۂ مزمل کی آیت"وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ"سے استدلال فرمایا ہے، کیونکہ یہ سورۃ بالکل ابتداء وحی کے زمانہ کی سورتوں میں سے ہے۔۔۔اس آیت میں باجماع صحابہ و تابعین اسی صدقۂ واجبہ کے مصارف کا بیان ہے۔۔ ۔۔۔اس آیت کو لفظ اِنَّمَا سے شروع کیا گیا ہے، یہ لفظ حصر و انحصار کیلئےاستعمال ہوتاہے ،اس شروع ہی کے کلمہ نے بتلادیا کہ صدقات کے جو مصارف آگے بیان ہورہےہیں تمام صدقات واجبہ صرف انہیں میں خرچ ہونے چاہئیں،ان کے علاوہ کسی دوسرےمصرف خیر میں صدقاتِ واجبہ صرف نہیں ہوسکتے ،جیسے جہاد کی تیاری یا بناء مسجد و مدارس یا دوسرے رفاہِ عام کے ادارے، یہ سب چیزیں بھی اگر چہ ضروری ہیں،اور ان میں خرچ کرنے کا بہت بڑا ثواب ہے، مگر صدقات ِ فرض جن کی مقداریں متعین کردی گئی ہیں، ان کو ان میں نہیں لگایا جاسکتا۔۔۔صدقہ کو صدقہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا دینے والا گویا یہ دعویٰ کرتاہے کہ میں اپنے قول و فعل میں صادق ہوں،اس کے خرچ کرنے کی کوئی غرض دنیوی نہیں، بلکہ صرف اللہ کی رضا کیلئے خرچ کررہاہوں،اسی لئے جس صدقہ میں کوئی نام و نمود یا دنیوی غرض شامل ہوجائے قرآن کریم نے اس کو کالعدم قراردیا ہے۔۔۔تیسرا لفظ اس کے بعد لِلْفُقَرَآءِ سے شروع ہواہے، اس کے شروع میں حرف لام ہے جو تخصیص کے معنی میں استعمال ہوتاہے،اس لئے معنی جملہ کے یہ ہوں گےکہ تمام صدقات صرف انہی لوگوں کا حق ہے جن کا ذکر بعد میں کیا گیاہے۔۔۔اس کی ضروریات اصلیہ سے زائد بقدر نصاب مال نہ ہو اس کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے،اور اس کیلئے زکوٰۃ لینا بھی جائز ہے،ضروریات میں رہنے کا مکان، استعمال برتن اور کپڑے اور فرنیچر وغیرہ سب داخل ہیں، نصاب یعنی سونا ساڑھےسات تولہ یا چاندی ساڑھے باون تولہ یا اس کی قیمت جس کے پاس کچھ چاندی یا کچھ پیسے نقد ہیں اور تھوڑا سا سونا ہے تو سب کی قیمت لگاکر اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے تووہ بھی صاحبِ نصاب ہے۔۔۔اگرچہ عام صدقات غیرمسلموں کو بھی دئیے جاسکتے ہیں، رسول کریمؐ کا ارشاد ہے:"تصدقوا علی اھل الادیان کلّھا"یعنی ہر مذہب والے پر صدقہ کرو۔لیکن صدقۂ زکوٰۃ کے بارے میں رسول کریمؐ نے حضرت معاذؓ کو یمن بھیجنے کے وقت یہ ہدایت فرمائی تھی کہ مالِ زکوٰۃ صرف مسلمانوں کے اغنیاء سے لیا جائے،اور انہی کے فقراء پر صرف کیا جائے۔اس لئے مال زکوٰۃ کو صرف مسلم فقراء و مساکین ہی پر صرف کیا جاسکتاہے زکوٰۃ کے علاوہ دوسرے صدقات یہاں تک کہ صدقۃ الفطر بھی غیر مسلم فقیر کو دینا جائز ہے(ہدایہ)۔۔۔ فرمایا کہ صدقہ کسی غنی یعنی مال دار کیلئے حلال نہیں، بجز پانچ شخصوں کے، ایک وہ شخص جو جہاد کیلئے نکلا ہے اور وہاں اس کے پاس بقدر ضرورت مال نہیں ،اگر چہ گھر میں مال دار ہو، دوسرے عامل صدقہ جو صدقہ وصول کرنے کی خدمت انجام دیتاہو،تیسرے وہ شخص کہ اگرچہ اس کے پاس مال ہو مگر وہ موجودہ مال سے زیادہ کا مقروض ہے،چوتھے وہ شخص جو صدقہ کا مال کسی غریب مسکین سے پیسے دیکر خرید لے ،پانچویں وہ شخص جس کو کسی غریب یا فقیر نے صدقہ کا حاصل شدہ مال بطور ہدیہ تحفہ پیش کردیا ہو۔۔۔۔۔۔البتہ یہ ضروری ہوگا کہ عاملین کی تنخواہیں نصف زکوٰۃ سے بڑھنے نہ پائیں،اگر زکوٰۃ کی وصول یابی اتنی کم ہوکہ عاملین کی تنخواہیں دیکر نصف بھی باقی نہیں رہتی تو پھر تنخواہوں میں کمی کی جائے گی، نصف سے زائد صرف نہیں کیا جائے گا(تفسیر مظہری،ظہیریہ)۔۔۔اور اگر کسی غریب فقیر کو کوئی خدمت لے کر مالِ زکوٰۃ دیا گیا تو زکوٰۃ ادانہیں ہوئی۔۔۔تفصیل مذکور سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آجکل جو اسلامی مدارس اور انجمنوں کے مہتمم ،یا ان کی طرف سے بھیجے ہوئے سفیر صدقات زکوٰۃ وغیرہ مدارس اور انجمنوں کیلئے وصول کرتے ہیں، ان کا وہ حکم نہیں جو عاملین صدقہ کا اس آیت میں مذکور ہے،کہ زکوٰۃ کی رقم میں سے ان کی تنخواہ نہیں دی جاسکتی ،وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ فقراء کے وکیل نہیں، بلکہ اصحاب زکوٰۃ مال داروں کے وکیل ہیں، ان کی طرف سے مالِ زکوٰۃ کو مصرف پر لگانے کا ان کو اختیار دیا گیا ہے، اسی لئے ان کے قبضہ ہوجانے کے بعد بھی زکوٰۃ اس وقت تک ادانہیں ہوتی جب تک یہ حضرات اس کو مصرف پر خرچ نہ کردیں۔۔۔امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں اس کے متعلق فرمایا کہ جو عبادات فرض یا واجب عین ہیں ان پر اجرت لینا مطلقاً حرام ہے، لیکن جو فرض کفایہ ہیں ان پر کوئی معاوضہ لینا اسی آیت کی روسے جائز ہے، فرض کفایہ کے معنی یہ ہیں کہ ایک کام پوری امت یا پورے شہر کے ذمہ فرض کیا گیا ہے ،مگر یہ لازم نہیں کہ سب ہی اس کو کریں ،اگر بعض لوگ اداکرلیں تو سب سبکدوش ہوجاتے ہیں، البتہ اگر کوئی بھی نہ کرے تو سب گنہگار ہوتے ہیں۔۔۔امام قرطبیؒ نے فرمایا کہ اسی آیت سے ثابت ہواکہ امامت و خطابت کا معاوضہ لینابھی جائز ہے،کیونکہ وہ بھی واجب علی العین نہیں بلکہ واجب علی الکفایہ ہیں،اسی طرح تعلیم قرآن وحدیث اور دوسر ے دینی علوم کا بھی یہی حال ہے ،کہ یہ سب کام پوری امت کے ذمہ فرض کفایہ ہیں،اگر بعض لوگ کرلیں سب سبکدوش ہوجاتے ہیں،اس لئے اگر اس پرکوئی معاوضہ اور تنخواہ لی جائے تو وہ بھی جائز ہے۔۔۔چوتھا مصرف مؤلفۃ القلوب ہیں۔۔۔جب کہ اسلام کو مادی قوت بھی حاصل ہوگئی اور کفار کے شرسے بچنے یا نومسلموں کو اسلام پر پختہ کرنے کیلئے اس طرح کی تدبیروں کی ضرورت نہ رہی تو وہ علت اور مصلحت ختم ہوگئی ،اس لئے ان کا حصہ بھی ختم ہوگیا،جس کو بعض فقہاء نے منسوخ ہوجانے سے تعبیر فرمایا ہے، فاروق اعظمؓ ،حسن بصریؒ، شعبیؒ، ابوحنیفہؒ ،مالک بن انسؒ کی طرف یہی قول منسوب ہے۔اور بہت سے حضرات نے فرمایا کہ مؤلفۃ القلوب کا حصہ منسوخ نہیں بلکہ صدیق اکبراور فاروق اعظم کے زمانہ میں اس کو ساقط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت نہ رہنے کی وجہ سے ان کا حصہ ساقط کردیا گیا،آئندہ کسی زمانہ میں پھر ایسی ضرورت پیش آجائے تو پھر دیا جاسکتاہے ،امام زہریؒ،قاضی عبدالوھاب ابن العربی،امام شافعیؒ اور امام احمد کا یہی مذہب ہے،لیکن تحقیقی اور صحیح بات یہ ہےکہ غیرمسلموں کو صدقات وغیرہ سے کسی وقت کسی زمانہ میں حصہ نہیں دیا گیا، اور نہ وہ مؤلفۃ القلوب میں داخل ہیں، جن کا ذکر مصارف صدقات میں آیاہے۔۔۔اسلامی حکومت کے بیت المال میں چار مد علیحدہ علیحدہ رہنی چاہئیں۔اول تو خمس غنائم:۔یعنی جو مال کفار سے بذریعہ جنگ حاصل ہو اس کے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کرکے باقی پانچواں حصہ :بیت المال کا حق ہے، اور خمس معاون یعنی مختلف قسم کی کانوں سے نکلنے والی اشیاء میں سے پانچواں حصہ بیت المال کا حق ہے، خمس رکاز، یعنی جو قدیم خزانہ کسی زمین سے برآمد ہو اس کا بھی پانچواں حصہ بیت المال کا حق ہے ، یہ تینوں قسم کے خمس بیت المال کی ایک ہی مد میں داخل ہیں۔دوسری مد صدقات ہیں، جس میں مسلمانوں کی زکوٰۃ ،صدقۃ الفطر ، اور ان کی زمینوں کا عشر داخل ہے۔۔۔تیسری مدخراج اور مال فئی ہے، جس میں غیر مسلموں کی زمینوں سے حاصل شدہ خراج اور ان کا جزیہ اور ان سے حاصل شدہ تجارتی ٹیکس اور وہ تمام اموال داخل ہیں جو غیر مسلموں سے ان کی رضامندی کے ساتھ مصالحانہ طورپر حاصل ہوں۔چوتھی مد ضوائع کی ہے، جس میں لاوارث مال، لاوارث شخص کی میراث وغیرہ داخل ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں چار بیت المال چار مدّات کیلئے الگ الگ مقررہیں اور فقراء و مساکین کا حق چاروں میں رکھا گیا ہے، ان میں سے پہلی تین مدّوں کے مصارف خود قرآن کریم نے تفصیل کے ساتھ متعین فرماکر واضح طورپر بیان کردئیے ہیں،پہلی مد یعنی خمس غنائم کے مصارف کا بیان سورۂ انفال دسویں پارہ کے شروع میں مذکور ہے، اور دوسری مد یعنی صدقات کے مصارف کا بیان سورۂ توبہ کی مذکورالصدر ساٹھویں آیت میں آیا ہے،جس کی تفصیل اس وقت زیر بحث ہےاور تیسری مد جس کو اصطلاح میں مالِ فئ سے تعبیر کیا جاتاہے،اس کا بیان سورۂ حشر میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے، اسلامی حکومت کی اکثرمدّات فوجی اخراجات اور عمال ِ حکومت کی تفصیل کے ساتھ آیا ہے اسلامی حکومت کی اکثر مدّات فوجی اخراجات اور عمالِ حکومت کی تنخواہیں وغیرہ اسی مد سے خرچ کی جاتی ہیں، چوتھی مد یعنی لاوارث مال رسول کریمؐ کی ہدایات اور خلفائے راشدین کے تعامل سے اپاہج محتاجوں اور لاوارث بچوں کیلئے مخصوص ہے۔(شامی، کتاب الزکوٰۃ)۔۔۔مؤلفۃ القلوب کا حصہ کسی کافر کو کسی وقت بھی نہیں دیا گیا ،نہ رسول کریمؐ کے عہد مبارک میں اور نہ خلفائے راشدین کے زمانہ میں، اور جن غیر مسلموں کو دینا ثابت ہے وہ مد صدقات و زکوٰۃ سے نہیں بلکہ خمسِ غنیمت میں سے دیا گیا ہے، جس میں سے ہر حاجت مندمسلم و غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے،تو مؤلفۃ القلوب صرف مسلم رہ گئے،اور ان میں جو فقراء ہیں ان کا حصہ بدستور باقی ہونے پر پوری امت کا اتفاق ہے۔۔۔۔۔۔غارمین اور رقاب ،ابن سبیل وغیرہ سب میں اسی شرط کے ساتھ ان کو زکوٰۃ دی جاتی ہے کہ وہ اس جگہ حاجتمندہوں،گووہ اپنے مقام میں مال دار ہوں۔۔۔۔۔۔اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ مؤلفۃ القلوب کا حصۂ ائمہ اربعہ کے نزدیک منسوخ نہیں فرق صرف اتنا ہے کہ بعض حضرات نے فقراء و مساکین کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں فقرو حاجت مندی کے ساتھ مشروط نہیں کیا ،اور بعض نے یہ شرط رکھی ہے، جن حضرات نے یہ شرط رکھی ہے وہ مؤلفۃ القلوب میں بھی صرف انہی لوگوں کو دیتے ہیں جو حاجتمند اور غریب ہوں، بہرحال یہ حصہ قائم اور باقی ہے۔(تفسیر مظہری)۔۔۔۔۔۔یہاں تک صدقات کے آٹھ مصارف میں سے چار کا بیان آیا ہے،ان چاروں کا حق حرف لام کے تحت بیان ہوا،"لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ"،آگے جن چار مصارف کا ذکر ہے ان میں عنوان بدل کر لام کی جگہ حرف فی استعمال فرمایا"وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ"، زمخشری نے کشاف میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا منظور ہےکہ یہ آخری چار مصرف بہ نسبت پہلے چار کے زیادہ مستحق ہیں، کیونکہ حرف فی ظرفیت کیلئے بولا جاتاہے، جس کی وجہ سے معنی یہ پیدا ہوتے ہیں کہ صدقات کو ان لوگوں کے اندر رکھ دینا چاہئے،اور ان کے زیادہ مستحق ہونا ہے، کیونکہ جو شخص کسی کا مملوک غلام ہے وہ بہ نسبت عام فقراء کے زیادہ تکلیف میں ہے،اسی طرح جو کسی کا قرضدار اور قرضخواہوں کا اس پر تقاضاہے وہ عام غرباء فقراء سے زیادہ تنگی میں ہے کہ اپنے اخراجات کے فکر سے بھی زیادہ قرضدار وں کے قرض کی فکر اس کے ذمہ ہے۔۔۔۔۔۔یہ قسم غلاموں کی باتفاق مفسرین و فقہاء لفظ وَ فِی الرِّقَابِ کی مراد ہے، کہ رقمِ زکوٰۃ ان کو دے کر ان کی گلو خلاصی میں امداد کی جائے، ان کے علاوہ دوسرے غلاموں کو خرید کرآزادکرنا یاان کے آقا ؤں کو رقمِ زکوٰۃ دے کر یہ معاہدہ کرلینا کہ وہ ان کو آزاد کردینگے،اس میں ائمہ فقہاء کا اختلاف ہے، جمہور ائمہ ابوحنیفہؒ،شافعیؒ،احمد بن حنبلؒ وغیرہ رحمہم اللہ اس کو جائز نہیں سمجھتے ،اور حضرت امام مالکؒ بھی ایک روایت میں جمہور کے ساتھ متفق ہیں کہ فی الرقاب کو صرف مکاتب غلاموں کے ساتھ مخصوص فرماتے ہیں، اور ایک روایت میں امام مالک سے منقول ہے وہ فی الرقاب میں عام غلاموں کو داخل کرکے اس کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ رقمِ زکوٰۃ سے غلام خرید کر آزاد کئے جائیں (احکام القرآن ابن عربی مالکی)۔۔۔اس فقہی اشکال کیوجہ سے جمہور ائمہ اور فقہاء نے فرمایا کہ فی الرقاب سے مراد صرف غلام مکاتبت ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ صدقہ کی ادائیگی کیلئے یہ شرط ہے کہ کسی مستحق کو مالک بناکر اس کے قبضہ میں دیدیا جائے جب مستحق کا مالکانہ قبضہ اس پر نہیں ہوگا زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔چھٹا مصرف الْغٰرِمِیْنَ غارم کی جمع ہے،جس کے معنی مدیون یعنی قرضدار کے ہیں یہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ پانچواں اور چھٹا مصرف جو حرف فی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے استحقاق میں پہلے چاروں مصارف سے زیادہ ہیں، اس لئے غلام کی گلو خلاصی کیلئے یا قرضدار کو ادائے قرض کیلئے قرض دینا عام فقراء و مساکین کو دینے سے زیادہ افضل ہے، شرط یہ ہے کہ اس قرضدار کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سےوہ قرض اداکرسکے،کیونکہ غارم لغت میں ایسے ہی قرضدارکو کہا جاتاہے ،اور بعض ائمہ فقہاء نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ یہ قرض اس نے کسی ناجائز کام کیلئے نہ لیا ہو،اور اگر کسی گناہ کیلئے قرض لیا جیسے شراب وغیرہ یا شادی غمی کی ناجائز رسمیں وغیرہ تو ایسے قرضدار کو مد زکوٰۃ سے نہ دیا جائےگا،تاکہ اس کی معصیت اور اسراف بے جا کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔۔۔جس شخص کے ذمہ دس ہزار روپیہ قرض ہے اور پانچ ہزار روپیہ اس کے پاس موجود ہے تو اس کو بقدر پانچ ہزار کے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے،کیونکہ جومال اس کے پاس موجود ہے وہ قرض کی وجہ سے نہ ہونے کے حکم میں ہے۔
مسئلہ تملیک:۔ جمہور فقہاء اس پر متفق ہیں کہ زکوٰۃکے معینہ آٹھ مصارف میں بھی زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے یہ شرط ہے کہ ان مصارف میں سے کسی مستحق کو مالِ زکوٰۃ پر مالکانہ قبضہ دیدیاجائے،بغیر مالکانہ قبضہ دئیے اگر کوئی مال انہی لوگوں کے فائدے کیلئے خرچ کردیا گیا تو زکوٰۃ ادانہیں ہوگی ،اسی وجہ سے ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء امت اس پر متفق ہیں کہ رقمِ زکوٰۃ کو مساجد یا مدارس یا شفاخانے، یتیم خانے کی تعمیر میں یا ان کی دوسری ضروریات میں صرف کرنا جائز نہیں، اگرچہ ان تمام چیزوں سے فائدہ ان فقراء اور دوسرے حضرات کو پہونچتاہے جو مصرفِ زکوٰۃ ہیں،مگر ان کا مالکانہ قبضہ ان چیزوں پر نہ ہونے کے سبب زکوٰۃ اس سے ادا نہیں ہوتی۔۔۔البتہ یتیم خانوں میں اگر یتیموں کا کھانا کپڑا وغیرہ مالکانہ حیثیت سے دیا جاتاہے تو صرف اس خرچ کی حدتک رقمِ زکوٰۃ صرف ہوسکتی ہے،اسی طرح شفاخانوں میں جو دوا حاجت مند غرباء کو مالکانہ حیثیت سے دیدی جائے اس کی قیمت رقمِ زکوٰۃ میں محسوب ہوسکتی ہے، اسی طرح فقہاء امت کی تصریحات ہیں کہ لاوارث میت کا کفن رقمِ زکوٰۃ سے نہیں لگایا جاسکتا،کیونکہ میت میں مالک ہونے کی صلاحیت نہیں، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ رقمِ زکوٰۃ کسی غریب مستحق کو دیدی جائے اور وہ اپنی خوشی سے اس رقم کو لاوارث میت کے کفن پر خرچ کردے، اسی طرح اگر اس میت کے ذمہ قرض ہے تو اس قرض کو رقمِ زکوٰۃ سے براہ راست ادا نہیں کیاجاسکتا ، ہاں اس کے وارث غریب مستحق ِ زکوٰۃ ہوں، تو ان کو مالکانہ طورسے دیا جاسکتا ہے،وہ اس رقم کے مالک ہوکر اپنی رضامندی کے ساتھ اس رقم سے میت کا قرض اداکرسکتے ہیں، اسی طرح رفاہِ عام کے سب کام جیسے کنواں یا پل یا سڑک وغیرہ کی تعمیر ،اگر چہ ان کا فائدہ مستحقین زکوٰۃ کو بھی پہنچتا ہے ،مگر ان کا مالکانہ قبضہ نہ ہونے کے سبب اس سے زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں ہوتی۔اور علاوہ زکوٰۃ و صدقات کے بھی لفظ ایتاء قرآن کریم میں مالک بنادینے ہی کیلئے استعمال ہواہے، مثلاً اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ،یعنی دیدو عورتوں کو ان کے مہر، ظاہرہےمہرکی ادائیگی جب ہی تسلیم ہوتی ہے جب رقمِ مہر پر عورت کو مالکانہ قبضہ دیدے۔
مسئلہ: اگر اپنے عزیز غریب لوگ مستحق زکوٰۃ ہوں تو ان کو زکوٰۃ و صدقات دینا زیادہ بہتر اور دوہرا ثواب ہے، ایک ثواب صدقہ کا دوسرا صلۂ رحمی کا۔ اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کو یہ جتلا کر دے کہ صدقہ یا زکوٰۃ دے رہاہوں ،کسی تحفہ یا ہدیہ کے عنوان سے بھی دیا جاسکتاہے ،تاکہ لینے والے شریف آدمی کو اپنی خفت محسوس نہ ہو۔۔۔۔مسئلہ:۔ مال زکوٰۃ اپنے عزیز رشتہ دار وں کو دینازیادہ ثواب ہے،مگر میاں بی بی اور والدین و اولاد آپس میں ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ،وجہ یہ ہے کہ ان کو دینا ایک حیثیت سے اپنے ہی پاس رکھنا ہے،کیونکہ ان لوگوں کے مصارف عموماً مشترک ہوتے ہیں، شوہر نے اگر بیوی کو یا بیوی نے شوہر کو اپنی زکوٰۃ دیدی،تو درحقیقت وہ اپنے ہی استعمال میں رہی،اسی طرح والدین اور اولاد کا معاملہ ہے ،اولاد کی اولاد اور دادا پردادا کا بھی یہی حکم ہے کہ ان کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔(معارف القرآن)
ــــ مسکین ۔زندگی کی جدوجہد میں خود بخود حصہ لینے سے عاجز ۔گویا فقر کے ساتھ اس کے اوپر مسکنت اور بے بسی کا بھی غلبہ ہو۔اس اعتبار سے یہ لفظ فقر کےمقابلے میں سخت ہے۔(تدبرقرآن)
مسکین کی تعریف:۔ حدیث میں مسکین کی تعریف یوں کی گئی ہے:"مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے گھروں کے چکر لگاتا رہے،ایک لقمے اور دولقمے اور ایک کھجور اور دوکھجور کی خواہش اِسے دربدر پھراتی رہے۔بلکہ مسکین تووہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اسے کفایت کرجائے اور کوئی اس کا حال بھی نہ جانتا ہو کہ اسے خیرات دے اور نہ وہ خود لوگوں سے سوال کرے۔"(صحیح بخاری،الزکوٰۃ،باب:53،حدیث:1479) (احسن الکلام)
- یہاں صدقات سے مراد فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہے جیساکہ بعد کے الفاظ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ سے واضح ہوتاہے۔صدقات کی تقسیم پر بھی منافقوں کو اعتراض ہواتھا تو اس کی تقسیم کی مدات اللہ تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرمادیں تاکہ ان کی تقسیم میں اعتراض کی گنجائش ہی نہ رہے یا کم سے کم رہ جائے ۔اور یہ کل آٹھ مدات ہیں جو درج ذیل ہیں۔
ــــ زکوٰۃ کی فراہمی اور تقسیم حکومت کی ذمہ داری: ۔۔۔جب ایسا نظام زکوٰۃ قائم نہ ہو اور اگر کوئی خاندان، برادری،یا قوم اپنے اہتمام میں اجتماعی طورپر فراہمی زکوٰۃ اور اس کی تقسیم کا کا م کرلے تو یہ انفرادی ادائیگی سے بہتر ہیں ۔۔۔۔۔مقروض کے قرضہ کی ادائیگی۔یہاں قرض سے مراد خانگی ضروریات کے قرضے ہیں تجارتی اور کاروباری قرضے نہیں اور قرض دار سے مراد ایسا کہ اگر اس کے مال سے سارا قرض اداکردیا جائے تو اس کے پاس نقد نصاب سے بھی کم مال رہتاہو۔یہ مقروض خواہ برسرروزگار ہو اور خواہ وہ فقیر ہو یا غنی ہو۔ اس مد سے اس کا قرض اداکیا جاسکتاہے۔۔۔باالفاظ دیگر اس مد سے دینی مدارس کا قیام اور اس کے اخراجات پورے کیے جاسکتے ہیں۔علاوہ ازیں ہر وہ ادارہ بھی اس مصرف میں شامل ہے جو زبانی یا تحریری طورپر دینی خدمات سرانجام دےرہاہےیا اسلام کا دفاع کررہاہو۔۔۔لیکن اگر صدقہ کی کوئی چیز کسی مستحق کے واسطہ سے ہدیہ آل نبی کو مل جائے تو جائز ہوگی۔۔۔۔جوافراد کسی کے زیر کفالت ہوں۔وہ انہیں زکٰوۃ نہیں دے سکتا ۔مثلاً بیوی اور اولاد کو ۔اسی طرح اگر باپ بوڑھا ہوچکا ہو اور اس کی کفالت بیٹے کے ذمہ ہو تو بیٹا باپ کو زکوٰۃ نہیں دے سکتاہے۔۔۔۔اس لحاظ سے عورت اپنے خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے کیونکہ خاوند بیوی کے زیر کفالت نہیں ہوتا۔جیساکہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے۔سیدہ زینب(زوجہ عبداللہ بن مسعودؓ )آپؐ کے ہاں آئیں ۔وہاں ایک اور انصاری عورت کو آپؐ کے دروازے پر پایاوہ بھی وہی مسئلہ پوچھنے آئی تھی جو میں پوچھنا چاہتی تھی ۔اتنے میں بلالؓ نکلے۔ہم نے ان سے کہا کہ رسول اللہؐ سے پوچھوکہ اگر میں اپنے خاوند اور چندیتیموں کو جو میری پرورش میں ہیں خیرات کردوں تو کیا یہ درست ہوگا؟ ہم نے بلالؓ سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نا م نہ لینا۔ بلالؓ نے آپؐ سے عرض کیا کہ دوعورتیں یہ مسئلہ پوچھ رہی ہیں۔آپؐ نے پوچھا "کونسی عورتیں "بلالؓ نے کہا" زینب نامی ہیں۔" آپؐ نے پوچھا" کونسی زینب؟"بلالؓ نے کہا"عبداللہ بن مسعود کی بیوی"آپؐ نے فرمایا "ہاں یہ صدقہ درست ہے اور اس کیلئے دوہرا اجر ہے ایک قرابت کا اور دوسرا صدقہ کا۔"(بخاری۔باب الزوکوٰۃ علی الزواج والایتام فی الحجر)۔(تیسیر القرآن)
۔۔۔ درحقیقت جہاد فی سبیل اللہ قتال سے وسیع تر چیز کا نام ہے اور اس کا اطلاق ان تمام کوششوں پر ہوتا ہے جو کلمہ کفر کو پست اور کلمہ خدا کو بلند کرنے اور اللہ کے دین کو ایک نظام زندگی کی حیثیت سے قائم کرنے کے لیے کی جائیں خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے ابتدائی مرحلے میں ہوں یا قتال کے آخری مرحلے میں۔(تفہیم القرآن)
۔ " وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ "، یہ ایک جامع اصطلاح ہے جس کے تحت جہاد سے لے کر دعوت دین اور تعلیم دین کے سارے کام آتے ہیں۔ وقت اور حالات کے لحاظ سے کسی کام کو زیادہ اہمیت حاصل ہوجائے گی کسی کو کم لیکن جس کام سے بھی اللہ کے دین کی کوئی خدمت ہو۔ وہ فی سبیل اللہ کے حکم میں داخل ہے۔۔۔۔۔ صدقات کے لیے تملیک ذاتی ضروری نہیں : ہمارے فقہا کا ایک گروہ، اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ کے " ل " کو تملیکِ ذاتی کے مفہوم کے لیے خاص کرتا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ صدقات و زکوۃ کی رقوم فقراء و مساکین کی کسی ایسی اجتماعی بہبود پر صرف نہیں ہوسکتیں جس سے ملکیت ذاتی تو کسی کی بھی قائم نہ ہو لیکن اس کا فائدہ بحیثیت مجموعی سب کو پہنچے۔ ہمارے نزدیک یہ رائے کسی مضبوط دلیل پر مبنی نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)
ــــ اِنَّمَا کلمہ حصر کا ہے،یعنی صرف انہی مدوں میں ،کسی اور مد میں نہیں۔ لِلْفُقَرَآءِ۔اس میں حرف ل سے متعلق بڑی قیل و قال ہوئی ہے،وہ یا تو تملیک کیلئے اور یا اختصاص کیلئے ہے ۔۔۔ الصَّدَقٰتُ۔صدقہ سے یہاں مراد صدقۂ واجب ہے،یعنی زکوٰۃ۔۔۔مؤرخ ابن حبیب نے سولہ شخصوں کے نام کی فہرست دی ہے،جنہیں رسول اللہؐ نے مؤلفۃ القلوب قرار دے کر ان میں سے چودہ کو سو سو اونٹ اور باقی دوکو پچاس پچاس اونٹ عطا کئے تھے،اس فہرست کا آغاز ابوسفیان بن حرب اموی اور معاویہ بن ابی سفیان کے نام سے ہوتاہے(کتاب المحبرص473)تفسیر کبیر میں ابن جصاص کے حوالہ سے پندرہ نام درج ہیں اور تفصیل ِ عطامیں بھی کچھ اختلاف ہے۔اکثریت کا قول ہے کہ یہ حکم رسول اللہؐ کے زمانہ کیلئے مخصوص تھا،اور اس رائے میں حنفیہ کے شریک مالکیہ اور امام ثوری اور امام اسحاق بن راہویہ اور امام شعبیہ اور عکرمہ تابعی ہیں۔۔۔قرآن نے جس مصرف کو منصوص کیا ہے ،اس کو اولاً حضرت عمرؓ منسوخ ہی کیسے کرسکتے ہیں،نیز ایک ایسی واحد خبرسے قرآن کے ایک قانون پر خط نسخ نہیں پھیرا جاسکتا ،بلکہ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ امام اور حکومتِ وقت کے صواب دیدپر ہے ،جس وقت میں لوگوں کیلئے ان کی ضرورت سمجھے، دے ،جن کیلئے ضرورت نہ سمجھے ،نہ دے"۔(اسلامی معاشیات از فاضل گیلانیؒ)(تفسیر ماجدی)
61۔۔۔ اس الزام کا چرچا زیادہ تر اس وجہ سے کیا جاتا تھا کہ سچے اہل ایمان ان منافقین کی سازشوں اور ان کی شرارتوں اور ان کی مخالفانہ گفتگوؤں کا حال نبی ﷺ تک پہنچا دیا کرتے تھے اور اس پر یہ لوگ سیخ پا ہو کر کہتے تھے کہ آپ ہم جیسے شرفا و معززین کے خلاف ہر کنگلے اور ہر فقیر کی دی ہوئی خبروں پر یقین کرلیتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
65۔ یہ عذر آج بھی کتنا چلا ہواہے !شعر و ادب کے پردے میں کون سی گستاخی اللہ اور اس کی شریعت ،اور اس کے فرشتوں اور حوروں کے ساتھ اٹھ رہی ہے،اور جواب ہر مرتبہ یہی ملتا ہے،کہ یہ محض شعری اور ادبی دلچسپیوں کیلئے تھا، کہیں واقعی مذہب پر تعریض تھوڑے ہی منظور تھی!۔۔۔فقہاء نے یہ مسئلہ بھی مستنبط کیا ہے کہ کلمۂ کفر خواہ قصد اور سنجیدگی سے اداکیا جائے،خواہ محض ایک لطیفہ و خوش طبعی کے طورپر ،حکم ِشرعی کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں،اس لئے کہ قرآن نے ان کے لہوولعب کوبالکل مسترد کردیا ،اور حکم کفر ان پر باقی رکھا ۔ہاں حالت ِ جبرواکراہ کا حکم اس سے الگ ہے۔(تفسیر ماجدی)
66۔۔۔۔ پس حاصل یہ ٹھہرا کہ اگر ہم تم میں سے بعض کو چھوڑ بھی دیں (اس لئے کہ وہ مسلمان ہوگئے) تو ہم بعض کو (ضرور ہی) سزا دیں گے سببب اس کے کہ وہ (علم ازلی میں) مجرم تھے (یعنی وہ مسلمان نہیں ہوئے)۔۔۔۔۔ا ور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے ستر منافقین کے نام مع ان کی ولدیت اور پورے نشان پتے کے رسول اللہ ﷺ کو بتلا دیئے تھے، مگر رحمۃ للعالمین نے ان کو لوگوں پر ظاہر نہیں فرمایا (مظہری) (معارف القرآن)
نواں رکوع |
| اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴿67﴾ وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ ﴿68﴾ كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ﴿69﴾ اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ﴿70﴾ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ﴿71﴾ وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ ۧ ۧ ﴿72ع التوبة 9﴾ |
| 67. منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو بھلا دیا۔ بےشک منافق نافرمان ہیں۔ 68. الله نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی ان کے لائق ہے۔ اور خدا نے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے۔ 69. (تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ 70. کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ 71. اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے۔ 72. خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے۔ |
تفسیر آیات
67۔ اب تک منافقین اپنے دعائے ایمان کے سبب سے مسلمانوں کے ساتھ رلے ملے ہوئے تھے۔ یہ پہلی بار ان کی علامتیں بتا کر ان کو اہل ایمان سے چھانٹ کر الگ قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔جس طرح مسلمانوں نے کفار و مشرکین اور اہل کتاب سے اعلان براءت کردیا ہے اسی طرح اپنے اندر کے ان نام نہاد مسلمانوں کو بھی چھانٹ کر الگ کریں جو اپنے اعمال و اخلاق میں انہی کفار و مشرکین کے ہم رنگ ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
69۔ منافقین کا غائبانہ ذکر کرتے کرتے یکایک ان سے براہِ راست خطاب شروع ہو گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔۔۔یعنی قوم عاد،ثمود،نوح، ابراہیم وغیرہ وغیرہ ایسی اقوام تھیں جن کی شان و شوکت تم لوگوں سے بڑھ کر تھی۔ انہوں نے تم سے بہت زیادہ عیش و عشرت سے زندگی بسر کی تھی ۔وہ لوگ طاقت کے لحاظ سے بھی تم سے مضبوط تر تھے اور مال اور اولاد کے لحاظ سے بھی تم سے بہت آگے تھے۔وہ لوگ بھی دنیا میں مست ہوکر آیات کو بھول گئے تھے۔اس کی نافرمانیوں پر اترآئے اور اللہ کی آیات سے مذاق اور دل بہلاوے کرنے لگے تھے۔اور آج تم بھی بعینٖہ وہ کچھ کررہے ہو۔اللہ کو بھول جانے کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ اگر کسی نے دنیامیں کوئی اچھے کام کیے بھی ہوں تو آخرت میں وہ سب رائگاں جائیں گے کیونکہ اعمال کی جزا تو صرف اس صورت میں ملتی ہے کہ اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان ہواور جب یہ بنیادہی موجود نہ ہوتوپھر جزاء کیسی؟ اور اس سے بڑھ کر خسارہ کیا ہوسکتاہے کہ کسی شخص کو اس کی کی ہوئی محنت کا ثمرہ ہی نہ مل سکے۔(تیسیر القرآن)
ــــ ظاہری ٹیم ٹام کے ساتھ بری عادتوں اور ناپاک خصلتوں میں گھسنے اور درآنے کی مثالیں دیکھنا ہوں ،تو آج بھی مہذب قوموں کے شفاخانوں ،محتاج خانوں،ڈاک خانوں، درس گاہوں کے پہلو بہ پہلو ان کے نشاط خانے،شراب خانے،قمار خانے،ناچ گھر،ان کے نگار خانے ،ان کے تھیڑ ،ان کے سینما اور قحبہ خانے بلکہ ان کے ایک ایک گھر کے بیڈ روم(خواب گاہیں)دیکھ لئے جائیں۔(تفسیر ماجدی)
70۔ یہاں سے پھر ان کا غائبانہ ذکر شروع ہو گیا۔ (تفہیم القرآن)
۔ الٹائی ہوئی بستیوں سے مراد سیدنا لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں ۔سیدنا جبریل نے بحکم الٰہی ان بستیوں کو اپنے پر کے اوپر اٹھایا اور بلندیوں پر لے جاکر انہیں اٹھاکر زمین پردے مارا تھا۔پھر بھی اس قوم پر اللہ کا غضب کم نہ ہوا تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی ۔سیدنا لوطؑ کا مرکز تبلیغ سدوم کا شہرتھا۔اور یہ الٹائی ہوئی بستیاں غالباً آج کل بحیرۂ مردار میں دفن ہوچکی ہیں۔(تیسیر القرآن)
72۔ اللہ کی خوشنودی سے مراد؟ ۔۔۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا"کیا میں تمہیں ان سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت نہ عطاکروں؟"جنتی پوچھیں گے"اے پروردگار! ان نعمتوں سے افضل اور کیا چیز ہوسکتی ہے؟"اللہ تعالیٰ فرمائے گا"اب میں تم پر اپنی رضا اور خوشنودی اتارتا ہوں اور آج کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔"(بخاری۔کتاب التوحید۔باب کلام الرب مع اھل الجنۃ)(تیسیر القرآن)
دسواں رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ ﴿73﴾ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ ﴿74﴾ وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿75﴾ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ ﴿76﴾ فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ ﴿77﴾ اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ ﴿78﴾ اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿79﴾ اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿80ع التوبة 9﴾ |
| 73. اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ 74. یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا۔ 75. اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے۔ 76. لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے۔ 77. تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ 78. کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے۔ 79. جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں) جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے۔ 80. تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ |
تفسیر آیات
73۔ یہاں سے وہ تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جو غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی تھی۔ (تفہیم القرآن)
۔ منافقوں پر غزوہ تبوک تک سختی کیوں نہ کی گئی (1)آپؐ کی نرمی۔(2)داخلی انتشار۔(3)اغیار کے طعنے ۔۔۔۔۔یہ آیت غزوۂ تبوک کے بعد نازل ہوئی جبکہ منافقوں کو اپنی سازشوں اور اسلام دشمن سرگرمیوں میں نوسال گزرچکے تھے اب تک ان منافقوں سے جو نرم رویہ اختیار کیا جاتارہاہے اس کی متعدد وجوہ تھیں ۔پہلی وجہ تو یہی تھی کہ آپؐ طبعاًنرم خوواقع ہوئے تھے۔آپؐ کی طبیعت مجرم کو سرزنش کرنے یا سزا دینے کی بجائے اس سے درگزر کرنے اور اسے معاف کردینے کی طرف زیادہ مائل رہتی تھی۔دوسری وجہ یہ تھی کہ اگرآپؐ ان پر سختی کرتے تو مسلمانوں کے اندرداخلی فتنہ اٹھ کھڑا ہوتااور غزوۂ تبوک سے پہلے پہلے مسلمانوں کی سلطنت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ بیرونی اور اندرونی ہر طرح کے خطرات کا مقابلہ کرسکے اور اگر ایسا کام کرنا ہی پڑتا تو اسلام کی نشرواشاعت کے مقاصد بہت پیچھے جاپڑتے۔اس کی تیسری وجہ اغیار یعنی غیر مسلمانوں کے طعنے تھے چنانچہ غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر جب عبداللہ بن ابی نے اوس و خزرج کے درمیان انتشارکا فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کی اور رسول اللہؐ کے حق میں نازیبا کلمات کہے تو سیدنا عمرؓ نے آپؐ سے اجازت چاہی کہ میں اسے قتل نہ کردوں تو آپؐ نے سیدنا عمرؓ سے کہا "نہیں جانے دو لوگ کیا کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرتاہے۔"(بخاری۔کتاب التفسیر ۔باب یقولون لئن رجعنا)۔۔۔ منافقوں پر سختی اور جبر کی صورتیں۔مگر جب ان لوگوں کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھ گئیں تو ان آستین کے سانپوں سے سختی سے نمٹنے کا حکم دیا گیا ۔واضح رہے کہ کفار سے جہاد سے مراد بسااوقات تلوار سے جنگ ہوتی ہے ۔مگر منافقوں سے ایسی جنگ اس لیے نہیں کی جاسکتی کہ اسلامی احکام ظاہری احوال پر لاگوہوتے ہیں اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوتاہے۔اور منافقوں کو اسلام لانے کا سب سے بڑا فائد ہی یہ تھا کہ ان کے جان و مال محفوظ رہیں۔چنانچہ آپؐ نے ان منافقوں سے کسی وقت بھی قتال بالسیف نہیں کیا۔یہاں منافقوں سے جہاد اور ان پر سختی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ان کی باتوں پر اعتماد نہ کیا جائے۔ان کی فتنہ پردازیوں پر پردہ نہ ڈالا جائے تاکہ انہیں مسلم معاشرے میں نفاق کا زہر پھیلانے کا موقع نہ مل سکے اور ان کی سازشوں کو کھلم کھلا بے نقاب کیا جائے انکی شہادت کو معتبر نہ سمجھا جائے۔انہیں جماعتی مشوروں سے الگ رکھا جائے کوئی عہدہ یا منصب ان لوگوں کے سپرد نہ کیا جائے ۔ان سے مخلصانہ میل جول اور تعلقات قطع کیے جائیں تاکہ ان لوگوں پر خوب واضح ہوجائے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں ان کیلئے عزت و وقار کا کوئی مقام نہیں ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ اس جگہ غلظت استعمال کرنے سے عملی غلظت مراد ہے کہ ان پر احکام شرعیہ جاری کرنے میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے، زبان اور کلام میں غلظت اختیار کرنا مراد نہیں، کیونکہ وہ سنت انبیاء کے خلاف ہے، وہ کسی سے سخت کلامی اور سب و شتم نہیں کرتے۔۔۔۔۔ افسوس کہ خطاب اور کلام میں غلظت جسکو کفار کے مقابلہ میں بھی اسلام نے اختیار نہیں کیا آجکل کے مسلمان دوسرے مسلمانوں کے بارے میں بے دھڑک استعمال کرتے ہیں اور بہت سے لوگ تو اس کو دین کی خدمت سمجھ کر خوش ہوتے ہیں۔ انا للہ۔ (معارف القرآن)
74۔ یہ اشارہ ہے منافقین کی ان باتوں کی طرف جو اپنی مجلسوں میں اللہ اور رسولؐ کا مذاق اڑانے کے لیے کرتے اور جب گرفت ہوتی تو قسمیں کھاتے کہ ہم نے کوئی بات نہیں کی۔یہ ان کے کفر کی ایک دلیل بیان فرمائی ہے۔۔۔۔۔اسلام سے پہلے یہ لوگ نہایت غریب تھے۔اسلام کے بعد اللہ نے ان کو رزق کی وسعت دی۔اس کا صلہ انہوں نے یہ دیا کہ اسلام ہی کی بیخ کنی کی سازشیں کرنے لگ گئے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اظہار تو اسلام کا کیا لیکن اپنے اس استہزا سے ارتکاب کفر کا کیا۔ یہ امر واضح رہے کہ دعوٰی اسلام کا کرنا اور عمل سے ثبات کفر کا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک صریح کفر سے زیادہ مبغوض ہے۔ (تدبرِ قرآن)
ـــــ (کہ یہ مستحق اسی کے ہیں)غلظۃ ۔کا حکم کافروں اور منافقوں دونوں کے حق میں مشترک ہے، اور غلظ لغت میں رافت یا نرمی کی ضد ہے، مراد یہ ہے کہ ان کے مقابلہ میں نرم نہ پڑئیے،مضبوطی سے قائم رہیئے۔۔۔تبوک سے واپسی کے موقع پر چند منافقوں نے حضوراکرمؐ سے متعلق سازش کی کہ فلاں گھاٹی سے آپؐ شب میں گزریں گے،سب مل کر آپؐ پر ہاتھ چلائیں ،اور ہوسکے تو زندگی ہی کا خاتمہ کْردیں ،چنانچہ راستہ میں ایک جگہ چھپ کر،اور اپنے چہروں کو چھپا کر بیٹھ گئے،آپ کے ہمراہ صحابیوں میں سے حضرت حزیفہؓ اور حضرت عمارؓتھے،عمارؓ کو تو ان لوگوں نے گھیر لیا ،لیکن حذیفہؓ کی شجاعت کام آئی ، اور یہ بزدل منتشر ہوگئے ،رات کے اندھیرے اور چہرے کے چھپے ہونے کے باعث پہنچانے نہ گئے،حذیفہؓ نے جب رسول اللہ ؐ تک خبر پہونچائی تو آپ نے فرمایا وہ بارہ آدمی فلاں اورفلاں تھے،ان لوگوں سے جب سوال کیا گیا،تویہ حلف کے ساتھ انکار کرگئے ،آیت میں انہی واقعات کی طرف اشارہ ہے ۔(تفسیر ماجدی)
۔انہوں نے آپس میں طے کرلیا تھا کہ جونہی ادھر کوئی سانحہ پیش آئے ادھر مدینہ میں عبد اللہ بن ابی کے سر پر تاج شاہی رکھ دیا جائے۔۔۔۔نبی ﷺ کی ہجرت سے پہلے مدینہ عرب کے قصبات میں سے ایک معمولی قصبہ تھا اور اوس و خزرج کے قبیلے مال اور جاہ کے لحاظ سے کوئی اونچا درجہ نہ رکھتے تھے۔ مگر جب حضور وہاں تشریف لے گئے اور انصار نے آپ کا ساتھ دے کر اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا تو آٹھ نو سال کے اندر اندر یہی متوسط درجہ کا قصبہ تمام عرب کا دارالسلطنت بن گیا۔ وہی اوس و خزرج کے کاشتکار سلطنت کے اعیان و اکابر بن گئے اور ہر طرف سے فتوحات، غنائم اور تجارت کی برکات اس مرکزی شہر پر بارش کی طرح برسنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ اسی پر انہیں شرم دلا رہا ہے کہ ہمارے نبی پر تمہارا یہ غصہ کیا اسی قصور کی پاداش میں ہے کہ اس کی بدولت یہ نعمتیں تمہیں بخشی گئیں ! (تفہیم القرآن)
75۔ثعلبہ ابنِ حاطب انصاری ۔ایک شخص ثعلبہ ابن حاطب انصاری نے رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ درخواست کی کہ آپؐ دعاکریں کہ میں مال دار ہوجاؤں ،آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم کو میرا طریقہ پسند نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں چاہتا تو مدینہ کے پہاڑ سونا بن کر میرے ساتھ پھرا کرتے ،مگر مجھے ایسی مال داری پسند نہیں ، یہ شخص چلا گیا ،مگر دوبارہ پھر آیا اور پھر یہی درخواست اس معاہدہ کے ساتھ پیش کی کہ اگر مجھے مال مل گیا تو میں ہر حق والے کو اس کا حق پہنچاؤں گا ،رسول اللہؐ نے دعا کردی ،جس کا اثر یہ ظاہر ہواکہ اس کی بکریوں میں بے پناہ زیادتی شروع ہوئی،یہاں تک کہ مدینہ کی جگہ اس پر تنگ ہوگئی ،تو باہر چلاگیا،اور ظہر عصر کی دونمازیں مدینہ میں آکر آپؐ کے ساتھ پڑھتاتھا،باقی نمازیں بھی جنگل میں جہاں اس کا یہ مال تھا وہیں اداکرتا تھا۔۔۔۔جہاں جمعہ اور جماعت سب سے محروم ہوگیا۔۔۔اتفاق سے اسی زمانہ میں آیت صدقات نازل ہوگئی ،جس میں رسول اللہؐ کو مسلمانوں کے صدقات وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے(خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً)آپؐ نے مویشی کے صدقات کا مکمل قانون لکھواکر دوشخصوں کو عامل صدقہ کی حیثیت سے مسلمانوں کے مویشی کے صدقات وصول کرنے کیلئے بھیجدیا ،اور ان کو حکم دیا کہ ثعلبہ بن حاطب کے پاس بھی پہونچیں،اور بنی سلیم کے ایک اور شخص کے پاس جانے کا بھی حکم دیا۔ یہ دونوں جب ثعلبہ کے پاس پہونچے اور رسول اللہ ؐ کا فرمان دکھایا،تو ثعلبہ کہنے لگا کہ یہ تو جزیہ ہوگیا، جو غیر مسلموں سے لیا جاتاہے،اور پھر کہا کہ اچھا اب تو آپ جائیں جب واپس ہوں تو یہاں آجائیں ،یہ دونوں چلے گئے۔اور دوسرے شخص سُلیمی نے جب آنحضرتْؐ کا فرمان سنا تو اپنے مویشی اونٹ اور بکریوں میں جو سب سے بہتر جانور تھے، نصاب صدقہ کے مطابق وہ جانور لے کر خود ان دونوں قاصدان رسول اللہؐ کے پاس پہونچ گئے،انہوں نے کہا کہ ہمیں تو حکم یہ ہے کہ جانوروں میں اعلیٰ چھانٹ کرنہ لیں ،بلکہ متوسط وصول کریں، اس لئے ہم تو یہ نہیں لے سکتے ،سلیمی نے اصرار کیا کہ میں اپنی خوشی سے یہی پیش کرنا چاہتاہوں، یہی جانور قبول کرلیجئے۔پھر یہ دونوں حضرات دوسرے مسلمانوں سے صدقات وصول کرتے ہوئے واپس آئے تو پھر ثعلبہ کے پاس پہونچے ،تو اس نے کہا کہ لاؤ وہ قانون صدقات مجھے دکھلا ؤ،پھر اس کو دیکھ کر یہی کہنے لگا کہ یہ تو ایک قسم کا جزیہ ہوگیا، جو مسلمانوں سے نہیں لینا چاہئے،اچھااب تو آپ جائیں میں غور کروں گا پھر کوئی فیصلہ کروں گا۔۔۔اس واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔۔۔پھر جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے مال دیا تو بخل کرنے لگے،اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے پھر گئے۔۔۔یہ سن کر ثعلبہ گھبرایا،اور مدینہ حاضر ہوکر درخواست کی کہ میرا صدقہ قبول کرلیا جائے، آنحضرت ؐ نے فرمایا کہ مجھے حق تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کرنے سے منع فرمادیا ہے،یہ سن کر ثعلبہ اپنے سرپر خاک ڈالنے لگا۔۔۔مسئلہ:۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جب ثعلبہ تائب ہوکر حاضر ہوگیا تو اس کی تو بہ کیوں قبول نہ کی گئی،وجہ ظاہرہے کہ رسول اللہؐ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ اب بھی اخلاص کے ساتھ توبہ نہیں کررہاہے،اس کے دل میں نفاق موجود ہے،محض وقتی مصلحت سے مسلمانوں کو دھوکہ دے کر راضی کرنا چاہتاہے،اس لئے قبول نہیں، اور جب آنحضرتؐ نے اس کو منافق قراردیا تو بعد کے خلفاء کو اس کا صدقہ قبول کرنے کا حق نہیں رہا،کیونکہ زکوٰۃ کیلئے مسلمان ہونا شرط ہے البتہ رسول اللہؐ کے بعد چونکہ کسی شخص کے دل کا نفاق قطعی طورپر کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا،اس لئے آئندہ کا حکم یہی ہے کہ جو شخص توبہ کرلے اور اسلام و ایمان کا اعتراف کرلے اس کے ساتھ مسلمانوں کا سامعاملہ کیا جائے خواہ اس کے دل میں کچھ بھی ہو(بیان القرآن )(معارف القرآن)
78۔ روایتوں میں آتاہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد ثعلبہ بن حاطب زکوٰۃ لے کر آنحضرتؐ کی خدمت میں آیا، لیکن آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری زکوٰۃ قبول کرنے سے منع کردیا ہے۔اس نے نہایت ہائے واویلا کی، مگر آپ نے قبول نہ فرمائی ،اس کے بعد وہ حضرت ابوبکرؓ ،حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ تینوں کی خلافت میں زکوٰۃ پیش کرتارہا،اور ہردفعہ رد ہوتی رہی ،یہاں تک کہ وہ مرگیا۔۔۔"احقر کہتا ہے کہ اس کا زکوٰۃ لانا اور نہ لینے پرواویلا خلوص سے نہ تھا بلکہ دفع ِ عار و بدنامی کیلئے تھا، کیونکہ اَعْقَبَهُمْ الخ۔سے اس کا دائماً کافر رہنا معلوم ہوگیا،پھر خلوص کا احتمال کب ہے،اور شاید ممانعت ِ قبول سےمراد حضورؐ کی بھی ہو اس طرح کہ قبولِ صدقہ کیلئے ایمان شرط ہے اور شرط کا انتفاء مخصوص ہے، پس مشروط بھی منہی عنہا ہوگا،اور ممکن ہے کہ مستقل وحی بھی اس میں نازل ہوئی ہو،اور خلفائے راشدین کا قبول نہ کرنا آپ کے قبول نہ فرمانے کی وجہ سے تھا"۔(تھانویؒ)۔(تفسیر ماجدی)
79۔ نکٹا دوسروں کو بھی نکٹا دیکھنا چاہتاہے تاکہ اسے کوئی نکٹا کہنے والا باقی نہ رہے ۔یہی نفسیات بخیلوں کی ہوتی ہےاور یہ نفسیات ان منافقین کی بھی تھی ۔وہ غریب مسلمانوں کے انفاق پر طنز کرتے اور ان پر پھبتیاں چست کرتے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ متطوع اور مطوع دونوں ایک ہی لفظ ہیں۔ مطوع اس کو کہتے ہیں جو صرف فرائض و واجبات ہی ادا کرلینے پر قناعت نہ کرے بلکہ اپنی خوشی اور حوصلہ مندی سے نفلی نیکیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔(تدبرِ قرآن)
80۔ (اس لئے کہ مغفرت کی بنیاد یعنی ایمان ہی سرے سے مفقود ہے، اور منافقین کے حق میں دعا اور عدم دعا دونوں عدم نفع کے لحاظ سے یکساں ہیں)۔ (تفسیر ماجدی)
گیارہواں رکوع |
| فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ ﴿81﴾ فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿82﴾ فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ ﴿83﴾ وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ ﴿84﴾ وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ ﴿85﴾ وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ ﴿86﴾ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ ﴿87﴾ لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿88﴾ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ ۧ ۧ ﴿89ع التوبة 9﴾ |
| 81. جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے۔ 82. یہ (دنیا میں) تھوڑا سا ہنس لیں اور (آخرت میں) ان کو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا۔ 83. پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ 84. اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی نافرمان (ہی مرے)۔ 85. ان کے اولاد اور مال سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ ان کو دنیا میں عذاب کرے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں۔ 86. اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجیئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی ان کے ساتھ رہیں۔ 87. یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔ 88. لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہی لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں۔ 89. خدا نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہی گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ |
تفسیر آیات
81۔' مُخَلَّف‘ کے معنی ہیں وہ جو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ مُخَلَّفُوْنَ سے یہاں ان لوگوں کو مراد لیا گیا ہے جو جھوٹے عذرات پیش کر کے تبوک کی مہم میں شریک ہونے سے گریز کر گئے۔ یہاں قرآن نے ان کے لیے مخلفون کا لفظ استعمال کر کے ان کی اصل حیثیت واضح کردی ہے کہ بظاہر تو وہ اپنے زعم میں رسول سے رخصت حاصل کیے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ پیچھے چھوڑے اور نظر انداز کیے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے باطن کو بھانپ کر اللہ کے رسول نے، ان کے عذرات لا یعنی ہونے کے باوجود، صرف اس وجہ سے ان کی رخصت منظور کرلی کہ ایسے بزدل اور مفسد لوگ اپنے گھروں ہی میں بیٹھیں تو خیر ہے۔ جنگ کے لیے نکلیں گے تو معلوم نہیں کیا کیا فساد مچائیں۔(تدبرِ قرآن)
84۔ منافقوں کی نماز جنازہ:۔ چنانچہ اس حکم کے بعد آپؐ نے منافقوں کی نمازجنازہ پڑھانا یا ان کے حق میں استغفار کرنا چھوڑ دیا تھا ۔لیکن آپؐ کی زندگی کے بعد کسی نفاق کا فتویٰ لگانا بہت مشکل کام ہے کیونکہ دلوں کے احوال تو اللہ ہی جانتاہے اور سیدنا عمرؓ اپنے دور میں یہ دیکھتے تھے کہ سیدنا حذیفہ ؓ بن یمان جنازہ میں شریک ہیں یا نہیں۔اگر وہ شریک ہوتے تو آپ بھی شریک ہوجاتے اور اس کا یہ مطلب ہوتاتھا کہ وہ صاحب جنازہ مومن آدمی تھا۔ منافق نہیں تھا کیونکہ سیدنا حذیفہؓ کو رسول اللہؐ نے منافقوں کی پہچان کرادی تھی اور وہ "رازدان رسول"تھے۔(تیسیر القرآن)
۔ احادیث صحیحہ سے باتفاق امت ثابت ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی منافق کی موت اور اس پر نماز جنازہ کے متعلق نازل ہوئی، اور صحیحین کی روایت سے ثابت ہے کہ اس کے جنازہ پر رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی، پڑھنے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، اور اس کے بعد آپ نے کبھی کسی منافق کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔(معارف القرآن)
87۔ الْخَوَالِفِ سے مراد یہاں عورتیں ہیں،ابن عباسؓ اور متعدد تابعین سے یہی منقول ہے"عورتیں چونکہ گھر میں بیٹھی رہ جانے والیاں ہیں ،اسی لئے انہیں خوالف کہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
بارہواں رکوع |
| وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿90﴾ لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ ﴿91﴾ وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ ﴿92﴾ اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿93﴾ یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿94﴾ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿95﴾ یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ﴿96﴾ اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿97﴾ وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿98﴾ وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿99ع التوبة 9﴾ |
| 90. اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔ 91. نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 92. اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ 93. الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں۔ 94. جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔ 95. جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو اُن کی طرف التفات نہ کرنا۔ یہ ناپاک ہیں اور جو یہ کام کرتے رہے ہیں اس کے بدلہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ 96. یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔ 97. دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ 98. اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔ 99. اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو وہ بےشبہ ان کے لیے (موجب) قربت ہے خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ |
تفسیر آیات
90۔ الْاَعْرَاب۔عرب کہتے ہیں نسل حضرت اسمٰعیل کو ،اور عرب قوم کا اطلاق ان سب لوگوں پر ہوتاہے جو ملک عرب یا جزیرہ اور اس کے ملحقات میں آباد ہواور عربی زبان بولے۔۔۔۔اعراب ۔اسی کی جمع ہے ،لیکن اعراب کا اطلاق صرف دیہاتی آبادی کیلئے مخصوص رہ گیاہے،یہ وہ لوگ ہیں جو شہر کو صرف ضرورۃً ہی جاتے ہیں۔۔۔۔بلکہ معتذر و معذر کے درمیان فرق ہی یہ ہے کہ معتذر کا عذر ممکن ہے کہ صحیح ہو اور ممکن ہے کہ غلط ہو،لیکن معذر کا عذر ہمیشہ غلط ہی ہوگا۔(تفسیر ماجدی)
95۔ پہلے فقرے میں صرف نظر سے مراد درگزر ہے اور دوسرے فقرے میں قطع تعلق۔ یعنی وہ تو چاہتے ہیں کہ تم ان سے تعرض نہ کرو، مگر بہتر یہ ہے کہ تم ان سے کوئی واسطہ ہی نہ رکھو اور سمجھ لو کہ تم ان سے کٹ گئے اور وہ تم سے۔ (تفہیم القرآن)
97۔اَعْرَاب یہ لفظ عرب کی جمع نہیں، بلکہ اسم جمع ہے جو دیہات کے باشندوں کے لئے بولا جاتا ہے، اس کا مفرد بنانا ہوتا ہے تو اعرابی کہتے ہیں، جیسے انصار کا مفرد انصاری آتا ہے۔ (معارف القرآن)
99۔بدوی مومنوں کا کردار:۔ ۔۔آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی تھی کہ جب آپ صدقہ وصول کریں تو صدقہ دینے والے کو دعا دیا کریں۔اس لئے کہ آپؐ کی دعا ان کیلئے باعث تسکین ہوتی ہے۔اور اس دعا کا ثمرہ بھی اللہ کی رحمت اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)
تیرہواں رکوع |
| وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ﴿100﴾ وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ ﴿101﴾ وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿102﴾ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿103﴾ اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ﴿104﴾ وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ ﴿105﴾ وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿106﴾ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ﴿107﴾ لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ ﴿108﴾ اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ﴿109﴾ لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿110ع التوبة 9﴾ |
| 100. جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ 101. اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ 102. اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 103. ان کے مال میں سے زکوٰة قبول کر لو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہْاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ 104. کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے اور بےشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ 105. اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا۔ 106. اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے ان کو عذاب دے اور چاہے ان کو معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ 107. اور (ان میں سے ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں۔ اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ 108. تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔ 109. بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 110. یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ |
تفسیر آیات
100تا103۔مومنوں کے درجات۔ 103 (صدقات سے پاکیزگی اور اللہ کی طرف سے سفارش برائے دعا )(بیان القرآن)
100۔اولین مہاجرو انصار صحابہ اور ان کے نام:۔ مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکرؓ ایمان لائے تھے ۔عورتوں میں سیدہ خدیجہؓ ۔لڑکوں میں سیدنا علی المرتضیٰؓ اور غلاموں میں سیدنا زید بن حارثہؓ ۔ان میں ماسوائے سیدنا ابوبکرؓکے باقی سب آپؐ کے گھر کے افراد تھے۔ پھر سیدنا ابوبکرؓ کی کوشش سے جو حضرات ایمان لائے ان کے نام یہ ہیں۔ سیدنا عثمانؓ،سیدنا زبیر بن العوامؓ۔سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ ،سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت طلحہؓ ۔پھر ان کے بعد بہت سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ سب مہاجرین اولین اور سابقین ہیں۔اور انصار میں سابقین و اولین وہ پانچ شخص ہیں جنہوں نے پہلے لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی یعنی حضرات سعد ؓ،عوفؓ،رافعؓ،قطبہؓ اور جابرؓ۔پھر جنہوں نے دوسری دفعہ عقبہ میں بیعت کی وہ بارہ اشخاص تھے۔ پھر تیسرے عقبہ میں ستر اشخاص نے بیعت کی ۔اور یہ سب ہجرت نبوی سے پہلے اسلام لائے تھے۔السابقون الاولون سے مراد تو وہ ابتدائی مسلمان ہیں جنہوں نے ہرتنگی و ترشی کے وقت اسلام اور پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا تاآنکہ اللہ کا کلمہ بلند ہوگیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن مسلمانوں نے کفار اور مشرکین کے بے پناہ مظالم برداشت کیے تھے ان کا درجہ عام مسلمانوں سے بلندہی ہونا چاہیے اور اسی لحاظ سے اللہ کے ہاں وہ اجر وثواب اور بلندی درجات کے بھی زیادہ مستحق ہیں۔مگر ان کی تعیین میں علماء نے بہت اختلاف کیا ہے ۔بعض کے نزدیک اس سے وہ مسلمان مراد ہیں جنہوں نے ہجرت نبوی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ)کی طرف نمازپڑھی۔بعض کے نزدیک غزوۂ بدر تک کے مسلمان سابقین اولین ہیں۔بعض اس دائرہ کو صلح حدیبیہ تک وسیع کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک تمام مہاجرین و انصار ،اطراف کے مسلمانوں اور بعد میں آنے والی نسلوں کے اعتبارسے سابقین اولین ہیں ۔اور معنیٰ کے لحاظ سے ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ سبقت اور اولیت اضافی چیزیں ہیں ۔لہذا ایک ہی شخص (یا جماعت)ایک اعتبار سے سابق اور دوسرے اعتبار سے لاحق ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔السابقون الاولون کی تعیین:۔ ہمارے خیال میں سابقین اولین سے مراد غزوۂ بدر تک کے مسلمان ہیں ۔اس لیے کہ فتح بدر کے بعد اسلام ایک مقابلہ کی قوت بن گیا تھا اور دوسرے اموال غنائم سے مسلمانوں کی معیشت کو بھی تقویت پہنچی تھی۔یا زیادہ سے زیادہ اس دائرہ کو فتح خیبر تک وسیع کیا جاسکتاہے جبکہ حبشہ کے مہاجرین بھی واپس پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کی معاشی حالت اتنی سنبھل چکی تھی کہ انہوں نے انصار سے مستعار لیے ہوئے کھجوروں کے درخت بھی انہیں واپس کردئیے تھے۔ بعد کے مسلمانوں کو نہ پہلے مسلمانوں جیسے مصائب برداشت کرنا پڑے اور نہ معاشی تنگی۔(تیسیر القرآن)
101۔ایک سزا وہ جوان کو مسلمانوں کے ہاتھوں ملنے والی ہے اور دوسری وہ جس سے عالم برزخ میں دوچار ہوں گے۔ اس کے بعد حتمی سزا آخرت میں ملے گی۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
103۔ زکوٰۃ و ٹیکس میں فرق:۔ عہد نبویؐ اور خلفائے راشدین کے دور میں مسلمانوں سے تو زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی اور غیر مسلمانوں سے خراج اور جزیہ ۔عرب کا ہمسایہ ملک ایران ایک متمدن حکومت تھی ۔اس میں زمینداروں سے جو مالیہ وصول کیا جاتا اسے خراگ کہتے تھے۔خراج کا لفظ اسی سے معرب ہے اور خراگ کے علاوہ دوسرے ٹیکسوں کو گزیت کہتے تھے۔جزیہ کا لفظ اسی سے معرب ہے ۔گویا غیر مسلموں پر تو وہی ٹیکس بحال رکھے گئے جو زمانہ کے دستور کے مطابق تھے مگر مسلمانوں سے یہ عام ٹیکس ساقط کردئیے گئے اور ان کی بجائے زکوٰۃ عائد کی گئی۔دوسرا فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ کا نصاب اور شرح ہمیشہ غیرمتبدل رہی جبکہ جزیہ اور خراج کی شرح میں تبدیلی ہوتی رہی ۔عہد نبویؐ میں جزیہ کی شرح ایک دینار فی کس سالانہ تھی اور یہ رقم اجتماعی طورپر بوڑھے بچے، عورت اور معذوروں کی تعداد کے مطابق لی جاتی تھی مگر سیدنا عمرؓ نے اس میں اصلاح کی ۔بوڑھے ،بچے،عورتوں اور معذوروں سے جزیہ ساقط کردیا اور کمانے والے افراد کے بھی تین درجے مقرر کیے جن سے علی الترتیب چار دینار،دودینار اور ایک دینار سالانہ کے حساب سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا ۔اسی طرح قبیلہ بنی تغلب کے عیسائیوں نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ ان سے خراج کی بجائے دوگنا عشر لے لیا جائے تو سیدنا عمرؓ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس دور میں زکوٰۃ کو تو دین کا رکن سمجھا جاتا تھا اور اس کے احکامات غیر متبدل تھے جبکہ جزیہ اور خراج کی شرح میں تغیر و تبدل کرلیا جاتا تھا۔۔۔۔زکوٰۃ کی شرح میں تبدیلی اور دوسرے ٹیکس:۔ ان حضرات کا یہ دعویٰ کہ رسول اللہؐ نے خود اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق محل زکوٰۃ اشیاء میں اس حد نصاب اور اس کی شرح مقرر فرمائی تھی بالکل غلط ہے وجہ یہ ہے کہ اگر یہ باتیں تدبیر ی امورمیں شامل ہوتیں تو آپؐ صحابہ سے ضرور مشورہ کرتے۔کیونکہ قرآن میں آپ کو یہی حکم دیا گیا ہے اور بہت سے تدبیری امور میں آپؐ کا صحابہ سے مشورہ کرنا احادیث سے ثابت بھی ہے لیکن یہ حضرات کسی ضعیف سے ضعیف حدیث حتیٰ کہ تاریخ کی کسی کتاب سے بھی ثابت نہیں کرسکتے کہ آپؐ نے اس سلسلہ میں صحابہ کرام سے مشورہ لیا ہو۔اس کے برعکس ہم قرآن سے یہ ثابت کریں گے کہ شرح زکوٰۃاور محل نصاب اشیاء کی تعیین سب کچھ منزل من اللہ تھا جس میں آپؐ کی رائے یا مرضی کو کچھ عمل دخل نہ تھا۔ ارشادباری ہے:۔ "وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ"(70: 24، 25)۔ترجمہ: اور ان (مومنوں )کے اموال میں مانگنے اور نہ مانگنے والوں کا حصہ مقرر ہے۔۔۔ان تصریحات سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ زکوٰۃ سے متعلق جملہ امور منزل من اللہ تھے اور ان میں ردوبدل کا خود آپؐ کو بھی اختیار نہ تھا اگر آپؐ کو بھی کچھ اختیار ہوتا تو فرضیت زکوٰۃ کے بعد کئی مواقع ایسے آئے جن میں آپؐ اس شرح کو بڑھا سکتے تھے جیسے غزوۂ تبوک کا موقع جبکہ آپؐ کو فنڈ کی شدید ضرورت تھی۔علاوہ ازیں ابتدائے اسلام سے آج تک ان امور کا غیر متبدل رہنا ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ان میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔۔۔اس سلسلہ میں فقہائے امت نے اگر کچھ لچک پیدا کی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ اگر قحط کا زمانہ ہو۔غریب لوگ بھوکوں مر رہے ہوں ،بیت المال میں اتنی رقم موجود نہ ہو جس سے ضروریا ت پوری کی جاسکیں اور اغنیاء حکومت کی اپیل کے باوجود غربیوں کا احساس نہ کررہے ہوں تو ان چار شرطوں کے ساتھ حکومت اسلامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امراء پر ٹیکس لگا کر غرباء کی ضروریات کو پورا کرے اور امراء پر ٹیکس لگانے میں عدل سے کام لیا جائے گا یعنی صرف اس قدر مال لیا جائے گا جس سے ضروریات پوری ہوسکے اس سے زائد نہیں ۔نیز اس ٹیکس کی حیثیت ہنگامی اور عارضی ہوگی ،دوامی نہیں ہوگی۔ رہے ایسے ٹیکس جن کا مقصد ہی اہل اقتدار کی عیاشیوں اور ہوس پرستیوں کو پورا کرنا ہو ان کی ایک اسلامی حکومت میں کوئی گنجائش نہیں ۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
ــــ جوچیز ان کے حق میں سفارش بنی وہ یہ تھی کہ یہ لوگ نفاق ہی پر نہیں پلے اور بڑھے بلکہ بدیوں کے ساتھ نیکیاں بھی کمائیں۔ان کا اعتراف گناہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا۔چونکہ نفاق کی بیماری محبت دنیا سے پیدا ہوتی ہے،اس لیے اس کا سب سے موثر علاج اللہ کی راہ میں انفاق ہے۔لہذا ان کا صدقہ قبول کرنے کی ہدایت فرمائی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
تطہیر اور تزکیہ کا فرق : یہاں تطہیر اور تزکیہ کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن میں ان دونوں کے مواقع استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ تطہیر میں غالب پہلو ظاہری اور باطنی نجاستوں اور رذائل سے پاک کرنے کا ہے اور تزکیہ میں رذائل سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ صلاحیتوں اور خوبیوں کو نشوونما دینے اور فضائل اخلاق سے آراستہ کرنے کا مفہوم بھی شامل ہے۔۔۔۔۔ مرض نفاق کا موثر علاج انفاق: اس ٹکڑے سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوئی کہ نفاق کی بیماری کا سب سے زیادہ مؤثر علاج اللہ کی راہ میں انفاق ہے۔ یہ بیماری اصلاً محبت دنیا سے پیدا ہوتی ہے جو ان تمام رذائل کے پیدا ہونے کا سبب ہے جن کے مجموعے کا نام نفاق ہے۔ انفاق سے اس بیماری کی جڑ کٹتی ہے اور جب اس کی جڑ کٹ جاتی ہے تو ایک طرف رذائل مضمحل ہوجاتے ہیں دوسری طرف مکارم و فضائل پروان چڑھنا شروع کردیتے ہیں۔۔۔۔۔ انفاق کا اصلی فائدہ انفاق کرنے والے کو ہوتا ہے : دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ اللہ اور رسول پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ اصل احسان اللہ اور رسول کا ہے کہ ان کے انفاق کو قبول فرماتے ہیں۔ اس لیے کہ اس سے جو تطہیر و تزکیہ حاصل ہوتا ہے اس کے محتاج اللہ اور رسول نہیں ہیں بلکہ وہی لوگ ہیں جن کو انفاق کی دعوت دی جاتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
105۔ایک مسلمان اور منافق کا عذر جانچنے کے اصول:۔ ان آیات سے دراصل ایک منافق اور ایک غلطی سے گناہ کرنے والے مسلمان کے درمیان فرق کو واضح کیا گیاہے۔1۔ منافق گناہ کرکے جھوٹے بہانے بناتے اور قسمیں اٹھاتے ہیں جبکہ مومن اپنے گناہ کا صاف صاف اقرار کرلیتے ہیں۔2۔ گناہگار مومن کی سابقہ زندگی اس بات پر شاہد ہوتی ہے کہ یہ گناہ اس سے نفس کی کمزوری سے واقع ہوگیا ہے جبکہ منافق کا سابقہ ریکارڈ بھی گندہ ہوتاہے۔3۔ توبہ صرف اس کی قبول ہوتی ہے جس کا سابقہ ریکارڈ درست ہو اور یہ موجودہ گناہ بہ تقاضائے بشریت واقع ہوگیاہو۔عادی مجرموں یعنی منافقوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔4۔ اللہ تعالیٰ صدقات صرف ان کے قبول کرتا ہے جو برضاء و رغبت صدقات دیتے ہیں اور اسے قرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔نمائش یا مجبور ہوکر یا کراہت سے دئیے ہوئے صدقے اللہ قبول ہی نہیں کرتا۔5۔ منافقوں کے صدقات اس لحاظ سے بھی ناقابل قبول ہیں کہ صدقہ مصائب کو ٹالتااور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتاہے۔اللہ کے ہاں چونکہ منافق کی مغفرت کی کوئی صورت نہیں لہذا صدقہ کی بھی قبولیت نہیں۔6۔ توبہ کی مقبولیت کا اس بات سے بھی واضح طور پر پتہ چل سکتا ہے کہ توبہ کے بعد توبہ کرنے یا معذرت کرنے والا کیسے اعمال بجالاتاہے۔اگر ان میں ایمان و اخلاص آگیا تو سمجھنا چاہیے کہ وہ نفاق کی سزا سے بچ نکلا ۔(تیسیر القرآن)
106۔ یہ تین آدمی تھے: کعب،ہلال اور مرارہ۔ یہ نفاق میں متہم نہیں تھے لیکن غزوۂ تبوک میں حصہ نہ لے سکے اور اسلام کے لیے اپنی قربانیوں کے باعث ان کو اپنی غلطی کا زیادہ شدت سے احساس بھی نہ ہوا۔ان کی توبہ کی قبولیت اس وقت تک ملتوی رکھی گئی جب تک ان کے اندر وہ بے قراری اور خستگی و شکستگی نہ پیدا ہوجائے جو توبہ کی قبولیت کے لیے اللہ کی بارگاہ میں سفارش بنتی ہے۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
107۔مسجد ضرار اور راہب ابوعامر کا کردار: ۔۔۔جب رسول اللہؐ مدینہ تشریف لائے تو جس طرح عبداللہ بن ابی منافق نے آپؐ کو اپنا سیاسی حریف سمجھ کر اسلام دشمنی کی منافقانہ روش اختیار کی تھی۔ابوعامر نے آپؐ کو اپنا روحانی حریف سمجھ کر آپؐ سے عداوت کی راہ اختیار کرلی۔(تیسیر القرآن)
108۔روزاول سے تقویٰ کی بنیاد پر تعمیر کردہ مسجد سے مراد مسجد قباہے جو ہجرت کے بعد سب سے پہلے بنی۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مسجد ضرار کی تعمیر کے مقاصد فاسدہ :۔۔۔ اس کی پہلی غرض یہ بتائی ہے کہ ’ ضرار ‘ کے لیے بنائی گئی ہے۔یعنی اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے۔۔۔۔۔دوسرا مقصد اس کا ’ کفر ‘ بتایا ہے۔ یعنی جو کفر ان کے اندر رچا بسا ہوا تھا اس کی پرورش اور اس کی تائید وتقویت کے لیے۔۔۔۔ تیسرا مقصد اس کا تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ بتایا ہے یعنی یہ اس غرض سے بنائی گئی کہ مسلمانوں کے شیرازے کو پراگندہ کیا جائے۔۔۔۔۔چوتھا مقصد اس کا اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ بتایا گیا ہے۔ یعنی یہ ان لوگوں کے لیے ایک کمین گاہ کا کام دے جو اللہ اور رسول سے برسر پیکار رہ چکے ہیں۔۔۔۔مسجد کی بنیاد تقویٰ پر ہوتی ہے : اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ مسجد کی بنیاد در اصل زمین پر نہیں بلکہ بانیوں کے دلوں پر قائم ہوتی ہے۔ اگر بانیوں کے دلوں میں تقویٰ ہو اور وہ اس تقوی ٰپر مسجد کی بنیاد رکھیں تب تو وہ مسجد ہے اگر دلوں میں شر و فساد ہو تو وہ مسجد نہیں بلکہ بت خانہ ہے جو اپنے بانیوں اور پجاریوں سمیت، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہوگا، ایک دن جہنم میں جا گرے گا۔۔۔۔۔(تدبرِ قرآن)
110۔ ۔۔۔دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے مراد ان کا مرجانا ہے یعنی مرتے دم تک نفاق ان کے دلوں سے نکل نہیں سکتا۔(تیسیرالقرآن)
چودھواں رکوع |
| اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ﴿111﴾ اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿112﴾ مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ﴿113﴾ وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ ﴿114﴾ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ﴿115﴾ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ ﴿116﴾ لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ ﴿117﴾ وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ ۧ ۧ ﴿118ع التوبة 9﴾ |
| 111. خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں ۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ 112. توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو۔ 113. پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں۔ 114. اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے۔ 115. اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔ 116. خدا ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگانی بخشتا ہے (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔ 117. بےشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔ 118. اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہیں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ |
تفسیر آیات
111۔ جہاد کی سب سے پہلی یہی آیت ہے: مکہ معظمہ میں جہاد و قتال کے احکام نہیں تھے، یہ سب سے پہلی آیت ہے جو مکہ مکرمہ ہی میں قتال کے متعلق نازل ہوئی، اور اس کا عمل ہجرت کے بعد شروع ہوا، اس کے بعد دوسری آیت نازل ہوئی، (آیت) اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ۔۔۔ شرکائے بیعت عقبہ کے بارے ۔ سنہ 11نبوی (6) ،سنہ 12 نبوی ۔(12= 7نئے5+پرانے) سنہ 13 نبوی ( 70 جمع 2 عورتیں) شرکائے معاہدہ نےرب اور اس کے رسول کے بارے شرائط پوچھیں ۔کسی اور کی عبادت نہیں اور شرک سے اجتناب ۔میری حفاظت اپنی جان ،مال اور اولاد کی طرح۔بدلے میں کیا ؟جنت، نہ خود فسخ کریں گے نہ اس کے فسخ کو پسند کریں گے (الفاظ معارف کے نہیں ہیں بلکہ ان کا خلاصہ ہے) ۔۔۔۔۔حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا کہ یہ کیسی نفع بخش تجارت ہے جو اللہ نے ہر مرد مومن کےلئے کھول دی ہے اور فرمایا کہ اللہ نے ہی تمہیں مال بخشا ہے تم اس میں سے تھوڑا خرچ کرکے جنت خرید لو ۔(معارف القرآن)
ــــ روایتوں میں آتاہے کہ سنہ 13 نبوی میں ستر شرفاء مدینہ نے مکہ میں آکر رسول اللہ ؐ سے بیعت کی(اور اس بیعت کا نام بیت عقبۂ ثانیہ)اور ان کے ایک لیڈر عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیاکہ آپ اپنے اور اپنے رب کی طرف سے شرطیں بیان فرمائیے،آپؐ نے فرمایاکہ میرے رب کی طرف سے تو یہ ہے کہ اس کی عبادت کرو،اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ،اور میری طرف سے شرط یہ ہے کہ جس طرح اپنے جان و مال کی حفاظت کرتے ہو،میری بھی حفاظت کرو، وہ بولے کہ اچھا تو پھر ہمیں کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا "جنت"وہ لوگ بول اٹھے"ربح البیع لانقیل ولانستقیل"یہ سودا بڑا نفع کا ہے، ہم نہ اس بیع کو توڑیں نہ ہم اس کے توڑنے کی درخواست کریں۔(تفسیر ماجدی)
112۔سچے اہل ایمان کی صفات : بعض مرتبہ زور کلام خبر کو خود ظاہر کردیتا ہے اگرچہ وہ لفظوں میں ظاہر نہیں ہوتی۔ یہاں موقع کلام یہ ظاہر کرتا ہے کہ جن کی صفات یہ یہ ہیں وہی لوگ سچے مومن ہیں، ان مومنین کو خوش خبری پہنچا دو۔۔۔۔سیاحت کا مفہوم : لفظ سیاحت قدیم زمانے سے اہل دین کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم صاحب لسان نے یوں ادا کیا ہے۔ الذھاب فی الارض للعبادۃ والترھب، عبادت و ریاضت کے لیے کسی سمت کو نکل کھڑے ہونا۔ اسلام سے پہلے اکثر مذاہب میں عبادت کے پہلو سے اس بات کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے کہ آدمی گھر در، بیوی بچوں اور دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر جنگلوں، پہاڑوں اور سنسان جگہوں میں نکل جائے، اپنا سارا وقت دھیان گیان، ذکر و عبادت، چلہ کشی اور ریاضت میں گزارے۔۔۔۔۔۔اسلام میں سیاحت کی حدود : اس سیاحت کا جتنا حصہ رہبانیت کے حکم میں داخل ہے وہ تو اسلام میں ممنوع ہے اس لیے کہ اسلام دین فطرت ہے اور رہبانیت فطرت کے خلاف ہے لیکن اس کا جو حصہ زہد و توکل، ذکر و فکر، خلوت و تبتل ریاضت و مجاہدہ، جستجوئے حقیقت، طلب علم اور دعوت الی اللہ و جہاد فی سبیل اللہ سے تعلق رکھتا ہے وہ اسلام میں بھی مطلوب و مطبوع ہے۔۔۔۔۔۔عام طور پر ہمارے مترجموں نے اس کا ترجمہ روزہ رکھنے والے، یا راہ خدا میں پھرنے والے، یا ’ بےتعلق رہنے والے ‘ کیا ہے۔ لیکن ان ترجموں سے سیاحت کا صرف ایک پہلو سامنے آتا ہے۔ در آنحالیکہ اس کے متعدد پہلو ہیں۔ میں نے ’ ریاض کرنے والے ‘ ترجمہ کیا ہے۔ اگرچہ میں اس پر پوری طرح مطمئن تو نہیں ہوں لیکن میرے نزدیک یہ ترجمہ نسبۃً لفظ کی روح سے قریب تر اور اس کے کل نہیں تو اکثر اطراف کا جامع ہے۔ والعلم عند اللہ۔ (تدبرِ قرآن)
ــ حضرت کعب ابن مالک ؓ:۔ صحیحین بخاری و مسلم اور اکثر کتب حدیث میں اس واقعہ کے متعلق حضرت کعب بن مالکؓ کی ایک طویل حدیث لکھی گئی ہے، جو بہت سے فوائد اور مسائل اور حقائق پر مشتمل ہے، اس لئے مناسب معلوم ہواکہ اس کا پورا ترجمہ یہاں نقل کردیا جائے،ان تین بزرگوں میں سے ایک کعب بن مالکؓ تھے انہوں نے اپنے واقعہ کی تفصیل اس طرح بتلائی کہ:رسول اللہؐ نے جتنے غزوات میں شرکت کی میں ان سب میں بجز غزوہ تبوک کے آپ کے ساتھ شریک رہا،البتہ غزوۂ بدر کا واقعہ چونکہ اچانک پیش آیااور رسول اللہؐ نے سب کو اس میں شریک ہونے کا حکم بھی نہیں دیا تھا،اور شریک نہ ہونے والوں پر کوئی عتاب بھی نہیں فرمایا تھا اس میں بھی شریک نہ ہوسکا،اور لیلۃ العقبہ کی بیعت میں بھی حاضر تھا ،جس میں ہم نے اسلام کی حمایت و حفاظت کا معاہدہ کیا تھا،اور مجھے یہ بیعت عقبہ کی حاضری غزوۂ بدر کی حاضری سے بھی زیادہ محبوب ہے، اگر چہ غزوۂ بدر لوگوں میں زیادہ مشہور ہے،اور میرا واقعہ غزوۂ تبوک میں غیر حاضر ی کا یہ ہے کہ میں کسی وقت بھی اس وقت سے زیادہ خوش حال اور مالدار نہ تھا۔۔۔بخدا میرے پاس کبھی اس سے پہلے دوسواریاں جمع نہیں ہوتی تھیں جو اس وقت موجود تھیں۔۔۔۔ہلال بن امیہ کی اہلیہ خولہ بنت عاصم یہ حکم سن کر رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہلال بن امیہؓ ایک بوڑھے ضعیف آدمی ہیں اور کوئی ان کا خادم نہیں، ابن شیبہؒ کی روایت یہ بھی ہے کہ وہ ضعیف البصر بھی ہیں کیا آپ یہ پسند نہیں فرمائیں گے کہ میں ان کی خدمت کرتی رہوں،فرمایا کہ خدمت کرنیکی ممانعت نہیں البتہ وہ تمہارے پاس نہ جائیں،انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو بڑھاپے کی وجہ سے ایسے ہوگئے ہیں کہ ان میں کوئی حرکت ہی نہیں ،اور واللہ ان پر تو مسلسل گریہ طاری ہے رات دن روتے رہتے ہیں۔۔۔۔کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ پچاسویں رات کے بعد صبح کی نماز پڑھ کر میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھاتھااور حالت وہ تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے کہ مجھ پر میری جان اور زمین باوجود وسعت کے تنگ ہوچکی تھی۔۔۔سفر کیلئے رسول اللہؐ کو جمعرات کا دن پسند تھا، خواہ سفر جہاد کا ہویا کسی دوسری ضرورت کا۔۔۔اس واقعہ سے صحابۂ کرام کی رسول اللہؐ کیساتھ انتہائی محبت معلوم ہوئی کہ اس ناراضی اور مقاطعہ سلام و کلام کے زمانہ میں بھی غایت محبت سے آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضری بھی نہیں چھوڑی اور کن انکھیوں سے دیکھ کر آپکی توجہ اور تعلق کا حال معلوم کرنے کی فکر رہی ۔کعب بن مالکؓ کے گہرے دوست قتادہؓ کا معاملہ ،کہ ان کے سلام کا جواب نہ دیا اور کوئی کلام نہ کیا،یہ ظاہرہے کہ یہ کسی دشمنی یا مخالفت یا بغض سے نہیں بلکہ حکم رسول اللہؐ کے اتباع کی وجہ سے تھا،اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہؐ کا بنایا ہوا قانون صرف لوگوں کے ظاہر پر نافذ نہ ہوتا تھا بلکہ دلوں پر بھی اس کی حکومت ہوتی تھی اور حاضر و غائب کسی حال میں اس کے خلاف نہ کرتے تھے اگرچہ اسمیں کسی بڑے سے بڑے دوست عزیز کیخلاف ہی ہو۔حضرت کعبؓ کے پاس بادشاہِ غسان کا خط آنے اور اس کو تنور میں ڈالنے کے واقعہ سے صحابہ کرامؓ کے ایمان کی انتہائی پختگی معلوم ہوئی کہ رسول اللہؐ اور تمام مسلمانوں کے مقاطعہ سے سخت پریشان ہونیکے عالم میں بھی ایک بڑے بادشاہ کے لالچ دلانے سے ان کے دل میں کوئی میلان پیدا نہیں ہوا۔قبول ِ توبہ نازل ہونے کے بعد صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ اور عام صحابہ کرامؓ کا کعب بن مالکؓ کو بشارت دینے کیلئے دوڑنا اور اس سے پہلے سب کا سلام و کلام تک سے سخت پرہیز کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقاطعہ کے زمانے میں بھی ان سب کے دلوں میں حضرت کعبؓ سے محبت اور تعلق تھا، مگر حکم رسول ؐ کے سامنے سب کچھ چھوڑاہواتھا،جب آیت توبہ نازل ہوئی تو ان کے گہرے تعلق کا اندازہ ہوا۔صحابہ کرامؓ کا حضرت کعبؓ کو خوشخبری دینے اور مبارکباد کیلئے جانے سے معلوم ہواکہ کسی خوشی کے موقع پر اپنے دوست احباب کو مبارکباد دینا سنت سے ثابت ہے۔(معارف القرآن)
113۔مشرکین کیلئے دعائے مغفرت کی ممانعت اور قصہ ابوطالب:۔ مسیب بن حزن (سعید بن مسیب کے والد )کہتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو آپؐ ان کے پاس گئے اس وقت ان کے پاس ابوجہل بیٹھا تھا۔آپ ؐ نےابوطالب سے کہا"چچالا الہ الا للہ کہہ لو۔مجھے پروردگار کے ہاں (تمہاری مغفرت کیلئے) ایک دلیل مل جائے گی۔ابوجہل اور عبداللہ بن ابی کہنے لگے :کیا تم عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دوگے؟دونوں برابر یہی سمجھاتے رہے آخر ابوطالب نے آخری بات جو کہی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر(مرتا)ہوں ۔اس وقت آپؐ نے فرمایا میں تمہارے لیے بخشش کی دعاکرتارہوں گا۔جب تک مجھے اس سے منع نہ کیا جائے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی(بخاری، کتاب المناقب ۔قصہ ابی طالب)اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت کرنا منع نہ تھا۔(تیسیر القرآن)
۔ قرآن مجید کی یہ چند شدید ترین انذاری و تہدیدی آیتیں ہیں،حق تعالیٰ کی شانِ جلالی کی پوری مظہر ۔لوکانوا اولی قربیٰ۔یہ قرابت کا تعلق خواہ مومنین کے ساتھ ہو یا خود نبی کے ساتھ۔(تفسیر ماجدی)
۔ یہاں اتنا اور سمجھ لینا چاہیے کہ خدا کے باغیوں کے ساتھ جو ہمدردی ممنوع ہے وہ صرف وہ ہمدردی ہے جو دین کے معاملہ میں دخل انداز ہوتی ہو۔ رہی انسانی ہمدردی اور دنیوی تعلقات میں صلہ رحمی، مواساۃ، اور رحمت و شفقت کا برتاؤ، تو یہ ممنوع نہیں ہے بلکہ محمود ہے۔ رشتہ دار خواہ کافر ہو یا مومن، اس کے دنیوی حقوق ضرور ادا کیے جائیں گے۔ مصیبت زدہ انسان کی بہر حال مدد کی جائے گی۔ حاجت مند آدمی کو بہر صورت سہارا دیا جائے گا۔ بیمار اور زخمی کے ساتھ ہمدردی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ یتیم کے سر پر یقینا شفقت کا ہاتھ رکھا جائے گا۔ ایسے معاملات میں ہرگز یہ امتیاز نہ کیا جائے گا کہ کون مسلم ہے اور کون غیر مسلم۔ (تفہیم القرآن)
114۔ جب موت کفر پر واقع ہوجائے تب تو مغفرت کا احتمال ہی نہیں لیکن زندگی بھر تو یہ امید قوی یا ضعیف بہرحال لگی رہتی ہے کہ شاید اب اسے توفیق ہدایت ہوجائے اور مغفر ت ہدایت سے لازم آجاتی ہے، چنانچہ زندہ کافر والدین کے حق میں دعائے مغفرت مطلقاً ممنوع نہیں۔۔۔(چنانچہ باوجود اس کے باپ نے کیسی کیسی سختیاں کیں،آپ برابر حلم ہی سے کام لیتے گئے یہاں تک کہ جوش شفقت سے طلب مغفرت کا وعدہ بھی کرلیا۔)مفسر تھانویؒ نے یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ کسی کی زندگی میں اس کیلئے طلب مغفرت کرنے کے معنیٰ ہی یہ ہیں کہ اس کے حق میں طلب ہدایت کی جائے۔اور یہ جو حدیث بخاری میں آیا ہے کہ آخرت میں حضرت ابراہیمؑ آزر کو دوزخ میں دیکھ کر دعا کریں گے کہ مجھے حسب وعدہ رسوائی سے بچایاجائے ،اور اس پر آزر کی شکل انسان سے جانور میں تبدیل ہوجائے گی کہ کوئی پہچان ہی نہ سکے ،اس پر بہترین تقریر مفسر تھانویؒ کی بیان القرآن میں موجود ہے۔(تفسیرماجدی)
۔ متن میں اَوَّاہٌ اور حَلِیْمٌ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اَوَّاہٌ کے معنی ہیں بہت آہیں بھرنے والا، زاری کرنے والا، ڈرنے والا، حسرت کرنے والا۔ اور حلیم اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے مزاج پر قابو رکھتا ہو، نہ غصے اور دشمنی اور مخالفت میں آپے سے باہر ہو، نہ محبت اور دوستی اور تعلق خاطر میں حد اعتدال سے تجاوز کر جائے۔ یہ دونوں لفظ اس مقام پر دوہرے معنی دے رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کی کیونکہ وہ نہایت رقیق القلب آدمی تھے، اس خیال سے کانپ اٹھے تھے کہ میرا یہ باپ جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔ اور حلیم تھے، اس ظلم و ستم کے باوجود جو ان کے باپ نے اسلام سے ان کو روکنے کے لیے ان پر ڈھایا تھا ان کی زبان اس کے حق میں دعا ہی کے لیے کھلی۔ پھر انہوں نے یہ دیکھ کر کہ ان کا باپ خدا کا دشمن ہے اس سے تبرّیٰ کی، کیونکہ وہ خدا سے ڈرنے والے انسان تھے اور کسی کی محبت میں حد سے تجاوز کرنے والے نہ تھے۔ (تفہیم القرآن)
115۔ میرا ذہن بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ کے الفاظ سے بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ خدا نے تمہیں صراط مستقیم کی ہدایت دینے کے بعد اس راہ کے مسافر کو جن خطرات سے ہوشیار رہنا چاہیے، ان سے بھی آگاہ کردیا ہے۔ اب یہ تمہارا فرض ہے کہ تم ان خطرات سے بچو۔ اگر تم نہ بچے تو راہ پا کر اس سے بھٹکنے کی ذمہ داری خود تم پر ہوگی۔ ۔۔۔۔۔ جن کی حق دشمنی واضح ہوچکی ہے ان کے ساتھ کوئی ذہنی اور قلبی لگاؤ بسا اوقات آدمی کے لیے فتنہ بن جایا کرتا ہے۔ یہی لگاؤ بالتدریج ترقی کرتے کرتے بالآخر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اصول و عقائد نگاہوں کے سامنے سے اوجھل ہوجاتے ہیں اور خون و نسب کا تعلق تمام حقائق پر غالب آجاتا ہے۔ آج جو لوگ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے کے باوجود نحن ابناء الفراعنہ کا نعرہ لگاتے ہیں یا محمد بن قاسم کی بجائے راجہ داہر پر فخر کرتے ہیں وہ اسی فتنہ کا شکار ہوئے ہیں۔(تدبرِ قرآن)
۔ یہ ارشاد ایک قاعدہ کلیہ بیان کرتا ہے جس سے قرآن مجید کے وہ تمام مقامات اچھی طرح سمجھے جاسکتے ہیں جہاں ہدایت دینے اور گمراہ کرنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فعل بتایا ہے۔ خدا کا ہدایت دینا یہ ہے کہ وہ صحیح طریق، فکر و عمل اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے لوگوں کے سامنے واضح طور پر پیش کردیتا ہے، پھر جو لوگ اس طریقے پر خود چلنے کے لیے آمادہ نہ ہوں انہیں اس کی توفیق بخشتا ہے۔ اور خدا کا گمراہی میں ڈالنا یہ ہے کہ جو صحیح طریق فکر و عمل اس نے بتادیا ہے اگر اس کے خلاف چلنے ہی پر کوئی اصرار کرے اور سیدھا نہ چلنا چاہے تو خدا اس کو زبردستی راست بیں اور راست رو نہیں بناتا بلکہ جدھر وہ خود جانا چاہتا ہے اسی طرف اس کو جانے کی توفیق دے دیتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
117۔ذکر اب پھر غزوۂ تبوک کا چلا،جو اوپر بھی دورتک آچکاہے۔ تَابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ۔نبی پر توجہ بہ رحمت یہ کہ آپؐ کو نبوت سے اور امامت ِ جہاد سے اور تمام کمالات سے سرفراز فرمایا۔ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ۔ان انصار و مہاجرین پر توجہ بہ رحمت یہ کہ انہیں ایسے کلفت و مشقت کے جہاد میں ثابت قدم رکھا۔ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ۔اس غزوہ کی خصوصیات جن کی بناپر یہاں ساعۃ العسرۃ لایا گیا ہے ،(1)گرمی کا موسم،(2)باغات کی فصل تیار ہونے کا زمانہ، (3)مسافت دوردراز کا سفر،(4)مقابلہ میں عرب کے منتشر قبائل نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی تربیت یافتہ و قواعدداں رومی شہنشاہی فوج اور ہر طرح کے سامان جنگ سے آراستہ ،(5)سواری کی اتنی کمی کہ ایک ایک اونٹ دس دس آدمیوں کے حصہ میں آیا،(6)رسد کی اتنی کمی کہ ایک ایک خرما دو شخصوں میں تقسیم ہوا اور آخر میں اتنا بھی نہ رہ گیا۔ان مصائب کی تفصیل کتب حدیث و سیر کی کتابوں میں ملے گی،اور ان ہی اسباب سے تو اس کا نام بھی جیش العسرۃ اور غزوۃ العسرۃ چلا ہواہے۔۔۔ لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ۔آیت مدح صحابہ ؓکے باب میں بالکل شافی و وافی ہے،اور جن فرقوں نے اصحابِ نبیؐ پر زبان ِ طعن دراز کی ہے، ان کیلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ تاب، یتوب، توبہ کے معنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے ہیں لیکن جب اس کی نسبت اللہ کی طرف ہو اور صلہ علی ٰکے ساتھ آئے تو، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، یہ رحمت کے مضمون پر بھی متضمن ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا مفہوم کسی پر رحمت کی نظر کرنے کا ہوجاتا ہے جس کے لازم معنی بندے کی توبہ قبول کرنے کے بھی ہوئے۔۔۔۔اس سورة نے وقت کے پورے اسلامی معاشرہ کو چھاج میں پھٹک کر اس کو خس و خاشاک سے بالکل پاک صاف کردیا۔ اس تطہیر و تنقید کے بعد تمام عناصر فاسدہ چھٹ کر الگ ہوگئے۔ صرف وہ لوگ بچ رہے جو زرِ خالص کی حیثیت رکھتے تھے۔(تدبرِقرآن)
۔۔۔۔ یہ کل دس آدمی تھے جن میں سے سات آدمیوں نے تو رسول اللہ ﷺ کی واپسی کے بعد فوراً اپنی ندامت و توبہ کا اظہار اس شان سے کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ جب تک ہماری توبہ قبول نہ ہوگی بندھے رہیں گے ان کی آیت توبہ تو اسی وقت نازل ہوگئی جس کا بیان پہلے ہوچکا ہے، تین آدمی وہ تھے جنہوں نے یہ عمل نہیں کیا، ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو مقاطعہ کا حکم دے دیا کہ کوئی ان کے ساتھ سلام کلام نہ کرے۔ (معارف القرآن)
118۔سیدنا کعبؓ اور ان کے ساتھیوں کا قصہ: ۔۔۔۔سیدنا کعبؓ فرماتے ہیں کہ جن دنوں میرے ساتھ صحابہ کی گفتگو بند کی گئی تھی انہی دنوں میں شام کے عیسائیوں میں سے ایک شخص ملا اور اس نے شاہ غسان کا حریر میں لپٹا ہوا خط مجھے دیا ۔اس خط میں لکھا تھا کہ"ہم نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے تم پر تشدد کیا ہے۔تم ایسے حقیر آدمی نہیں جسے ضائع کیا جائے۔ اگر تم ہمارے پاس آجاؤتو ہم تمہاری پوری پوری قدرکریں گے۔"میں نے یہ خط پڑھ کرسمجھ لیا کہ یہ ایک اور آزمائش مجھ پر نازل ہوئی ہے چنانچہ میں نے اس خط کو فوراً چولہے میں جھونک دیا"۔۔۔۔جب چالیس دن اسی حالت میں گزر گئے تو ہم تینوں کو حکم ہواکہ ہم اپنی بیویوں سے بھی الگ رہیں۔ میں نے پوچھا" طلاق دے دوں؟"جواب ملا"نہیں بس الگ رہو"ہلال بن امیہ کی بیوی آپ ؐکے پاس گئی اور کہنے لگی کہ ہلال بن امیہ نہایت کمزور ہے اور وہ اکیلا نہیں رہ سکتا ۔آپؐ نے اسے اپنے خاوند کے پاس رہنے کی اجازت دے دی صحبت وغیرہ کی اجازت نہیں۔مگر میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ ۔اور انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ کردے۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
۔ اور جن کا ذکر آیت نمبر 106 میں گزرچکا ہے۔احادیث میں ان تین صحابیوں کے نام حسب ذیل ملتے ہیں، کعب بن مالکؓ، مرارۃ بن ربیعۃ العامریؓ اور بلال بن امیہ الواقفیؓ۔۔۔اور پھر یہ خیال رہے کہ یہ مصیبت کوئی ایک دو دن کی نہ تھی ،سات سات ہفتے یا پورے 50 دن قائم رہی۔ان تین صحابیوں میں دو بدری تھے(اور اصحاب بدر کا شرف کسی تعارف کا محتاج نہیں)اور تیسرے صاحب بھی بجز بدر کے اور غزوات میں برابر شریک رہ چکے تھے ،سزا کیسے کیسے اکابر کو ملی اور خود ان ابرار و اکابر نے اسے کس طرح خوشی خوشی انگیز کیا ۔یہ معنیٰ ہیں نظامِ حکومت ِ الٰہی میں ڈسپلن یا اطاعت کے!۔یہیں سے فقہاء نے استنباط کیا ہے کہ دینی مجرم سے ترک سلام و کلا م بالکل درست ہے۔اور یہ جو حدیث میں آیاہے کہ ترک کلام تین دن سے زیادہ نہ کرے تو اس سے وہ موقع مراد ہے جب کوئی دنیوی رنج ہو۔(تھانویؒ)(تفسیر ماجدی)
۔(یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان تین اصحاب کا معاملہ ان سات اصحاب سے مختلف ہے جن کا ذکر 99 میں گزر چکا ہے۔ انہوں نے باز پرس سے پہلے ہی خود اپنے آپ کو سزا دے لی تھی)۔ (تفہیم القرآن)
۔ تین اصحاب کا مفصل بیان ( تفہیم القرآن ۔صفحہ 245 تا صفحہ 249) مطالعہ کے لیے۔
پندرہواں رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿119﴾ مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ ﴿120﴾ وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿121﴾ وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿122ع التوبة 9﴾ |
| 119. اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو۔ 120. اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ 121. اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے۔ 122. اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا (علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے۔ |
تفسیر آیات
119۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ اجماعِ امت کے حجتِ شرعی ہونے پر یہ آیت ایک مستقل دلیل ہے ۔۔۔اس صورت میں صحبتِ صالحین کی ترغیب آیت سے نکلے گی۔(تفسیر ماجدی)
120۔ رسول اللہؐ کو اپنی جان سے عزیز سمجھنے سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے:۔یعنی رسول اللہؐ تو سفر تبوک کی صعوبتیں برداشت کریں اور مسلمان ان کے بعد اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہیں ۔اور اللہ کے رسول کی جان سے اپنی جانوں کو عزیز ترسمجھیں ۔ایک صحابی ابو خیثمہ ؓ بھی غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔وہ اپنے باغ میں گئے وہاں ٹھنڈا سایہ تھا۔آپ کی بیوی نے پانی چھڑک کر زمین کو خوب ٹھنڈا کیا ۔چٹائی کا فرش کیا۔تازہ کھجور کے خوشے سامنے رکھے اور ٹھنڈا میٹھا پانی بھی حاضر کیا ۔یہ سامان عیش دیکھ کر دفعتاً ابوخیثمہؓ کے دل میں ایک بجلی کی سی لہر دوڑگئی ۔بولے تف ہے اس زندگی پر کہ میں تو خوشگوار سائے، ٹھنڈے پانی اور باغ و بہار کے مزے لوٹوں اور اللہ کا رسول ایسی سخت لو اور تپش اور تشنگی کے عالم میں سفر کررہے ہوں ۔یہ خیال آتے ہی سواری منگائی اور تلوار حمائل کی، نیزہ سنبھالا اور فوراً چل کھڑے ہوئے ۔اونٹنی تیزہوا کی طرح چل رہی تھی۔آخر لشکر کے پاس پہنچ گئے ۔آپؐ نے دورسے دیکھا کہ کوئی شتر سوار ہواکے دوش پر سوار گرداڑاتاچلا آرہاہے اور فرمایا اللہ کرے یہ ابوخیثمہؓ ہو۔تھوڑی دیر میں دیکھ لیا کہ وہ ابوخیثمہؓ ہی تھے۔اور رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ جب تک کوئی مومن مجھے اپنی جان سے بھی عزیز نہ سمجھے اس وقت تک اس کا ایمان مکمل نہیں ہوتاجیساکہ درج ذیل حدیث میں آیاہے۔عبداللہ بن ہشام فرماتے ہیں کہ ہم آپؐ کے ساتھ تھے اور آپؐ سیدنا عمرؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ۔سیدنا عمرؓ کہنے لگے:یارسول اللہ ! آپؐ میرے نزدیک اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے محبوب ہیں " آپؐ نے فرمایا "نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ عزیز (محبوب)نہ ہوجاؤں تم مومن نہیں ہوسکتے۔"سیدنا عمرؓ نے عرض کیا "اللہ کی قسم! اب آپ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔"آپؐ نے فرمایا"ہاں عمرؓ ! (یعنی اب تم صحیح مسلمان ہو)(بخاری۔کتاب الایمان و النذور۔باب کیف کانت یمین النبیﷺ)۔(تیسیر القرآن)
122۔ اس آیت کا منشا سمجھنے کے لیے اسی سورة کی آیت 97 پیش نظر رکھنی چاہیے جس میں فرمایا گیا کہ ”بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کی حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے“۔۔۔ وہاں صرف اتنی بات بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا تھا کہ دارالاسلام کی دیہاتی آبادی کا بیشتر حصہ مرض نفاق میں اس وجہ سے مبتلا ہے کہ یہ سارے کے سارے لوگ جہالت میں پڑے ہوئے ہیں، علم کے مرکز سے وابستہ نہ ہونے اور اہل علم کی صحبت میسر نہ آنے کی وجہ سے اللہ کے دین کی حدود ان کو معلوم نہیں ہیں۔ اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ دیہاتی آبادیوں کو اس حالت میں پڑا نہ رہنے دیا جائے بلکہ ان کی جہالت کو دور کرنے اور ان کے اندر شعور اسلامی پیدا کرنے کا اب باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے۔ اس غرض کے لیے یہ کچھ ضروری نہیں کہ تمام دیہاتی عرب اپنے اپنے گھروں سے نکل نکل کر مدینے آجائیں اور یہاں علم حاصل کریں۔ اس کے بجائے ہونا یہ چاہیے کہ ہر دیہاتی علاقے اور ہر بستی اور قبیلے سے چند آدمی نکل کر علم کے مرکزوں، مثلا مدینے اور مکہ اور ایسے ہی دوسرے مقامات میں آئیں اور یہاں دین کی سمجھ پیدا کریں، پھر اپنی اپنی بستیوں میں واپس جائیں اور عامۃ الناس کے اندر بیداری پھیلانے کی کوشش کریں۔ مقصد تعلیم (تفقہ فی الدین اور انذار)۔(تفہیم القرآن)
ــــ اجمالی نصاب۔علم ِ دین :۔ قرآن نے اس جگہ تعلم کا لفظ چھوڑ کر تفقہ کا لفظ اختیار فرماکر اس طرف اشارہ کردیا کہ علم دین کا محض پڑھ لینا کافی نہیں ۔۔۔بلکہ علم دین سے مراد دین کی سمجھ پیدا کرنا ہے۔"لِیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ"دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں پوری محنت و مشقت اٹھاکرمہارت حاصل کریں۔۔۔اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہؒ نے فقہ کی تعریف یہ کی ہے کہ انسان ان تمام کاموں کو سمجھ لے جن کا کرنا اس کیلئے ضروری ہے،اور ان تمام کاموں کو بھی سمجھ لے جن سے بچنا اس کیلئے ضروری ہے۔(معارف القرآن)
ـــ آیت میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے تفقہ فی الدین، کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دین میں فہم و بصیرت حاصل کرنا اور تعلیم دینے کے لیے انذار کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ڈرانے، ہوشیار کرنے اور خاص طور پر آخرت کی زندگی کی تیاریوں کے لیے بیدار کرنے کے ہیں۔ یہ دونوں لفظ اسلام میں تعلیم کو جو اصل مقصد ہے، اس کے لحاظ سے استعمال ہوئے ہیں۔ اسلام میں تعلیم و تعلم کا اصل مقصد دین میں بصیرت حاصل کرنا اور آخرت کی فلاح کے لیے اپنی اور دوسروں کی تربیت کرنا ہے۔ باقی چیزیں سب ثانوی حیثیت رکھتی ہیں اور اسی نصب العین کے تابع ہیں۔(تدبر قرآن)
۔ان آیات کے درمیان جن میں جہاد کی ترغیب اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کی مذمت کی جارہی ہے ۔(ضیاء القرآن)
ــــ غزوۂ تبوک کی صور ت خاص تھی، اس کے بعد آئندہ کیلئے مستقل ہدایت ہوگئی کہ سارے مسلمان شہر خالی کرکے ہرگز اکبارگی نہ نکل کھڑے ہوں ،بجز اس حال کے کہ امام ہی نفیر عام کا حکم دے دے،اور جہاد ہر فرد پر فرض عین ہوجائے۔ مرشد تھانویؒ نے فرمایاکہ دینی فہم کا انتظام ایسا کرنا چاہئیے کہ دوسری ضروریات جن میں امر معاش بھی داخل ہے، مختل نہ ہونے پائے۔(تفسیر ماجدی)
سولہواں رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ﴿123﴾ وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ﴿124﴾ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ ﴿125﴾ اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ ﴿126﴾ وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ ﴿127﴾ لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴿128﴾ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ ۧ ۧ ﴿129ع التوبة 9﴾ |
| 123. اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔ 124. اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزاء کرتے اور) پوچھتے کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان تو زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں۔ 125. اور جن کے دلوں میں مرض ہے، ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر۔ 126. کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔ 127. اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگتے ہیں (اور پوچھتے ہیں کہ) بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر پھر جاتے ہیں۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ 128. (لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں۔ 129. پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ |
تفسیر آیات
123۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے جو مطلب نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ دارالاسلام کے جس حصے سے دشمنان اسلام کا جو علاقہ متصل ہو، اس کے خلاف جنگ کرنے کی اولین ذمہ داری اسی حصے کے مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن اگر آگے کے سلسلہ کلام کے ساتھ ملا کر اس آیت کو پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کفار سے مراد وہ منافق لوگ ہیں جن کا انکار حق پوری طرح نمایاں ہوچکا تھا، اور جن کے اسلامی سوسائٹی میں خلط ملط رہنے سے سخت نقصانات پہنچ رہے تھے۔ رکوع 10 کی ابتداء میں بھی جہاں سے اس سلسلہ تقریر کا آغاز ہوا تھا، پہلی بات یہی کہی گئی تھی کہ اب ان آستین کے سانپوں کا استیصال کرنے کے لیے باقاعدہ جہاد شروع کردیا جائے۔ وہی بات اب تقریر کے اختتام پر تاکید کے لیے پھر دہرائی گئی ہے تاکہ مسلمان اس کی اہمیت کو محسوس کریں اور ان منافقوں کے معاملہ میں ان نسلی و نسبی اور معاشرتی تعلقات کا لحاظ نہ کریں جو ان کے اور ان کے درمیان وابستگی کے موجب بنے ہوئے تھے۔ وہاں ان کے خلاف ”جہاد“ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں اس سے شدید تر لفظ ”قتال“ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ ان کا پوری طرح قلع قمع کردیا جائے، کوئی کسر ان کی سرکوبی میں اٹھا نہ رکھی جائے۔ وہاں ”کفار“ اور ”منافق“ دو الگ لفظ بولے گئے تھے، یہاں ایک ہی لفظ ”کفار“ پر اکتفا کیا گیا ہے، تاکہ ان لوگوں کا انکار حق، جو صریح طور پر ثابت ہوچکا تھا، ان کے ظاہری اقرار ایمان کے پردے میں چھپ کر کسی رعایت کا مستحق نہ سمجھ لیا جائے۔۔۔۔۔۔ اس تنبیہہ کے دو مطلب ہیں اور دونوں یکساں طور پر مراد بھی ہیں۔ ایک یہ کہ ان منکرین حق کے معاملے میں اگر تم نے اپنے شخصی اور خاندانی اور معاشی تعلقات کا لحاظ کیا تو یہ حرکت تقویٰ کے خلاف ہوگی، کیونکہ متقی ہونا اور خدا کے دشمنوں سے لاگ لگائے رکھنا دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، لہٰذا خدا کی مدد اپنے شامل حال رکھنا چاہتے ہو تو اس لاگ لپٹ سے پاک رہو۔ دوسرے یہ کہ یہ سختی اور جنگ کا جو حکم دیا جا رہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے ساتھ سختی کرنے میں اخلاق و انسانیت کی بھی ساری حدیں توڑ ڈالی جائیں۔ حدود اللہ کی نگہداشت تو بہرحال تمہاری ہر کارروائی میں ملحوظ رہنی ہی چاہیے۔ اس کو اگر تم نے چھوڑ دیا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے۔ (تفہیم القرآن)
124-127۔ کٹر منافقین کا طرز عمل : وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْھُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ اَيُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖٓ اِيْمَانًا ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ
۔ یہ ان منافقین کی طرف اشارہ ہے جو اس سورة کی تمام تنبیہات و تحذیرات کے بعد بھی بدستور نہ صرف اپنے نفاق میں مبتلا رہے بلکہ درجہ بدرجہ ان کا نفاق سخت سے سخت تر ہی ہوتا چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی تنبیہ بھی ان کو توبہ کے لیے بیدار نہ کرسکی یہاں تک کہ اسی حالت میں ان کو موت آئی۔ (تدبرِ قرآن)
128، 129۔ یہ دونوں آیات قرآن کی عظیم الشان آیتوں میں سے ہیں ۔(بیان القرآن)
128۔ خلق کےلئے نبی کے جذبات ۔ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ۔ جس طرح ایک شفیق باپ اپنی اولاد کے لئے ہر چیز کا متمنی اور حریص ہوتاہے اس سے کبھی اس کا دل نہیں بھرتا۔(تدبرقرآن)
۔ لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ۔سوال پیدا ہواہے کہ کم کی ضمیر جمع مخاطب دونوں جگہ کس کی جانب ہے؟ یعنی رسول اللہؐ کس کے درمیان آئے ہیں؟ بعض نے کہا ہے کہ مخاطب عرب ہیں کہ آپ اہل عرب کے درمیان بھیجے گئےتھے، لیکن قول تحقیقی یہ ہے کہ خطاب ساری نوع انسان سے ہے، آپؐ کی بعثت عمومی تنہاعرب کی جانب نہیں ،سارے عالم کیلئے تھی ،گو بعثت ِ خصوصی عرب کیلئے ہو۔۔۔۔آیت بڑی ہی سبق آموز و مؤثر صفات باری تعالیٰ کے سلسلہ میں ہے،رسول تو افضل البشر و اکمل البشر تھے،لیکن بہر حال تھے بشر ہی،جب وہ انسان کی فلاح و اصلاح کے اس درجہ "حریص"اور مومنین کے حق میں "رؤف رحیم"تھے،تو جس نے انہیں خلق کیا اور مبعوث کیا وہ ذات خود کس درجہ عزیز علی الخلق ہوگی اور رافت و رحمت کا جو درجہ مومنین کے ساتھ رکھتی ہے اس کا کیا ٹھکاناہے؟کوئی اس کا اندازہ بھی لگا سکتاہے؟(تفسیر ماجدی)
129۔ جوشخص صبح و شام سات مرتبہ حَسْبِیَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ پڑھا کرے ،خدا اس کے تمام غموں اور فکروں کے لئے کافی ہوجائیگا۔(ابوداؤد) (تفسیر عثمانی)
۔ یہ سورت جلال و عتاب کے ساتھ مخصوص سمجھی جاتی ہے، اس کا بھی خاتمہ کیسی جمال و رافت کی آمیزش پر ہواہے۔(تفسیر ماجدی)